پولس کی بربریت سے ایک خاتون کی موت
 
تحریر : کرشن موہن ، ضلعی سکریٹری سی پی آئی ایم ایل ،مظفرپور
ترجمہ : اسلم رحمانی ، ریاستی ترجمان انصاف منچ بہار
 
۱۲؍ اگست کو صبح ۹؍ بجے عید الاضحی ( بقرعید ) کے دن مظفر پور ضلع ہیڈ کواٹر سے چار پانچ کیلو میٹر مغرب کی جانب کانٹی بلال کے تحت دامودر پور بازار کے آگے عید گاہ چوک پر مسلم سماج کے لوگ جمع ہوئے تھے اسی درمیان آخری سومواری پر’’ بول بم‘‘ والوںکاایک جتھہ وہاں ڈی جے کے ساتھ پہنچ کر مذہبی نعرہ لگانے لگا ۔ وہاں پر موجود مسلم سماج کے لوگ اور پولس اہلکار نے بھی اس چوک پر ڈی جے بجا نے اور مذہبی نعرہ لگانے پر منع کیا لیکن ’’ بول بم ‘‘ کا جتھہ ماننے اور وہاں سے جانے کے بدلے اڑے رہے اور نوک جھونک کر نے لگے ۔ پولس اور کچھ مقامی لوگوںنے ڈی جے کو دھکادیکر آگے کرنے کے کوشش کی لیکن بول بم والوں کا جتھہ اور مشتعل ہوتا چلاگیا ۔ پولس بھی انہیں سمجھانے اور ہٹانے میں لگی رہے لیکن معاملہ بڑھتا چلا گیا وہاں سے متصل چک مرمر اور شو بھنکر پور گائوں سے بھی لوگ آکر بول بم والوں کے ساتھ پولس اور عیدگاہ چوک پر کھڑے لوگوں پر پتھر بازی کرنے لگے تب تک شہر سے اور پولس و اعلیٰ افسران جائے حادثہ پر پہنچ کر معاملے کو ٹھنڈا کرانے کی کوشش کرتے رہے لیکن سیکڑوں کی تعداد میں جمع بول بم کے حما یتی زوردار پتھر بازی کرتے رہے جس میں کئی پولس اہلکار بھی زخمی ہوگئے پولس والے بھی دنگا بھڑکا رہے عناصر پر پتھر بازی کرتے ہوئے لاٹھی چارج کرتے ہوئے بھگانا شروع کردیا ۔ بڑی تعداد میں پولس اور ڈی ایم ۔ ایس پی ۔ ڈی آئی جی ۔

اور کمشنر کے پہنچنے پر بلوایوں کو بھگایا جاسکا ۔ اس درمیان پانچ بلوایوں کو پولس نے گرفتار کر لیا لیکن اسی درمیان کانٹی اسمبلی حلقہ کے سابق اسمبلی ممبر و نتیش سرکار کے سابق وزیر اجیت کمار (جو پارلیامانی انتخاب کے قبل’’ ہم‘‘ پارٹی میں تھے لیکن انتخاب کے درمیان ہی’’ ہم ‘‘ پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا ) نے پولس انتظامیہ پر تعصب کرنے اور بول بم والوں پر زیادتی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے لوگوں کو بھڑکانے میں لگے رہے ۔یہ بھی تذکرہ ہے کہ اجیت کمار نے اپنی سیاسی فائدے کے لئے قبل سے ہی پورے معاملے کو بھڑکانے میں لگے تھے ۔ بہر حال پولس انتظامیہ نے دونوں فریق کے سماجی رہنمائوں اور مقامی لیڈران کو بیٹھا کر امن قائم رکھنے کی اپیل کی اور اس حلقہ میں دفعہ ۱۴۴؍ نافذ کر بڑی تعداد میں پولس اہلکار اتار دیا ۔ پولس نے دونوں فریق کے ۴۱لوگوں پر نامزد و پانچ سو نامعلوم افراد پر مقدمہ درج کی ۔کل ہو کر ۱۳؍ اگست کو اس حلقہ میں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا اور چوک چوراہوں کی دکانیں بھی کھلیں لیکن وِشو ہندو پریشد کے درجنوں لوگوںنے جائے حادثہ سے کافی دور بیریا بس اسٹینڈ گولمبر کو جام کر پولس پر تفریق کرنے کا الزمام عائد کرتے ہوئے بول بم کے لوگوں سے زیادتی اور ان کے ڈی جے توڑنے کے لئے ذمہ دار مسلمانوں پر کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ پولس انتظامیہ کے بھروسہ دلانے کے بعد جام ختم ہوا اور ۱۳؍ اگست کی شب میں ہی پولس نے دامودر پور بازار واقع مسلم سماج کے گھروں میں جبراً داخل ہو کر گالی گلوج اور مارپیٹ کرتے ہوئے اور وہاں کے لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ جئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے ۱۱؍ مسلم لوگوں کو گرفتار کر لیا اور ایک گھر کا دروازہ توڑ کر د و بھائیوں کو گرفتار کرنے پر ان کی والدہ کی جانب سے مخالفت کرنے پر ان سے مار پیٹ کی گئی اور دھکا دینے کی وجہ سے وہ بری طرح زخمی ہو گئیں اور کل ہو کر اسپتال میں ان کی موت ہو گئی لیکن دامودر پور بازار کے مسلم سماج کا کہنا ہے کہ جہاں اس دن فرقہ وارانہ ہنگامہ ہوا اس میں دامودر پور بازار واقع مسلم سماج کے لوگ موجود نہیں تھے یہ بازار پر واقع مسجد میں ہی عید کی نماز ادا کئے تھے اور یہاں مسلم سماج کی اچھی خاصی آبادی ہے اور ہندو وادی تنظیم فرقہ وارانہ ماحول بنانے اور ان کو پھنسانے میں لگے رہتے ہیں ۔
 
سال بھر قبل بھی فرقہ وارنہ کشیدگی پھیلانے کی سازش کی گئی تھی اس رات دامودر پور سے آگے کے چک مرمر شو بھنکر پور گائو ںسے چھ مسلموں اور چھ ہندوں جو دلت ہیں کو گرفتار کر جیل بھیج دیا ۔ دامودر پور بازار محلے میں گرفتاری اور اس درمیان ایک خاتون کی موت سے مشتعل مسلم سماج کے لوگوں نے دامودر پور سڑ ک کو جام کر دیا اس کے بعد ایس ڈی او ۔ پولس انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے بات چیت کی جن کی ماں کا انتقال ہوا تھا ان کے گرفتار دونوں بیٹوں کو چھوڑ دیا لیکن ابھی بھی حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں ۔ ۱۳؍ اور ۱۴؍ اگست کو دو نوں دن سی پی آئی ایم ایل مظفرپو ر ٹائون سکریٹری و انصاف منچ کے ریاستی صد ر سورج کمار سنگھ، انصاف منچ کے ریاستی نائب صدر آفتاب عالم ، ریاستی ترجمان اسلم رحمانی ، ریاستی نائب صدر ظفر اعظم ، ریاض خان اور آئیسا کے وکیش کمار ، دیپک کمار ، اجئے کمار کی ٹیم دامودر پور پہنچ کر لوگوں سے ملاقات کی اورپولس انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے بات کی اس درمیان دامودر پور پہنچے انتظامیہ کے افسران سے تلخی اور نوک جھونک بھی ہوئی ۔ سی پی آئی ایم ایل اور انصاف منچ کے لیڈران نے کہا کہ بقرعید کے دن دامودر پور بازار کے آگے واقع عید گاہ چوک پر فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کے لئے کانٹی کے سابق اسمبلی ممبر اور نتیش سرکار کے سابق وزیر اجیت کمار ذمہ دار ہے ۔
 
 
پولس اجیت کمار پر معاملہ کو بھڑکانے اور فرقہ وارانہ ماحول بنانے کا مقدمہ درج کر گرفتار کرے ۔ سابق وزیر اجیت کمار بی جے پی اور وشوو ہندو پریشد کے دبائو میں پولس نے دامودر پور بازار واقع مسلم سماج کے بے گناہ مسلم لوگوں پر مقدمہ درج کیا ہے اور نصف شب میں جبراً گھر میں داخل ہو کر گرفتاری کی ہے جس میں ایک ضعیفہ خاتون کی موت ہو گئی اس کے لئے ذمہ دار پولس اہلکاروں پر مقدمہ درج کیا جائے اور گرفتار بے گناہ لوگوں کو رہا کیا جائے ۔ ساتھ ہی آئندہ بے گناہ لوگوں پر کسی طری کی پولس کاروائی پر روک لگائی جائے ۔ نتیش سرکار فرقہ وارانہ ماحول بنانے والے ہندو وادی تنظیموں و لیڈوں پر سخت کاروائی کرے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here