شام کے شمال مغرب میں جھڑپوں کے دوران 59 افراد ہلاک

Share Article
Clashes kill nearly 60 fighters in northwest Syria

 

شام میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے سب سے بڑے گروپ المرصد کے مطابق گزشتہ روز شمال مغربی شام میں بشار کی فوج اور مسلح اپوزیشن گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 59 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔رواں سال اپریل کے اواخر سے اِدلب صوبے کو اور پڑوسی صوبوں کے بعض حصوں کو تقریبا روزانہ کی بنیاد پر شامی حکومت اور روس کے جنگی طیاروں کی بم باری کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں ایک سے زیادہ محاذ پر شدید جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔

مسلح تنظیم سابقہ النصرہ فرنٹ کو ادلب صوبے کے بڑے حصے پر اور اس کے اطراف کنٹرول حاصل ہے۔ یہاں اپوزیشن کے مسلح گروپوں کا نفوذ کم ہے۔گزشتہ شام ادلب صوبے کے جنوبی دیہی علاقے میں گھمسان کی لڑائی شروع ہو گئی۔

ادلب کے پڑوس میں واقع صوبے لاذقیہ کے شمالی دیہی علاقے میں جبل الاکراد میں فریقین کے بیچ ہونے والی لڑائی میں مسلح گروپوں کے 10 ارکان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے مقابلے میں مارے جانے والے شامی حکومتی فورسز کے اہل کاروں اور اس کے ہمنوا مسلح افراد کی تعداد 6 رہی۔یہ شدید لڑائی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ادلب کے جنوب، لاذقیہ کے شمال اور حماہ کے شمال میں دیہی علاقوں کو فضائی حملوں اور بم باری نے لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ منگل کے روز روسی طیاروں کے فضائی حملوں میں خان شیخون اور الصالحیہ کے علاقوں میں 6 شہری جاں بحق ہو گئے۔بشار کی فوج نے اتوار کے روز سے ادلب کے جنوبی دیہی علاقے میں پیش قدمی کو یقینی بنایا ہے۔ وہ اب خان شیخون کی جانب آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے جو ادلب کے جنوبی دیہی علاقے کا سب ے بڑا شہر ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *