دیوبند رہ رہے 5بنگلہ دیشی نوجوان گرفتار

Share Article
Deoband
خفیہ محکمہ اور پولیس کی ٹیم نے گذشتہ روزدیوبند میں غیرقانونی طریقے سے بغیر ویزا کے رہ رہے پانچ بنگلہ دیشی نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے، حالانکہ گرفتار کئے گئے نوجوانوں میں سے دو کے پاس پاسپورٹ بھی موجود تھے، جب کہ دیگر تین نوجوانوں کے پاس کوئی کاغذات نہیں تھے۔ نوجوان اپنے آپ کو آسام اور بنگال کے رہنے والے بتاتے ہوئے یہاں پر کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے ، گزشتہ رات خفیہ محکمہ نے ریلوے روڈ پر واقع ٹیلیفون ایکسچینج کے نزدیک دو مشتبہ نوجوانوں کو حراست میں لیا ، نوجوانوں کے ذریعہ اپنے آپ کو آسام کا بتائے جانے پر جب ان سے سختی کے ساتھ معلومات کی گئی تو انہوں نے اپنے آپ کو بنگلہ دیشی ہونابتایا، گرفتار کئے گئے پانچوں نوجوان یہاں پر ٹوپی فروخت کرنے اور درزی کا کام کررہے تھے ۔ گرفتار کئے گئے نوجوانوں میں رفیق الاسلام ولد محمد حنیف ساکن ڈگری چار تھانہ ملادی ضلع بری سال بنگلہ دیش، محمد احمد عرف احمداللہ ولد عبدالرشید پوسٹ ناران پاڑہ بنگلہ دیش ، منہاج ولد عبدالعزیز ساکن گاؤں بائلی ضلع ٹاگ ای بنگلہ دیش ، منیرالزماں ولد سعید الامین ساکن بوئلر پور ضلع ٹاگ ای بنگلہ دیش ، محمداسلام ولد شاہجہاں ساکن دلال پور بکھری ضلع نارائن بنگلہ دیش شامل ہیں۔
گرفتار کئے گئے بنگلہ دیشی نوجوانوں کے سلسلہ میں ایس ایس پی سہارنپور دنیش کمار پی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع سہارنپور میں بیرون ملک سے غیرقانونی طریقے پر ضلع میں رہ رہے ملزمان کے خلاف گرفتاری کے لئے چلائے جارہی مہم کے تحت گزشتہ رات ایل آئی یو کی اطلاع پر ایس پی دیہات ودیا ساگر مشر اور سی او دیوبند سدھارتھ سنگھ کی قیادت میں دیوبند پولیس کے ذریعہ مخبر کی اطلاع پر ٹیلی فون ایکسچینج کے سامنے ریلوے روڈ پر سے مذکورہ پانچوں بنگلہ دیشی نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ انہو ں نے بتایا کہ تحقیق کرنے پر گرفتار کئے گئے اسلام نے بتایا کہ میں یہاں پر تقریباً 4-5سال قبل آیا تھا اور یہیں پر ٹوپی فروخت کرنے کا کام کرنے لگا ۔ اس کے بعد رفیق بھی تین چار سال قبل میرے ذریعہ ہندوستان آیا اور وہ بھی دیوبند آکر سلائی کا کام کرنے لگا ۔ اسلام نے بتایا کہ منہاج تقریباً ڈیڑھ سال قبل دیوبند آیا تھا اور وہ یہاں پر پیسے کا لین دین کرنے لگا ۔ جو بنگلہ دیشی نوجوان یہاں پر آتے ان سے رابطہ کرتاتھا اور ان سے پیسہ کا لین دین کیا کرتاتھا، ایس ایس پی نے بتایا کہ محمد احمد تقریباً سات ماہ قبل یہاں پر گھومنے کے ارادے سے آیا تھا جس کے بعد وہ یہاں پر رفیق کے ساتھ سلائی کا کام کرنے لگا ۔ منیر بھی تقریباً 8ماہ قبل گھومنے کے ارادے سے ہندوستان آیا تھا اور چھپ کر یہیں پر رہنے لگا ۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ سبھی ملزمان کے خلاف تھانہ دیوبند میں دفعہ 14کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مزید تحقیق کی جارہی ہے۔
خفیہ محکمہ نے غیرقانونی طریقے سے رہ رہے بنگلہ دیشیوں کے ساتھ دو اور نوجوانوں کو بھی حراست میں لیا تھا حالانکہ ان میں سے ایک نوجوان بنگلہ دیش کے ہی پاسپورٹ اور ویزے پر دیوبندآیا ہوا تھا مگر اس کے ویزا کی میعاد ختم ہوگئی تھی اور وہ غیرقانونی طریقے پر دیوبند میں رہ رہا تھا جب کہ دوسرا نوجوان ریاست مدھیہ پردیش کے بھوپال کا رہنے والا تھا جنہیں شام کے وقت پولیس نے تحقیق کرنے کے بعد چھوڑدیا ہے۔ مذکورہ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ناجائز طریقے سے رہ رہے بنگلہ دیشی نوجوانوں نے اپنے آپ کو آسام کا رہنے والا بتایا ہوا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات پولیس انہیں کمرے سے اٹھاکر لائی تھی لیکن ان کے سبھی نام وپتے صحیح پائے جانے پر چھوڑدیا گیا ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *