معمار قوم سر سید احمد خان کے 202ویں یوم پیدائش کی تقریب‘ نواب محمد کاظم علی خان کا خطاب
سر سید احمد خان کو بجا طور پر ہندوستان کے مسلمانوں کی علمی‘ سائنسی اور فکری ترقی کا علمبردار قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے پہی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا مشاہدہ کیا اور اس کے اثر سے مسلمانوں کو نکالنے کے لئے ایک ایسی ٹھوس منصوبہ بندی کی کہ اس کے مفید اثرات آج بھی اتنے ہی کارآمد ہیں جتنے دیڑھ سو سال قبل تھے۔ ان خیالات کا اظہار آج فرسٹ لانسرز میں سر سید احمد خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام سر سید احمد خان کے 202ویں یوم پیدائش کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرسٹ کے صدر نشین نواب محمد کاظم علی خان نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سر سید احمد ایک ہمہ جہتی شخصیت تھے وہ بیک وقت ایک فلاسفر‘ سماجی مصلح‘ مورخ ‘ماہر تعلیم اور معمار قوم تھے۔ ان کی پیدائش 17اکتوبر1817کو دہلی کے ایک ممتاز اور علم دوست گھرانہ میں ہوئی۔ مسلمانوں کی پستی اور پست ہمتی پر انہیں سخت دکھ رہا کرتا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوںکی ترقی کا راز صرف علم حاصل کرنے میں ہے۔ انہوںنے مسلمانوں میں سائنسی شعور پیدا کرنے کے لئے سانٹفک سوسائٹی بھی قائم کی تھی ‘ اور مسلمانوں میںانگریزی زبان حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کیا تھا ‘ جس پر ان کی سخت مخالفت ہوئی تھی لیکن مخالفتوں کا خیال کئے بغیر انہو ںنے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسلیوں کے خطوط پر عئی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔ لیکن انہوں نے کبھی اسلام اور اسلامی اقدار کو فراموش نہیں کیا۔
 
یہ ان کا احسان ہے کہ آج برصغیر میں مسلمانوں کے زیر انتظام ہزاروں تعلیمی ادارے قالم ہیں۔ نواب محمد کاظم علی خان نے کہا کہ اس قوم پر سر سید احمد خان کے بے شمار احسانات ہیں اور آج برصغیر کے مسلمانوں میںجو علمی اور سائنسی ترقی دیکھی جاتی ہے وہ ان ہی کی رہین منت ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ نئی نسل اپنے محسنوں کو فراموش کرتی جارہی ہے ‘ اور جو قوم محسنوں کو فراموش کرتی ہے وہ زوال کا شکا ر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ حیدرآباد میں سر سید احمد خان ایجوکیشنل ٹرسٹ قائم کیا گیا ہے اور اس ٹرسٹ کے زیر اہتمام غریب اور مستحق مسلم طلبا و طالبات کی امداد کی جاتی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ حیدرآباد میں ان کے نام سے ایک یونیورسٹی قائم کی جائے جو مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لئے مواقع فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ ٹرسٹ کے زیر اہتمام سرسید احمد خان کے پیام اور ان کی فکر کو عوام تک پہنچانے کے لئے لیکچرز اور سیمینارز کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here