60 گھنٹے بعد بھی نہیں بدلے حالات، ریاست بھر میں طبی خدمات متاثر

Share Article

 

کولکاتہ کے نیل رتن سرکار (این آر ایس) اسپتال میں گزشتہ پیر کی رات جونیئر ڈاکٹروں پر حملے کے بعد شروع ہوئی ہڑتال جمعرات کے روز بھی جاری رہی۔ واقعہ کے تقریباً 60 گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن ریاست بھر میں صحت کی خدمات ٹھپ ہیں۔ جمعرات کے روز بھی این آر ایس اسپتال کے دونوں دروازے پر تالا لگا ہے۔ آئوٹ ڈور تو بند تھا ہی، ایمرجنسی بھی گزشتہ دو دنوں سے بند ہے۔ کسی بھی نئے مریض کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور بہت کم تعداد میں ڈاکٹر بھی اسپتال میں آ رہے ہیں۔ یہ بھی الزام ہے کہ پہلے سے اسپتال میں زیر علاج مریضوں کا علاج ٹھیک سے نہیں ہو رہا ہے۔ اسی طرح کی حالت کولکاتہ میڈیکل کالج، ایس ایس کے ایم، چترنجن نیشنل میڈیکل کالج اورشمبھوناتھ پنڈت اسپتال کی بھی ہے۔

Image result for Doctor's strike continue in kolkata

کولکاتہ میں ریاست بھر سے روز لاکھوں کی تعداد میں مریض آتے ہیں۔ ان میں سے کئی کی حالت نازک ہوتی ہے۔ کوئی کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں تو کوئی دل کی بیماری جیسی سنگین بیماریوں سے۔ گزشتہ تین دنوں میں میڈیا کے سامنے 100 سے زائد کیس آئے ہیں، جہاں مریض کو فوری طور پرعلاج کی ضرورت تھی لیکن ڈاکٹروں کے ہڑتال کی وجہ سے ان کا علاج نہیں ہو سکا۔ شہر میں 37 ڈگری کی چلچلاتی دھوپ میں بھی مریض اس امید میں اسپتالوں کے گیٹ کے باہر کھڑے ہیں کہ شاید انہیں اندر جانے کی اجازت مل جائے اور علاج ہو لیکن ڈاکٹر ہیں کہبضد ہیں۔ ریاستی محکمہ صحت نے تحریری طور پر ڈاکٹروں سے تحریک ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔ سینئر کوشنکھ گھوش اور بہت سے دوسرے سینئر ڈاکٹروں نے بھی اس تحریک کو غلط بتایا ہے اور ڈاکٹروں سیطبی خدمات میں واپسی کی درخواست کی ہے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔

Image result for Doctor's strike continue in kolkata

گزشتہ تین دنوں سے لوگوں کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے مریض کے اہل خانہ میں غصہ بڑھ رہا ہے۔ اس کی مثال بدھ کے روز بردوان میڈیکل کالج میں دیکھنے کو ملی تھی، جہاں تقریبا ًڈیڑھ گھنٹے تک جونیئر ڈاکٹروں اور مریض کے اہل خانہ میں پتھربازی اور مارپیٹ ہوتی رہی۔ پولیس لاچار کھڑی تماشہ دیکھتی رہی۔ اسی طرح کی ناراضگی دیگر اضلاع میں بھی بڑھ رہی ہے۔ مرشدآباد میں جمعرات کی صبح ضلع اسپتال کے پاس بڑی تعداد میں مریضوں کے اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے جام لگا دیا ہے۔ لوگوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات میں بہتری نہیں آئی تو صورتحال مزیدابتر ہو سکتی ہے۔ ادھر کولکاتہ میں بھی جمعرات کی صبح این آر ایس اسپتال کے سامنے واقع اے جے سی بوس روڈ پر بڑی تعداد میں مریضوں کے اہل خانہ نے جمع ہوکر احتجاج شروع کر دیا۔ ٹریفک روک دیا گیا اور نعرے بازی کرتے ہوئے لوگوں نے پولیس کو بھی گھیر لیا۔ تاہم بعد میں اعلیٰ حکام نے مریضوں کے اہل خانہ کو سمجھایا اور یقین دلایا کہ جلد مسئلہ حل کر دیا جائے گا۔

Image result for Doctor's strike continue in kolkata

نیشنل میڈیکل کالج میں بھی مریضوں کے اہل خانہ نے نعرے بازی کی۔ ریاستی محکمہ صحت کی جانب سے بدھ کی رات ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ڈاکٹروں سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجیڈاکٹروں کی سیکورٹی میں اضافہ اور دیگر سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے جائزہ کر رہی ہیں لیکن ہڑتالی ڈاکٹروں نے صاف کر دیا ہے کہ وہ اب کسی نہیں سنیں گے۔ ڈاکٹروں نے واضح کر دیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خود بتائیں کہ وہ کیا کرتی ہیں اور کیا کرنا چاہتی ہیں۔ اس کے بعد ہی تحریک ختم کرنے پر غور کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ این آر ایس کے ڈاکٹروں پر حملے کے خلاف ریاست بھر کے تقریباً 60 ہزار ڈاکٹروں نے تحریک چلائی ہے، جس میں جونیئر ڈاکٹروں کی تعداد تقریبا ًچار ہزار ہے۔
ہ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *