ایک نئی خود مختار مملکت جنوبی سوڈان

Share Article

وسیم احمد
آزادی قربانی مانگتی ہے۔قربانی جان و مال کی،جذبات و احساسات کی اور جاہ و نسل کی۔یہ اس بات پر موقوف ہوتی ہے کہ آزادی کتنی بڑی ہے۔جتنی بڑی آزادی ہوتی ہے قربانی اتنی ہی بڑی دینی پڑتی ہے۔بسا اوقات آزادی کے نام پر کئی نسلیں قربان ہوجاتی ہیں تب جاکر آزادی کی لذت سے لطف اندوز ہونے کا حسین موقع ملتا ہے۔دنیا میں کئی ایسے ملک ہیں جہاں آزادی کے لیے بے شمار جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑاہے تب جاکر وہاں کے لوگوں کو آزادی کا خوبصورت احساس میسر ہوا ہے۔ابھی حال ہی میں جس ملک نے ایک آزاد ملک کی حیثیت سے خود کو متعارف کرایا ہے وہ جنوبی سوڈان ہے، جس نے سوڈان سے الگ ہوکر ایک مستقل ملک کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں اپنا نام درج کرایا ہے۔لیکن اس اندراج کے لیے اسے تقریباً 15 لاکھ انسانوں کے سر کی قیمت چکانی پڑی ہے۔ اس نو مولود خود مختار ملک نے اپنی آزادی کے لیے تحریک کا سفر 1955 میں شروع کیا تھا جس نے1983 میں ایک خونی تحریک کی شکل اختیار کر لی تھی۔ آج اسی تحریک کا نتیجہ ہے کہ جنوبی سوڈان کے لوگ آزاد فضا میں کھلی سانس لے رہے ہیں۔
سوڈان جو افریقہ کا سب سے بڑا اور دنیا کا دسواں سب سے بڑا ملک شمار ہوتا تھا، کے دو بڑے حصے  –  شمالی سوڈان اور جنوبی سوڈا ن کی تہذیب و تمدن ایک دوسرے سے یکسرجدا ہیں۔ دونوں کے مذہبی عقائد بھی الگ ہیں۔شمالی سوڈان میں مسلم اکثریت آبادہے جبکہ جنوبی سوڈان میں افریقی نسل اور عیسائی مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے۔قدرت نے جنوبی سوڈان کو تیل اورمعدنیات سے مالا مال کررکھا ہے ۔اس زمین سے نکلنے والے تیل کو دنیا کے بہترین تیلوں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن ذرائع کی کمی کے سبب وہ ان وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے ہیں جس کا اثر یہ ہے کہ وہ لوگ مفلسی اور پسماندگی کے شکار ہیں۔پسماندگی سے نجات حاصل کرنے کے لیے جنوبی سوڈان کے عوام ایک خود مختار مملکت بنائے جانے کا مطالبہ 1955 سے کرتے چلے آرہے تھے، مگر اس میں شدت 8ویں دہائی کے آخر میں آئی،اس وقت وہاں کی باگ ڈور عمر البشیر کے ہاتھوں میں تھی جنہوں  نے 1988 میں اس وقت کے سول حکومت کے سربراہ صادق المہدی کا تختہ پلٹ کر خود اقتدار پر قبضہ کرلیا۔بشیر ایک دور اندیش اور افریقہ کے مضبوط لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ افریقہ کا سب سے بڑا جمہوری ملک سوڈان کو دو حصوں میں تقسیم ہونے سے بچانا چاہتے تھے، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ تقسیم سے خطے کی پسماندگی میں مزید اضافہ ہوگا،اس لیے انہوں نے اس مطالبے کی سخت مخالفت کی،مگر جو لوگ علاحدہ خود مختار مملکت کے حامی تھے انہیں امریکہ کی پشت پناہی حاصل تھی۔انہیں جنوبی سوڈان کا سنہری خواب اس طرح دکھا دیا گیا تھا کہ وہ ایک خود مختار مملکت سے کم کسی بھی قیمت پرراضی نہیں تھے،نتیجتاً ان کی سورش بڑھتی چلی گئی۔در اصل، سوڈان 1956 میں برطانیہ اور مصر کے مشترکہ تسلط سے آزاد ہوا تھا۔ برطانیہ کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ جہاں سے بھی گیا ،وہاں کے عوام میں مذہبی، لسانی، تہذیبی اور عقائدی منافرت پھیلا کر گیا۔ یہی طریقہ کار برطانیہ نے ہندوستان سے جانے کے وقت اپنایا تھا اور یہی پالیسی اس نے سوڈان کو آزاد کرنے کے وقت اختیار کی۔سوڈان کو دو حصوں میں بانٹنے کا بیج بو کر گیا۔اس نے جنوبی سوڈان میں عیسائیوں کو، شمالی سوڈان کے مسلمانوں کے خلاف بھڑ کا کر 1972 میں خانہ جنگی اور بغاوت کراکر سوڈان کو غیر مستحکم کیا۔1980 کی دہائی میں جنوب میں دوبارہ خانہ جنگی کی آگ پھوٹ پڑی لیکن غیر نمائندہ فوجی حکومت بغاوت پر قابو پانے میں ناکام رہی۔1989 میں عمر بشیر کی فوجی حکومت نے متعدد بار جنوب کے باغیوں کو معافی اور امن کی پیشکش کی اور خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے، لیکن چونکہ انہیں امریکی پشت پناہی حاصل تھی لہٰذا بشیر کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔در اصل اس پشت پناہی کے پس پردہ امریکہ کے دو بڑے اہداف تھے۔اول یہ کہ امریکہ کی نظریںسوڈان کے قدرتی اور معدنی ذخائر تیل، گیس اور سونا چاندی ، سلیکان ، کاپر اور جپسم جیسی معدنیات پر تھیں۔وہ ان ذخائر کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا،لیکن 1991 میں سوڈان نے چین کے تعاون سے اپنے قدرتی وسائل کو ترقی دے کر ملک میں ترقی اور خوشحالی کے نئے امکانات پیدا کردیے۔ چین کے ساتھ سوڈان کا معاہدہ امریکہ کے اسٹرٹیجک مفادات کے خلاف تھا، لہٰذا اس کے لیے ضروری ہوگیاتھا کہ وہ سوڈان میں اپنے قدم جمائے تاکہ وہاں سے پورے افریقہ میں اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے اور دیگر ممالک، خاص طور پر چین کے اثرو رسوخ کو سوڈان میں ختم کرسکے۔ ادھر 1995 میں حسنی مبارک پر قاتلانہ حملے کا ذمہ دار امریکہ نے سوڈان کوٹھہرا یا، جس کی وجہ سے مصر کے ساتھ سوڈان کے تعلقات خراب ہوگئے، جس کا اثر سوڈان کی سیاست پر بہت گہرا پڑا۔ غرض امریکہ نے مسلسل سوڈان کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھی اور جنوبی سوڈان کے عیسائیوں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرتا رہا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بشیر کی کوششوں کے باوجودجنوبی سوڈان حامیوں کے مطالبے میں شدت بڑھتی گئی، یہاں تک کہ شمالی اور جنوبی سوڈان کے درمیان خانہ جنگی نے سنگین صورت حال اختیار کرلی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ ملک جو پہلے سے ہی پسماندگی کا شکار تھا، اس کی معیشت پر منفی اثر پڑنے لگا ۔اب جنرل بشیر کے لیے ملک میں امن برقرار رکھنے کے لیے مصالحت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا، لہٰذا انہوں نے سال 2002 میں کینیا کی راجدھانی نیروبی میں جان گونگ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا۔ اس میں ثالث کا کردار امریکہ کے سابق صدر جیمی کارٹر نے ادا کیا۔ بہر حال تین برس کے بعد جنوری 2005 میں جان گورنگ اور حکومت سوڈان کے درمیان ایک تاریخ ساز معاہدہ ہوا جس کی رو سے جنوبی سوڈان کے باغیوں اور سوڈان کے فوج نے اپنی کاروائی بند کردی ۔اس معاہدے کا اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ 6 برس بعد ایک ریفرنڈم کرایا جائے،جس کی رو سے اہل جنوبی سوڈان کو یہ طے کرنا تھا کہ وہ آزادی چاہتے ہیں یا ملک کو متحد رکھنا چاہتے ہیں۔چھ سال بعد 2011 میں ریفرنڈم ہوا جس میں 98 فیصد لوگوں نے جنوبی سوڈان کو الگ کرنے کے حق میں ووٹ ڈالا۔ اس طرح 9 جولائی کو جنوبی سوڈان عالمی نقشے پرایک خود مختار ملک کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آگیا۔
اب جب کہ جنوبی سوڈان عالمی نقشے پر ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آچکا ہے تو اس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہے پسماندگی کو دور کرنا۔اس کے پاس قدرتی دولت کی بہتات ہے، لیکن وہ ان کو استعمال نہیں کرسکتا، کیوں کہ اس کے پاس استعمال کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔نہ تو جنوبی سوڈان میں تیل ریفائنری کے لیے سہولت ہے اور نہ ہی ان تیلوں کو بر آمدات کے لیے پائپ لائنیں ہیںاور نہ ہی وہاں کوئی بندرگاہ ہے۔یہ سب کے سب شمالی سوڈان کے تحت ہیں، جن کو استعمال کرنے کے لیے جنوبی سوڈان کو اپنے قدرتی ذخائر کے منافع کا نصف حصہ معاہدے کے مطابق شمالی سوڈان کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ جنوبی سوڈان گرچہ اپنے مجموعی منافع کا نصف حصہ شمالی سوڈان کو ادا کر رہا ہے لیکن وہ اس بات کو شدت سے محسوس کررہا ہے کہ اس کے سرمائے کا بڑا حصہ شمالی سوڈان کو جارہا ہے اس لیے اب سلوا کیر مایارڈیٹ (صدر مملکت) کی حکومت کسی ایسی راہ کی تلاش میں ہے جو منافع کے بیشتر حصے کو شمالی سوڈان جانے سے روک سکے۔ حالانکہ فی الوقت ایسا کرنا ان کے لیے مشکل ہوگا ،کیوںکہ اگر انہوں نے شمالی سوڈان کے حصص کو روک دیا تو ایسی صورت میں شمالی سوڈان نہ صرف اپنے وسائل کے استعمال کو روک دے گا بلکہ سرحدی علاقے میں تشدد پھوٹ پڑنے کے بھی امکانات پیدا ہوجائیں گے۔ اس سلسلے میں عمر بشیر نے بھی جنوبی سوڈان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’اگر جنوبی سوڈان معاہدے کے مطابق منافع کے حصص شمالی سوڈان کو دینے سے منع کرتا ہے تو ایسی صورت میں سرحدی علاقوں میں جنگ کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے‘‘۔ عمر بشیر کے اس انتباہ کے بعد عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے اور یہ خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ اگر واقعی جنگ کا ماحول بنتا ہے تو ایسی صورت میں عالمی بازار میں تیل کی قلت ہوسکتی ہے وہ بھی ایسے موقع پر جب ناٹو کی فوج لیبیا کے خلاف کاروائیوں میں لگی ہے اور اسے بڑی مقدار میں تیل کی ضرورت ہے۔
بہر کیف،جنوبی سوڈان آزاد ہوچکا ہے،ایک خود مختار مملکت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ 619,745km2 کیلو میٹر میں آباد8,260,490 افراد پر مشتمل  اس جدید ملک کی راجدھانی جوبا میں آزادی کے جشن منائے جارہے ہیں۔لیکن یہ جشن اس وقت ہی قابل ستائش ہوگا جب وہاں کی حکومت معیشتی بحران کے خاتمے،امن کی بحالی،روزگار اور تعلیم کے مواقع کی فراہمی میں کامیاب ہوتی ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتی ہے، وہاں کے بچوں میں غذائی کمی کی وجہ سے اموات کی شرح میں کمی نہیں لائی جاتی ہے تو اس آزادی کا کوئی مطلب نہیں ہوگا، کیوں کہ اس وقت جنوبی سوڈان کے سامنے سب سے اہم مسئلہ ہے پسماندگی کو دور کرنا۔ وہاں تعلیم کا اوسط نہ کے برابر ہے، اس لیے تعلیم کے مواقع فراہم کرنا، وہاں ہر سات میں سے ایک بچے کی موت مناسب غذا نہ ملنے کے سبب ہوجاتی ہے، ان کے لیے مناسب غذا کی فراہمی۔یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب وہ اپنے قدرتی وسائل کا استعمال صحیح طریقے پر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ وسائل ان کے مگر فائدہ کوئی اور لے جائے اور آزادی کے لیے دی گئی ان کی قربانیوں کا جو مقصد تھا وہ حاصل نہ ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *