پاکستان کے ایک علاقے میں 400 بچے ایڈز سے متاثر

Share Article

 

پاکستان کے صوبہ سندھ میں انفکٹڈ سرنج کے استعمال سے سینکڑوں لوگ ایڈز کا شکار بن گئے ہیں۔ حال یہ ہے کہ صرف ایک علاقے میں چار سو بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹیوپایا گیا ہے۔ اب والدین اپنے بچوں کی ا سکریننگ کرانے سے ڈررہے ہیں۔

یہ کہانی صوبہ سندھ کے لرکانہ کے واسیو وگاؤں کی ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ 400 سے زیادہ لوگ جن میں بیشتر بچے ہیں، ان میں ایچ آئی وی پازیٹیو پایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پورے پاکستان میں ڈاکٹر دھڑلے سے آلودہ آلات کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے میں ایڈز سے متاثر ہ لوگوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔

حکام کا کہنا ہے کہ مقامی امراض اطفال کے ماہرین کی سنگین لاپرواہی کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔ آلات اور معاونین سے دوچار کلینک کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ درجنوں کی تعداد میں آ رہے ہیں، مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا علاج کرنے کے لئے ہمارے پاس لوگ نہیں ہیں۔

پاکستان کافی وقت تک ایچ آئی وی کے کم پھیلائو والے ملک کے طورپر سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہاں یہ بیماری خاص طور پر سرنج سے منشیات لینے والوں اور جنسی ورکرز کے درمیان وبا کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، 2017 میں تقریباً 20000 نئے ایچ آئی وی انفیکشن کے معاملات کے ساتھ پاکستان فی الحالمی ایچ آئی وی شرح کے معاملہ میں ایشیا میں دوسرے سب سے تیزی سے بڑھنے والے ممالک میں شامل ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *