جموں و کشمیر میں ملی ٹینسی کے 30برس

Share Article

جموں وکشمیر میں جاری ملی ٹنسی 30سال پورے کررہی ہے۔ 31جولائی 1988ء کو سرینگر شہر کے ٹیلی گراف آفس اور گالف کورس میں دو سماعت شکن دھماکوں کے ساتھ ہی یہاں ملی ٹنسی کا آغاز ہوا تھا۔ اُس وقت شائد کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ تشدد کا یہ کھیل 30سال بعد بھی جاری ہوگا اور اس دوران ہزاروں لوگ اپنی متاع جاں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔کشمیر میں ملی ٹنسی کی شروعات جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے ’’خود مختاری‘‘ کے مطالبے کو لیکر کی تھی۔ لبریشن فرنٹ نے منقسم کشمیر کے دونوں خطوں یعنی کنٹرول لائن کے آر پار اس ریاست کو آزاد کرنے اور اسے خود مختاری دینے کا مطالبہ کیا۔ لبریشن فرنٹ سیکولرازم اور قوم پرستی میں یقین رکھتی تھی اور اسکے نعروں میں کہیں بھی مذہب کا کوئی عنصر موجود نہیں تھا۔لیکن صرف ایک سال سے کم وقت میں ہی وادی میں حزب المجاہدین اور حرکت المجاہدین جیسی مسلح تنظیمیں وجود میں آگئیں ، جو خالصتا ً مذہبی بنیادوں پر کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ چاہتی تھیں۔ یہ تنظیمیں کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کا کھل کر مطالبہ کرنے لگیں۔ مسلح تحریک شروع ہوجانے کے بعد وادی میں درجنوں مسلح تنظیمیں معرض وجود آگئیں ۔ ان میں بیشتر کشمیر کوسیاسی سے زیادہ ایک مذہبی معاملے ماننے لگیں ۔ لیکن اس سب کے باوجود ان مسلح تنظیموں کے موقف میں کوئی غیر معمولی شدت دیکھنے کو نہیں ملی ۔ لیکن اب 30سال کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ وادی میں جاری ملی ٹنسی میں سخت گیر مذہبی شدت پسندی کا عنصر شامل ہونے لگا ہے ۔
سال 2016کی عوامی ایجی ٹیشن میں جب پہلی بار سرینگرکی تاریخی جامع مسجد کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران بعض نقاب پوش نوجوانوں نے داعش کے جھنڈے لہرائے تو سیکورٹی ایجنسیوں میں کھلبلی مچ گئی ۔ بعد میں آئے دن کہیں نہ کہیں اکا دکا لڑکے داعش کے جھنڈے لہراتے نظر آئے ۔لیکن سیکورٹی ایجنسیوں اور مرکزی وزار ت داخلہ بار بار ان افواہوں کی تردید کرتی رہی کہ وادی میں طالبان ، القاعدہ یا ISISجیسی تنظیموں کو کوئی وجود ہے۔ دوسری جانب سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک جیسے سینئر علاحدگی پسند لیڈران نے بھی کئی بار واضح کیا کہ کشمیر میں جاری تحریک کا کوئی عالمی ایجنڈا نہیں ہے اور نہ ہی داعش کا اس تحریک سے کوئی لینا دینا ہے۔ وادی میں داعش کے جھنڈے لہرانے سے متعلق عام طور سے مبصرین کا ماننا تھا کہ کشمیری نوجوان یہ جھنڈے محض اپنا شدید غصہ ظاہر کرنے کے لہراتے ہیں کیونکہ 2016ء ایجی ٹیشن کے دوران شمالی کشمیر کے بعض علاقوں میں نوجوان مظاہرین نے چین کے جھنڈے بھی لہرائے تھے ۔ اس لئے یہ تاثر قوی ہوگیا تھا کہ وادی میں نوجوان داعش کے جھنڈے محض اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لئے اٹھا رہے ہیں۔ یہ تاثر ماضی قریب تک قائم تھا۔ یہاں تک کہ اس سال 3جنوری کو وزارداخلہ نے راجیہ سبھا کو مطلع کیا کہ کشمیر میں داعش کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔وزرات داخلہ نے تاہم راجیہ سبھا کو یہ بتایا کہ ذاکر موسیٰ نامی جنگجو، جس نے غزوۃ الہند نامی تنظیم قائم کرلی ہے، کو زیادہ سے زیادہ 10جنگجوئوں کی حمائت حاصل ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ غزوۃ الہند کو القاعدہ نے اپنی ذیلی تنظیم قرار دیا ہے۔ اس کی آئیڈیالوجی کے مطابق یہ تنظیم نہ صرف کشمیر میں بلکہ باقی دُنیا میں بھی شریعت نافذ کرنے کے لئے لڑرہی ہے۔ ذاکر موسیٰ حریت لیڈروں کو بھی قتل کی دھکمیاں دے چکا ہے ۔ کیونکہ اس کے بقول حریت لیڈر وسیع تر اسلامی ایجنڈے ، یعنی شریعت کے نفاذ کے لئے کام نہیں کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بہرحال آج کشمیر میں داعش کی موجودگی ، چھوٹے پیمانے پر ہی صیح لیکن تصدیق شدہ ہے۔ وادی میں داعش کی موجودگی کی تصدیق پہلی بار ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر سیش پال وید نے 27فروری کو کی ، جب سرینگر میں ایک حریت لیڈر کی حفاظت پر مامور ایک پولیس کانسٹبل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا اور اسکی رائفل بھی چھین لی گئی ۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ۔ اس چند ماہ پہلے یعنی گزشتہ سال کے17 نومبر میں بھی سرینگر میں ایک پولیس آفیسر کو مارا گیا تھا اور اس واقعہ کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کرلی تھی ۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے وادی میں اس تنظیم کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے ، یہ ایک تشویشناک بات قراردی۔حال ہی میں سرینگر اور جنوبی ضلع اننت ناگ میں فورسز کے ساتھ جھڑپ پہلی بار داعش کے جنگجو مارے گئے ۔ان میں سے ایک جھڑپ سرینگر کے بالہامہ علاقے میں ہوئی اور دوسری اننت ناگ میں ۔ 12مارچ کو اننت ناگ میں ہوئی جھڑپ میں عیسیٰ فاضلی ، اوئس اورتوصیف نامی تین مارے گئے ۔ توصیف کا تعلق تلنگانہ سے تھا۔ تلنگانہ پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ توصیف داعش کی آئیڈیالوجی سے متاثر ہوجانے کے بعد کشمیر آیا تھا اور یہاں مارا گیا ۔عیسیٰ فاضلی کی لاش جب سرینگر میں اس کے آبائی گھر لائی گئی تو یہاں داعش کے مبینہ ارکان نے اسکی میت کو داعش کے جھنڈے میں لپیٹ کر سپرد خاک کیا۔ بھارت کی کسی دوسری ریاست کے مسلمان نوجوان کا داعش کے نام پر کشمیر میں موجودگی یقینا سرینگر سے دلی تک کی سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے ایک تشویش کی بات ہے کیونکہ گزشتہ تیس سال میں کبھی بھی بھارتی مسلمانوں نے کشمیر میں جاری ملی ٹنسی کو کوئی حمائت نہیں کی ۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب داعش کے نام پر ہندوستان کی دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مسلم نوجوان بھی کشمیر میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ15مارچ 2017کو امور داخلہ کے مرکزی وزیر ہنس راج گنگا رام نے پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) اور پولیس بھارت کی 11ریاستوں میں 75افراد کے داعش کے ساتھ رابطوں کی تحقیق کررہی ہے ۔ حکومت ہند پہلے ہی اس بات کی تصدیق کرچکی ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران 61بھارتی مسلمان لڑکے سیریا اور عراق میں داعش میں شامل ہوگئے ہیں ۔ چونکہ کشمیر ایک جنگ ذدہ علاقہ ہے ، جہاں گزشتہ تیس سال سے ملی ٹنسی جاری ہے اور تشدد کی وارداتیں آئے دن رونما ہورہی ہیں ، اس لئے بعض مبصرین کو خدشہ ہے کہ اس جگہ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں افرادی قوت حاصل کرنے اور تشدد پھیلانے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ کیونکہ یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ جہاں کہیں بھی پرتشدد حالات پائے جارہے ہیں عالمی دہشت گرد تنظیمیں وہاں اپنے پیر جمانے کی کوشش کررہی ہیں۔اس ضمن میں افغانستان ، عراق ، سیریا وغیرہ کی مثالیں سامنے ہیں۔ اس لئے یہ خدشہ خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں کشمیر میں پیر جمانے کی کوشش کررہی ہوں گی ۔
تاہم یہ بات اطمینان بخش ہے کہ کشمیر میں عمومی طور پر داعش ، القاعدہ اور طالبان جیسی دہشت گرد تنظیموں کو عوامی سطح پر کوئی سپورٹ حاصل نہیں ہے بلکہ علاحدگی پسند لیڈران بھی بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں اس طرح کی جنگجوئت کی کوئی حمایت نہیں ملے گی ۔ اشرف صحرائی ، جنہیں حال ہی میں سید علی شاہ گیلانی کی جگہ تحریک حریت کا سربراہ بنادیا گیا ، نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’ ہماری تحریک مقامی نوعیت کی ہے ۔ اس تحریک میں داعش یا دوسری عالمی سطح کی جنگجو تنظیموں کو کوئی لینا دینا نہیں ۔ ‘‘ صحرائی نے مزید کہا ، ’’ ہماراکوئی عالمی ایجنڈا نہیں ہے۔ یہ محض ایک آزادی کی تحریک ہے ، جس کے لئے لوگ قربانیاں دے رہے ہیں۔‘‘ یہ بات قابل ذکر ہے صحرائی کے بیٹے جنید اشر ف خان نے حال ہی میں حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی ۔ اس ضمن میں صحرائی نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کو بتایا،’’ میرے بیٹے نے ظلم و جبر کے خلاف بندوق کی راہ اختیار کرلی ہے اور یہ اُس کا اپنا فیصلہ ہے تاہم میں یہ ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیری لڑکوں کا کوئی عالمی ایجنڈا نہیں ہے بلکہ اگر وہ بندوق اٹھارہے ہیں تو وہ محض ظلم و جبر کے ردعمل کے طور پر ایسا کررہے ہیں۔‘‘

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کشمیر میں 30سال سے جاری تشدد کی لہر کون سا رخ اختیار کرلیتی ہے ، یہ تو بہرحال آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے تاہم فی الوقت سیکورٹی ایجنسیوں کو یہاں سب سے بڑے چیلنج درپیش ہیں ، اُن میںبڑی تعدا میں مقامی نوجوانوں کاملی ٹنسی میں شامل ہوجانا، فورسز سے ہتھیار چھیننے کے واقعات میں مسلسل اضافہ اور پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی سے اسلحہ سمیت بھاگ کر جنگجوئوں کے ساتھ جاملنے کے واقعات ہیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومتی اعداد شمار کے مطابق گزشتہ تین سال میں 280کشمیری نوجوانوں نے ملی ٹنسی جوائن کرلی ہے۔ حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ مقامی نوجوانوں کے جنگجوئوں کے صفوں میں شامل ہوجانے کے واقعات میں 44فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب یہ حقیقت بھی نا قابل تردید ہے کہ فورسز اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں پچھلے 30سال سے کشمیر میں ملی ٹنسی کو ختم کرنے کے لئے مسلسل کوششیں کررہی ہیں۔ یہ بات کڑوی ہی سہی لیکن سچ ہے کہ جموں کشمیر میں تعینات فوج اور فورسز تاحال کشمیر کو ملی ٹنسی سے صاف کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوگئی ہیں۔31جولائی 1988ء کو دو بم دھماکوں کے ساتھ شروع ہونے والی ملی ٹنسی آج بھی جاری ہے بلکہ اب اس میں اس لحاظ سے زیادہ شدت آگئی ہے اب یہاں کے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی دہشت گرد تنظیمیں بھی یہاں اپنے پیر جمانے کی کوشش میں نظر آرہی ہیں۔ شاید یہی وہ حقائق ہیں ، جن کے پیش نظر چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل بپن رائوت نے حال ہیں یہ اعتراف کیا کہ بندوق کے ذرایعے نہ ہی ملی ٹنٹوں کو اپنی منزل مل سکتی ہے اور سیکورٹی فورسز کو ۔ جموں کشمیر پولیس کے سربراہ ڈاکٹر سیش پال وید نے بھی حال ہیں ، مسئلہ کشمیر کو سیاسی طور حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس سے قبل فوج کی شمالی کمان کے سابق سربراہ لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا بھی کہہ چکے ہیں ، فوج کشمیر میں جو کچھ کرسکتی تھی ، کرچکی ہے ، اب اسے حتمی طور پر حل کرنا سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت کب کشمیر سے متعلق سخت گیر پالیسی ترک کرکے کھلے دل کے ساتھ بات چیت کے سارے دروازے کھول دیتی ہے تاکہ کشمیر مسئلے کا کوئی ایسا سیاسی حل نکالا جاسکے ، جو اس کے تمام فریقین کے لئے قابل قبول ہوسکتا ہے۔ کشمیر میں ایک پالٹیکل پراسس شروع کرنا وقت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *