وسیم راشد 
مجھے یاد ہے حکومت ہند کی طرف سے ہم جب بھی کسی حق تلفی کی بات کرتے تو ہمارے محترم چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ جی ہمیشہ یہی کہتے کہ آپ لوگوں کے پاس ایسا ہتھیار ہے جس کا آپ اگر صحیح استعمال کریں تو وہ ہتھیار آپ کو جیت دلا سکتا ہے اور وہ ہتھیار ہے آر ٹی آئی، جس نے ہمیں سوال پوچھنے کی طاقت دی ہے۔ بد عنوانی کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت دی ہے۔ یقینا یہی ایک قانون ہے جو بے لگام حکمرانوں اور افسروں کو سبق سکھاسکتا ہے۔ ان کے کالے کارناموں کا کچا چٹھا کھول سکتا ہے اور ان کے کالے کاموں کو بند بھی کرا سکتا ہے اور ملک کے اندر بد عنوانی کی گہری جڑوں کو ختم کرسکتا ہے۔
2004 میں جب یو پی اے حکومت کی سرکار بنی تو پارلیمنٹ کے پہلے سہہ ماہی اجلاس میں سماجی کارکنان کا ایک گروپ وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملنے گیا اور ان نے یہ مانگ کی کہ آر ٹی آئی کا قانون بنا یا جائے ۔ اس وقت چونکہ حکومت نئی نئی تھی اور جوش و جذبہ بھی بہت تھا اس لئے جو بھی آر ٹی آئی کی مانگ کر رہے تھے ،ان کا یہی ماننا تھا کہ ابھی اگر یہ حق نہیں ملا تو پھر شاید کبھی نہ مل پائے اور اسی طرح اس سیشن میں یہ بل رکھا گیا اور 2005
میں پارلیمنٹ سے پاس ہوکر 13 اکتوبر 2005 کو قانون بن گیا اور اب اس کو 8 سال مکمل ہوچکے ہیں۔ ان 8 سالوں میں آر ٹی آئی نے متعدد کیس حل کیے ہیں اور اسی کے ذریعے کئی اسکینڈل سامنے آئے ہیں جو قومی اور ریاستی سطح کے ہیں ۔ جس میں آدرش ہائوسنگ سوسائٹی گھوٹالہ جیسے کئی بڑے گھوٹالے عوام کے سامنے آئے۔آدرش سوسائٹی جو کہ کارگل کے شہیدوں کی بیوائوں کے لئے بنائی گئی تھی ۔اس میں آر ٹی آئی کے تحت ہی سچائی سامنے آئی ۔کامن ویلتھ گیمس گھوٹالہ بھی اس کے تحت سامنے آیا۔ 2G اسپیکٹرم گھوٹالہ بھی اس آر ٹی آئی کے قانون کے تحت عوام کو طاقت دے کر گیا۔ یہ وہ قانون ہے جو سرمایہ کاروں پر روک لگا سکتا ہے اور پورے ملک کو صاف و شفاف عدلیہ اور نظام فراہم کرسکتاہے۔
ایک بات اور اہم ہے کہ اطلاعات قانون کے تحت اطلاع مانگنے اور بد عنوانی کا پردہ فاش کرنے والوں کو پریشان کئے جانے کا امکان رہتا ہے اور ایسا بھی ہوا ہے کہ آر ٹی آئی کے ذریعہ اطلاعات مانگنے والوں کو پریشان اسی لئے زیادہ کیا گیا کہ اطلاع مانگنے سے بڑی سطح پر ہورہی بد عنوانی کا خلاصہ ہونے والا تھا ۔لیکن ایسے حالات سامنے آنے پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ یہی آپ کا وہ طریقۂ کار ہے جب آپ اپنے ساتھ یا کسی بھی دوسرے شخص کے لئے یا کسی ادارے کے تحت ہونے والی بد عنوانیوں کو سامنے لاکر ان کا بھلا کرسکتے ہیں۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اطلاع مانگنے پر نوکر شاہوں اور ٹھیکہ دارں کے بیچ ملی بھگت کا پردہ فاش ہوجاتا ہے یا کسی مافیا کے گٹھ جوڑ کے بارے میں پتہ چل جاتاہے تو پوچھنے والے کی جان کو خطرہ ہوجاتا ہے اور پھر یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ کوئی بھی ایسی صورت میں حق اطلاعات قانون کا استعمال کیوں کرے۔
دراصل ہمارا پورا سسٹم اتنا بگڑ چکا ہے کہ ہم اگر اسے سدھارنے کی کوئی کوشش بھی کرتے ہیں تو دوسرے لوگ ہمیں اسی سے دور رہنے کی صلاح دیتے ہیں،مگر میں ایک سوال ضرور کرنا چاہوں گی کہ اگر ہم اس سسٹم کو سدھارنے کی کوشش نہیں کریں گے تو پھر آخر کون اس میں سدھار لائے گا؟کیسے ہم ملک کو بد عنوانی سے پاک کر پائیں گے؟ کیسے ہمارے ادارے پوری طرح ہمارے نوجوانوں اور بچوں کے لئے شفافیت لاکر انہیں روزگار اور تعلیمی مواقع فراہم کر پائیں گے۔
ہمیں خوشی ہے کہ ’’چوتھی دنیا‘‘ نے صحافت کی دنیا میں پہلی بار ایک کالم ’’ حق اطلاعات قانون‘‘ یعنی آر ٹی آئی کا سلسلہ شروع کیا جس کو ہندی اخبار میں مسلسل 5 سال تک شائع کرنے کے بعد اب اردو اخبار میں تقریباً 4 سال سے شائع کررہا ہے۔ہم مستقل کالم کے ذریعہ بار بار یہ بتانے کی کوشش کرر ہے ہیں کہ یہ حق اطلاعات قانون یا آر ٹی آئی کیا ہے؟ اور آپ اس کا استعمال کیسے کرسکتے ہیں۔ساتھ ساتھ ہم اس کے لئے صلاح و مشورہ بھی دے رہے ہیں ۔ فارم کا پورا فارمیٹ بھی دیتے ہیں ۔کیونکہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ اس حق کا استعمال مسلمان بہت ہی کم کرتے ہیں اور ویسے بھی کریں گے تب جب ان کو اس کے بارے میں علم ہوگا۔ابھی حال میں ہی نایک ایک تنظیم ہے،اس کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے سے یہ معلوم ہوا کہ گزشتہ سال تقریباً 2 ملین آر ٹی آئی درخواستیں ڈالی گئیں، جو عوام کے ذریعہ اور مختلف این جی اوز کے ذریعہ ڈالی گئی تھیں ۔یہ سب مرکزی حکومت کے تحت اور تقریباً 10 ریاستی حکومت کے تحت تھیں۔
مسلمان اس کا استعمال کریں تو ان کے لئے بے حد مفید ثات ہوسکتا ہے اور ان کی حالت بہت سدھر سکتی ہے۔اقلیتی کمیشن کے ذریعہ بے شمار اسکیمیں ایسی ہیں جو طلباء کے لئے ہیں لیکن پورا پیسہ کبھی کبھی واپس چلا جاتاہے اور مسلم نوجوانوں کواس کا فائدہ نہیں مل پاتا، کچھ ادارے ایسے ہیں جو پیسے اور طاقت کا غلط استعمال کر رہے ہیں ۔خاص طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ہمدرد یونیورسٹی۔
ہمدرد یونیورسٹی میں ہونے والی بد عنوانیوں کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ ہم برابر اس کے بارے میں بتا رہے ہیں ہمدرد یونیوسٹی میں ایڈمیشن میں،میڈیکل کالج بنانے کے نام پر پیسوں کی بے پناہ لوٹ ہوئی ہے۔ جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر جی این قاضی نے پورے جامعہ کو ہی بیچ ڈالا ہے اور جو رہی سہی کسر ہے وہ حامد صاحب کے بیٹے ثمر حامد نے پوری کردی ہے ۔ جی این قاضی نے انجام کی پروا کیے بغیر جامعہ ہمدرد کے چانسلر سید حامد کے بیٹے ثمر حامد کو جامعہ ہمدرد کنسٹرکشن کمیٹی کا چیئر میں بنا دیا جبکہ نہ وہ انجینئر ہیں اور نہ آرکیٹکٹ۔اسٹاف اور طلبہ کے پیسوں کا غلط استعمال کیا۔ یہ سب وہ باتیں ہیں جو کہ آر ٹی آئی کے تحت پوچھی جاسکتی ہیں۔گزشتہ دنوں ہم نے علی گڑھ سے فارغ ایک شخص کا خط شائع کیا تھا ،جس میں انہوں نے جامعہ ہمدرد میں ہونے والی بد عنوانیوں کا ذکر کیا تھا ۔وہاں ہر شعبہ میں بد عنوانی ہے۔ چاہے وہ نوکریوں کا معاملہ ہو یا پھر ایڈمیشن کا یا ہوسٹل کا۔ ہم ان کو یہی رائے دینا چاہتے ہیں کہ اس طرح کی بد عنوانی کا حساب مانگنے کے لئے آر ٹی آئی آپ کے پاس ایک بہترین ہتھیار اور طاقت کے طور پر موجود ہے۔اسی طرح مدارس میں طلباء کے لئے جو فنڈ حکومت کی طرف مخصوص کیا جاتا ہے ،اس کا بھی صحیح استعمال نہیں کیا جاتا ۔اس میں بھی آر ٹی آئی ڈال کر آپ مدرسوں سے اور اور جن ریاستوں میں مدرسہ بورڈ قائم ہے وہاں ان مدرسہ بورڈوں سے حساب مانگا جاسکتا ہے۔
آر ٹی آئی کا استعمال کرنے والے اور ایکسپرٹ اس کے دو سب سے کمزور پہلو بتاتے ہیں کہ اس قانون کو اس لئے دائرہ عمل میں نہیں لایا جاتا کیونکہ ایک تو عوام کو پوری طرح حکومت کے ادارے یا پرائیویٹ ادارے معلومات فراہم نہیں کرنا چاہتے اور ظاہر ہے جب یہ اطلاعات مانگی جاتی ہیں تو جان کے لالے بھی پڑ سکتے ہیں ۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا ہے کہ آر ٹی آئی کارکنان کو فرضی کیس میں پھنسا کر جیل بھیجوا دیا گیا ہے۔لیکن ہم پھر بھی یہی کہیں گے کہ یہ ہے تو خطرناک لیکن اس کااستعمال ہی ہمارے ملک کو بد عنوانی سے پاک کرسکتا ہے۔
2011 میں آر ٹی آئی کارکن شہلا سعود جو کہ وائلڈ لائف ایشو اور بد عنوانی کے خلاف جد و جہد کر رہی تھیں ۔ان کو مدھیہ پردیش میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اس کے علاوہ گجرات کے ایک مشہور سماجی کارکن اور آر ٹی آئی ایکٹوسٹ امیت جیٹھا وا جنہوں نے غیر قانونی کانکنی کے خلاف درخواست ڈالی تھی ،انہیں بھی 2010 میں قتل کردیا گیا۔ ششی دھر مشرا جو کہ بہار میں بد عنوانی کے خلاف آواز اٹھارہتے تھے اور لوکل باڈیز کے خلاف درخواست ڈالی تھی ،انہیں بھی 2010 میں قتل کردیا گیا۔
مگر ان سب کے باجود آر ٹی آئی ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جو ہمیں جیت دلا سکتا ہے۔ ہارنے کے ڈرس سے نہ کھیلنا بیوقوفی ہے۔ میں اپنے مسلم نوجوانوں سے ایک ہی بات کہنا چاہتی ہوں ،ایک ہی پیغام دینا چاہتی ہوں کہ تعلیم حاصل کرنا ، روزگار حاصل کرنا، برابر کے ترقی کے مواقع حاصل کرنا،داخلے لینا یہ سب آپ کا بنیادی حق ہے۔ اگر اس کے لئے کوئی آپ کے راستے میں آتا ہے ۔آپ کے لئے مشکلیں کھڑی کرتا ہے تو آپ اس کے لئے حق اطلاعات قانون کا استعمال کیجئے۔اگر آپ کو مسلم ادارں ، وقف بورڈ کے بہی کھاتوں، حکومت کے مائنارٹی سیل ،مائنارٹی کمیشن یا دوسرے پرائیویٹ اداروں میں ہورہی بد عنوانی کو روکنا ہے اور اپنا حق مانگنا ہے تو اسی قانون کا استعمال کریں۔یہ وقت فیصلہ کرنے کا ہے۔ حکومت سے اطلاعات مانگنے کا ۔یہ حق ہمیں ملک کے قانون نے دیا ہے۔ افسران اور انتظامیہ یہی چاہتے ہیں کہ آپ ان سے سوال نہ پوچھیں ۔وہ جو چاہیں انہیں کرنے دیں۔ آپ فکر نہ کریں ۔آگے آئیں ۔اپنے حق کا استعمال کریں اور اگر اکیلے آپ درخواست ڈالتے ہوئے ڈر رہے ہیں تو اس ادارے کے لئے اپنے دوستوں سے بھی کہیں کہ وہ درخواست ڈالیں۔ ان معاملوں کی میڈیا کو اطلاع دیں۔ یہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس سے آپ رشوت خور آفیسر اور بابوئوں کی نیند حرام کرسکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here