اڑتالیس لاکھ کروڑ کا مہا گھوٹالہ :تھوریم گھوٹالہ

Share Article

 منیش کمار 
جب سے یو پی اے سرکار بنی ہے، تب سے ملک میں گھوٹالوں کا تانتا لگ گیا ہے۔ ملک کے لوگ یہ ماننے لگ گئے ہیں کہ منموہن سنگھ کی سرکار گھوٹالوں کی سرکار ہے۔ ایک کے بعد ایک بڑے گھوٹالے سامنے آ رہے ہیں۔ چوتھی دنیا نے جب 26 لاکھ کروڑ کے کوئلہ گھوٹالے کا پردہ فاش کیا تھا، تب کسی کو یہ یقین بھی نہیں ہوا تھا کہ ملک میں اتنے بڑے گھوٹالے کو انجام دیا جاسکتا ہے۔ آج ہم کوئلہ گھوٹالے سے بھی بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش کر رہے ہیں۔ یہ گھوٹالہ کوئلہ گھوٹالے سے بھی خطرناک ہے۔ اس میں نہ صرف ملک کی بیش قیمتی معدنیات کی بندر بانٹ ہوئی، بلکہ اس گھوٹالے کا اثر ہندوستان کے مستقبل پر بھی ہوگا۔

یو پی اے سرکار کی بھی داستان عجیب ہے۔ سپریم کورٹ کہتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے، تو سرکار کہتی ہے کہ یہی سرکار کی پالیسی ہے۔ سی اے جی جب کہتی ہے کہ گھوٹالہ ہوا ہے، تو سرکار کے وزیر کہتے ہیں کہ سب کچھ ضابطوں کے مطابق ہوا اور یہ زیرو لاس ہے۔ ملک کے وسائل لٹ جاتے ہیں، پرائیویٹ کمپنیاں پیسے کما لیتی ہیں، میڈیا سینہ پیٹتا رہ جاتا ہے اور سرکار کے وزیر ٹی وی پر مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ وزیر اعظم شک کے دائرے سے باہر ہیں۔ ایک نیا گھوٹالہ سامنے آیا ہے، لیکن امید یہی ہے کہ سرکار اسے جھٹلا دے گی یا پھر زیرو لاس تھیوری جیسی کوئی اور دلیل پیش کی جائے گی۔ لیکن جب گھوٹالہ 48 لاکھ کروڑ روپے کا ہو تو اسے جھٹلانے میں کم از کم تھوڑی بہت ہچکچاہٹ یا شرم تو ضرور آئے گی۔

منموہن سنگھ سرکار کے دوران گھوٹالے کا ایک نیا چہرہ سامنے آیا ہے۔ پہلے جب گھوٹالہ ہوا کرتا تھا، تو اس میں پیسے کی ہیرا پھیری ہوتی تھی۔ کسی بے ایمان وزیر یا افسر کی کرتوت کی وجہ سے سرکاری ڈیل میں دلالی کے پیسے کی ہیرا پھیری ہوتی تھی۔ زیادہ پیسے دے کر خراب مال لے کر گھوٹالہ کیا جاتا تھا۔ لیکن یو پی اے سرکار کے دوران سیدھے ملک کی بیش قیمتی معدنیات اور کانوں کو ہی لوٹ کر گھوٹالے کو انجام دیا جا رہا ہے۔ سرکاری پالیسیوں کو بدل کر پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانا سرکار کی عادت بن گئی ہے۔ جو گھوٹالہ آج ہم آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں، وہ ایک ایسا گھوٹالہ ہے، جس کے پیمانے اور اثر کو جان کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ یہ گھوٹالہ کم از کم 48 لاکھ کروڑ روپے کا ہے۔ یہ تھوریم گھوٹالہ ہے۔
سب سے پہلے سمجھتے ہیں کہ یہ تھوریم کیا ہے۔ تھوریم ایک ریڈیو ایکٹیو مادّہ ہے، جس کا استعمال نیوکلیئر ری ایکٹر میں ایندھن کی طرح ہوتا ہے۔ جوہری سائنس دانوں کے مطابق، تھوریم کے ذریعے ہندوستان میں توانائی کی ضرورتیں پوری ہو سکتی ہیں۔ ہندوستان میں تھوریم کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ جنوبی ہند کے سمندری کناروں پر تھوریم پھیلا ہوا ہے، جسے ہم کئی سو سالوں تک استعمال کر سکیں گے۔ دنیا کے دوسرے ملکوں میں تھوریم پتھروں میں پایا جاتا ہے، صرف ہمارے ملک میں یہ عام ریت میں ملتا ہے۔ اسے کھودنا اور جمع کرنا آسان ہے اور سستا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ سائنس داں، ہومی جہانگیر بھابھا نے سب سے پہلے تھوریم کی اہمیت کو سمجھا تھا۔ انہوں نے 1960 کے دوران، تھوریم کے استعمال کا منصوبہ بنایا تھا۔ انہوں نے تین مرحلوں والے نیوکلیئر پروگرام کو تیار کیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ چونکہ ملک اور دنیا میں زیادہ مقدار میں یورینیم دستیاب نہیں ہے، اس لیے مستقبل کے ری ایکٹر تھوریم پر منحصر ہونے چاہئیں۔ ہندوستان میں تھوریم کی کمی نہیں ہے، اس لیے مستقبل میں توانائی کی ضرورتیں آرام سے پوری ہو جائیں گی۔ نیو کلیئر ری ایکٹر اگر تھوریم پر مبنی ہے تو اس سے کئی فائدے ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ یورینیم سے بہتر ایندھن ہے۔ یہ یورینیم سے بہتر توانائی پیدا کرتا ہے۔ یہ سستا بھی ہے۔ یہ یورینیم پر مبنی ری ایکٹر سے زیادہ محفوظ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان سمیت کئی ملک اپنے اپنے یورینیم پر مبنی ری ایکٹر کو چھوڑ کر تھوریم پر مبنی ری ایکٹر لگا رہے ہیں۔ لیکن ہندوستان سے یہ تھوریم غائب ہو رہا ہے۔ منافع کمانے کے لیے اسے مٹی کی طرح ایکسپورٹ کیا جا رہا ہے۔ اسے دوسرے ملکوں کو سپلائی کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف غیر قانونی ہے، بلکہ ملک کے مستقبل کے ساتھ بھی کھلواڑ ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جب آزادی کے بعد ہی ہندوستانی حکومت نے محکمہ جوہری توانائی کی تشکیل کی تھی، تب وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے سب سے پہلے تھوریم کے ایکسپورٹ پر پابندی لگائی تھی۔ لیکن نہرو جی کے نام پر الیکشن لڑنے والی پارٹی نے ہی آج تھوریم کی لوٹ کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
سمندری ساحلوں سے پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے تھوریم کی لوٹ ہو رہی ہے اور سرکار اس بات سے انجان ہے۔ پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ کیسے ملک کو 48 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا اور کیسے ملک کی بیش قیمتی معدنیات کو غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر بھیجا گیا۔ 30 نومبر، 2011 کو کوڈی کونیل سریش نے لوک سبھا میں وزیر اعظم سے سوال پوچھا۔ سوال یہ تھا کہ ملک سے جو مونازائٹ ایکسپورٹ کیا جا رہا ہے، کیا اس میں کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟ اس پر پی ایم او کے وزیر مملکت وی نارائن سامی نے جواب دیا کہ مونا زائٹ کو چھوڑ کر سمندری ساحل کی ریت، جس میں کچھ معدنیات ہیں، کو ایکسپورٹ کیا جا رہا ہے، کیوں کہ مونا زائٹ اور تھوریم کے ایکسپورٹ کے لیے لائسنس دیا جاتا ہے اور اب تک کسی کمپنی کو اسے ایکسپورٹ کرنے کے لیے لائسنس نہیں دیا گیا ہے۔ محکمہ جوہری توانائی نے 6 جنوری، 2006 کو کئی دوسری معدنیات کو اس فہرست [SO 61 (E)] سے ہٹا دیا اور پرائیویٹ کمپنیوں کو اسے ایکسپورٹ کرنے کی چھوٹ دے دی تھی۔ لیکن کیا سرکار کو یہ معلوم ہے کہ ملک سے مونازائٹ کا ایکسپورٹ ہو رہا ہے؟ ایک رپورٹ کے مطابق، 2004 میں جب سے منموہن سنگھ کی سرکار بنی، تب سے لے کر اب تک 2.1 ملین ٹن مونا زائٹ ہندوستان سے غائب کر دیا گیا ہے۔ مونازائٹ اڑیسہ، تمل ناڈو اور کیرالہ کے سمندری ساحل پر موجود ریت میں پایا جاتا ہے۔ مونازائٹ میں قریب دس فیصد تھوریم ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ تقریباً ایک لاکھ 95 ہزار ٹن تھوریم غائب کر دیا گیا۔ مائنس اینڈ منرل ایکٹ 1957 کے تحت اڑیسہ سینڈ کامپلیکس، تمل ناڈو میں کنیا کماری کے پاس مانوالا کوریچی اور کیرالہ میں الوا چاورا بیلٹ کو مونازائٹ کے لیے نشان زد کیا گیا تھا۔ مونازائٹ سے تھوریم نکالنے کا اختیار صرف انڈیا ریئر اَرتھ لمیٹڈ کو ہے۔ یہ ایک پبلک سیکٹر کمپنی ہے۔ مانا یہ جاتا ہے کہ اگر سی اے جی، یعنی کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل انڈیا ریئر اَرتھ لمیٹڈ اور محکمہ جوہری توانائی کے اکاؤنٹ کی جانچ کرے تو کوئلہ گھوٹالہ کافی چھوٹا پڑ جائے گا۔ ملک سے جو تھوریم غائب ہے، اگر اس کی قیمت 100 ڈالر فی ٹن بھی لگائی جائے ، تو یہ 48 لاکھ کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم کے دفتر کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ملک کے تھوریم کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اب جب معاملہ سامنے آیا ہے، تو یہ سوال اپوزیشن پارٹی سے بھی پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے اس معاملے پر کیوں آواز نہیں اٹھائی، ہنگامہ کیوں نہیں کیا؟ یا پھر یہ مان لیا جائے کہ سیاسی پارٹیوں نے پرائیویٹ کمپنیوں کو لوٹنے کی آزادی دے دی ہے۔
ویسے مونا زائٹ اور تھوریم کے ایکسپورٹ کا لائسنس دینے کا اختیار ناگپور میں چیف کنٹرولر آف مائنس کے پاس ہے، جو سیدھے مرکزی وزارتِ کان کے تحت آتا ہے۔ گزشتہ چار سال سے اس چیف کنٹرولر کی سیٹ خالی ہے۔ سینئر صحافی سیم راجپّا کے مطابق، 2008 میں سی پی ایمبروس کے ریٹائر ہونے کے بعد سرکار نے جان بوجھ کر کسی رنجن سہائے کو کام کرنے دیا، کیوں کہ ان کے رشتے پرائیویٹ کمپنیوں اور صنعت کاروں کے ساتھ ہیں۔ ویسے بھی اتنے اہم عہدہ کو چار سال تک خالی رکھنا کئی سوالوں کو کھڑا کرتا ہے۔ یہی نہیں، رنجن سہائے کے خلاف چیف وجیلنس کمشنر (سی وی سی) کے پاس کئی شکایت درج ہے۔ سوال یہ ہے کہ رنجن سہائے کی مدد کرنے والے کون لوگ ہیں۔ سرکار نے چیف کنٹرولر آف مائنس کے عہدہ پر کسی کا تقرر کیوں نہیں کیا؟ اگر کسی کا تقرر کیا گیا تو وہ اپنی خدمات کیوں نہیں دے سکا؟ یہ سوال اس لیے ضروری ہیں، کیوں کہ ملک کو 48 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوگیا اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
سمندر کے کنارے پائی جانے والی ریت کے ایکسپورٹ میں 2005 کے بعد سے لگاتار اضافہ ہوا۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ اس ریت کے ساتھ ساتھ ریڈیو ایکٹو مادّوں کا بھی ایکسپورٹ کھلے عام چل رہا ہے۔ جن مادّوں کو ملک کے نیوکلیئر ری ایکٹر کے لیے بچانا تھا، وہ پرائیویٹ کمپنیوں کے حوالے کر دیے گئے۔ مزیدار بات تو یہ ہے کہ جو لوگ ملک کے وسائل کو لوٹ رہے ہیں، انہیں سرکار ایوارڈ بھی دے رہی ہے۔ یہ تھوریم گھوٹالہ ہندوستان کے دورِ حاضر کے لیے خطرناک تو ہے ہی، ساتھ ساتھ یہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی تشویشناک ہے۔ سرکار کو چاہیے کہ کم از کم اب تو تھوریم کے ایکسپورٹ پر پابندی لگائے۔ سرکار کو مائنس ایکٹ میں ترمیم کرنی چاہیے اور جتنی بھی اہم معدنیات ہیں، جنہیں مستقبل کے لیے بچا کر رکھنا ضروری ہے، ان کی کانکنی اور ایکسپورٹ پر پوری طرح سے پابندی عائد کرنی چاہیے۔ منموہن سنگھ سرکار کی نیو لبرل ازم والی کی پالیسیوں سے ملک کو بہت نقصان ہو چکا ہے۔ اب بھی سنبھلنے کا وقت ہے۔ ویسے بھی آئین کے مطابق، ملک کی معدنیات پر ملک کے عوام کا حق ہے، لہٰذا سرکار کو چاہیے کہ وہ ان چیزوں کے استعمال پر نگرانی برتے۔ تھوریم ایک جوہری ایندھن ہے، اس لیے اس میں تو اور بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ سرکار کو ان علاقوں کو پھر سے نشان زد کرنا چاہیے، جہاں مونا زائٹ اور تھوریم ہے اور ان علاقوں میں کسی بھی طرح کی کانکنی پر پابندی لگا کر آرمی، ایئر فورس یا نیوی کے ذریعے ان کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ اب تک جتنے تھوریم کا نقصان ہوا ہے، اس کا پتہ لگانے کے لیے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہیے۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے، کیوں کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران منموہن سنگھ نے ہندوستان کی توانائی سے متعلق ضرورتوں کے بارے میں ملک و بیرونِ ملک سوال اٹھائے ہیں۔ جوہری توانائی کے لیے تو انہوں نے اپنی سرکار کو ہی داؤ پر لگا دیا۔ کوئلہ گھوٹالے کے منظر عام پر آنے سے پہلے تک منموہن سنگھ لگاتار یہی کہہ رہے تھے کہ ملک میں کوئلے کی کمی ہے، بجلی بنانے والی کمپنیوں کو کوئلہ نہیں مل رہا ہے۔ جب کوئلہ گھوٹالہ سامنے آیا تو ملک کو اصلیت کا پتہ چلا۔ جب سرکار کوئلے کی کانیں پرائیویٹ کمپنیوں کو مفت میں دے دے گی تو کوئلہ کہاں سے آئے گا۔ اب تک ان کوئلہ کمپنیوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جنہوں نے کوئلے کی کانیں تو لے لیں، لیکن کوئلہ نکالنے کا کام شروع نہیں کیا۔ ملک میں اگر صرف قانون کا راج ہوتا، تو کئی سال پہلے ہی سرکار کوئلے کی ان کانوں کو واپس ضبط کر سکتی تھی۔ اب تھوریم کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ تھوریم کے صحیح استعمال سے ملک کی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سرکار نے جان بوجھ کر ہومی جہانگیر بھابھا کی اسکیموں کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا؟ کیا سرکار نے تھوریم کا غیر قانونی ایکسپورٹ کرکے دوسرے ملکوں کی توانائی سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کا من بنا لیا ہے؟ اگر ملک میں تھوریم کا ذخیرہ یونہی پڑا ہے، جس کے لیے 1960 سے ہی پلاننگ ہو رہی ہے، تو اسے چھوڑ کر سرکار امریکہ اور دوسرے ملکوں کے ری ایکٹر کو کیوں ہندوستان میں لگانا چاہتی ہے؟ کیا سرکار پر امریکہ کا دباؤ ہے؟ کیا توانائی سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کے نام پر سرکار امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے؟ ان سوالوں کا جواب بھی سرکار کو دینا ہوگا اور ساتھ ہی یہ بھی بتانا ہوگا کہ پچھلے کچھ سالوں میں 48 کروڑ کا تھوریم کہاں غائب ہوگیا اور سرکار اور سرکاری مشینری کیوں سوتی رہی۔ چونکہ یہ معاملہ سیدھے وزیر اعظم کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، اس لیے یہ معاملہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ امید یہی کی جانی چاہیے کہ منموہن سنگھ کم از کم اب اپنی خاموشی توڑیں گے اور تھوریم گھوٹالے پر سرکار کی صفائی پیش کریں گے۔
جب ہم پنڈت جواہر لال نہرو، لال بہادر شاستری اور اندرا گاندھی کا وزیر اعظم کے طور پر تجزیہ کرتے ہیں یا تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے ہیں، تو ان کے بارے میں جان کر اچھا لگتا ہے۔ آج بھی جب ہم ندیوں پر ڈیم یا اسٹیل کمپنیوں اور دوسرے کل کارخانوں کو دیکھتے ہیں، تو فخر سے کہتے ہیں کہ یہ سب نہرو جی کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔ کیا کانگریس پارٹی یا یو پی اے کے کسی وزیر کو یہ خیال آتا ہے کہ قریب بیس سال بعد، جب لوگ یاد کریں گے تو منموہن سرکار کو کس طرح یاد کریں گے۔ تاریخ نویس کس طرح سے یو پی اے سرکار کا تجزیہ کریں گے۔ آنے والی نسل کو جب پتہ چلے گا کہ منموہن سرکار کے دوران ملک کی کوئلہ کانوں کو مفت میں بانٹ دیا گیا تھا، تو وہ کیا سوچے گی۔ جب انہیں معلوم ہوگا کہ ہمارے پاس دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود تھا، جسے ہماری سرکار نے پرائیویٹ کمپنیوں کے ہاتھوں لٹا کر ملک سے باہر بھیجنے دیا تو سچ مانئے، موجودہ یو پی اے حکومت پر آنے والی نسلیں ہنسیں گی۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *