مولاناآزادیونیورسٹی جودھپور میں آئی اوایس کی 30سالہ تقریبات کادوروزہ سیمینارشروع

Share Article
seminar
ہندوستان کے معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیواسٹڈیز(آئی اوایس)کی 30سالہ تاسیسی تقریبات کے تعلق سے ایک اہم وغیرمعمولی سیمیناربعنوان’’ہندوستان کے موجودہ سیاق وسباق میں مساوات:انصاف اوربھائی چارے کی جانب ایک بہترمستقبل کی تشکیل بذریعہ اسلامیات‘‘آج مولاناآزادیونیورسٹی جودھپورکے آڈیٹوریم میں شروع ہوگیاہے ۔
راجستھان کی مقامی تنظیم مارواڑایجوکیشنل اینڈ ویلفےئرسوسائٹی کے اشتراک سے کئے جارہے ا س سیمینارکے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی مہتمم ندوۃ العلماء لکھنؤاورانٹیگرل یونیورسٹی کے چانسلرمولانا سعید الرحمٰن اعظمی نے کہاکہ ’’کوئی بھی مذہب نہ انسانیت مخالف ہے نہ انسانیت کش ، ہندوستان صوفیوں رشیوں منیوں کی سرزمین ہے۔ اسلام نے دین کو مکمل کردیا ہے، اصل دینی زندگی عقیدے کی پختگی سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ امت ’امت دعوت‘ ہے۔ یہی اس کی کامیابی کا راز ہے ۔ مساوات کو فروغ دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسلام نے شروع سے ہی مساوات اور ہم آہنگی کی بات کہی ہے‘‘۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے مولانا آزاد یونیورسٹی جودھ پور کے وائس چانسلر پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ’’اسلام سے ہندستان کا رشتہ انتہائی قدیم ہے۔ کہا جاتا ہے حضرت آدم کو جب جنت سے دنیا میں بھیجا گیا تو آپ سب سے پہلے ہندستان ہی تشریف لائے تھے۔ اس طرح ہندستان ہمارے لیے مادر وطن کی حیثیت بھی رکھتا ہے اور پدر وطن کی بھی۔ ہندستانیات کا پہلا ماہر البیرونی تھا، اسی طرح رامائن اور مہا بھارت کو فارسی زبان میں متعارف کرانے والے بھی مسلمان ہی تھے۔ علماء و فضلاء کے علاوہ مسلم حکمرانوں نے بھی ہمیشہ رواداری کو فروغ دیا۔ اگر وہ رواداری اور بھائی چارے کا مظاہرہ نہ کرتے تو آج ہندستان میں مسلمان اقلیت میں نہ ہوتے۔ مشہور شخصیات میں عبدالقدوس گنگوہی، عبدالرزاق بانسوی، خواجہ حسن نظامی اور حسرت موہانی کی کرشن جی سے عقیدت تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔ آج ہمارے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ ہم قرآن کو تو مانتے ہیں، لیکن قرآن کی نہیں مانتے۔ ہم نے اپنے کام اللہ کے سپرد کردیے ہیں اور اللہ کے کام خود لے لیے ہیں۔ ہمیں یہ صورت حال بدلنی ہوگی۔‘‘
سمینار کے افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی اور علی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سابق نائب شیخ الجامعہ بریگیڈیر ایس احمد علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’موجودہ دور میں اسلام سب سے غلط سمجھا جانے والا مذہب ہے۔ اس موضوع پر محمد قطب کی ایک اہم کتاب بھی موجود ہے جس کاعنوان بھی یہی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان غلط فہمیوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور نفرت کی ذہنیت سے پیچھا چھڑائیں۔ ہر چیز میں امتیازی شان پیدا کرنے کی عادت ڈالیں اور ملک کے کمزور طبقات سے ہاتھ ملائیں۔ الحمد للہ مسلمانوں میں بیداری آئی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ آئی اے ایس کا امتھان پاس کرنے والے مسلمان لڑکوں کی تعداد ہر سال بڑھتی جا رہی ہے، چنانچہ اس سال پچاس لڑکوں نے آئی اے ایس کا امتحان پاس کیا۔ یہ اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔‘‘
نارتھ ویسٹ کنزرویٹیو، برطانیہ کے نائب صدر عظمت حسین نے کہا کہ’’ہم لوگ بہت کچھ سنتے سناتے ہیں، لیکن اُس میں سے کسی ایک بات پر بھی عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ مسلمان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اونچے سے اونچے مقام پر پہنچ سکتے ہیں، لیکن ہمت شرط ہے۔‘‘
آئی او ایس کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے افتتاحی اجلاس میں صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے کہاکہ ’’موجودہ ہندستان میں سب سے زیادہ پامالی دستورِ ہند کے دیباچے کی ہورہی ہے۔ جس طرح کلمہ طیبہ پڑھے بغیر کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا، اُسی طرح دستور کے دیباچے کو سمجھے بغیر کوئی ہندستانی نہیں ہوسکتا۔ انسانیت کی بقاء انسانیت کے ادب و احترام میں ہے۔ اس بقاء کو حاصل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ تعلیم ہے۔ جس طرح ماضی سے جڑے رہنا ضروری ہے، اُسی طرح مستقبل کی تعمیر کی کوشش بھی ہونی چاہیے۔ ان میں سے کسی ایک پر اکتفاء کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ہمیں ماضی کی روشنی میں مستقبل کی تعمیر کرنی ہوگی۔ اس سلسلے میں آئی او ایس نے آٹھ جلدوں پر مشتمل امپاورمینٹ سیریز شائع کی تھی، جس سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے یہاں جن چیزوں کا خاص طور سے اپنی حکمرانی کے درمیان خیال رکھا وہ عدل و انصاف، مساوات، حقوق کا احترام، بنیادی آزادی اور دین کے معاملے میں جبر نہ کرنے کی پالیسی، بھائی چارہ، انسانی خدمت اور کارہائے حکومت و سیاست میں سب کی شرکت ہے ‘‘۔
اس موقع پر آئی او ایس کی چار اہم مطبوعات ’’جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کا رول‘‘ (تین جلدیں) اور ’’ملک میں حالات کا نیارخ‘‘ کا اجراء مہمانان ذی وقار کے ہاتھوں ہوا۔اول الذکر کتاب کی پہلی جلد کا اجراء مولانا سعید الرحمان اعظمی ندوی، دوسری جلد کا اجراء پروفیسر اختر الواسع، تیسری جلد کا اجراء محمد عتیق صاحب نے کیا۔ جب کہ ثانی الذکر کتاب کا اجراء بریگیڈیر احمد علی نے کیا۔ مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی اور آئی او ایس کی جانب سے مہمانوں کو مومنٹو بھی پیش کیے گئے۔ اجلاس کے شروع میں آئی او ایس کے فائنانس سکریٹری پروفیسر اشتیاق دانش نے موضوع اور آئی او ایس کا جامع تعارف کرایا ۔ مارواڑ سوسائٹی کے جنرل سکریٹری محمد عتیق نے مہمانوں کا استقبال کیا اور سوسائٹی کے چیئرمین جناب عبدالعزیز نے کلمات تشکر پیش کیے۔ سمینار کا آغاز شاہ اجمل فاروق ندوی کی تلاوت قرآن سے ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر نکہت حسین ندوی نے انجام دیے۔ افتتاحی اجلاس کے بعد پہلے اور دوسرے تکنیکی اجلاس کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت بالترتیب پروفیسر محمد یاسین مظہر صدیقی اور بریگیڈیر احمد علی نے کی۔ ان دونوں نشستوں میں بارہ شرکاء نے مقالات پیش کیے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *