ڈاکٹر منیش کمار

p-

اتنی عمر تو کسی کی بھی نہیں ہوتی۔ قابل ذکر ہے کہ اس معاملہ کو پھر فاسٹ ٹریک سے دوسری عدالت میں منتقل کر دیا گیا جو فاسٹ ٹریک عدالت نہیں تھی۔ اس کورٹ میں جب یہ لوگ پہنچے تو جج نے وہی سوال کیا کہ ایف آئی آر کہاں ہے ، ایف آئی آر لایئے ورنہ میں مقدمہ نہیں چلائوں گا۔ پہلے ایف آئی آر کی مصدقہ کاپی لائو۔ اب بے چارے ملیانہ کے غریب لوگ کہاں سے ایف آئی آر لائیں گے اور ایف آئی آر کو پیش کرنے کا کام کس کا ہے؟ تاہم نہ ایف آئی آر ملی اور نہ ہی کیس آگے بڑھا، ایسی صورت میں انصاف کیسے ملے گا؟
اس سانحہ کے پہلے گواہ سے جب ہم نے بات کی تو انھوں نے ہمیں بتایا کہ ہم نے جو دیکھا، وہ کورٹ میں بتایا۔ اب مقدمہ اتنی سست رفتاری سے چل رہا ہے کہ انصاف کی امید کرنا ہی بے معنی ہوگا۔ 25سال میں آج تک اتنا بھی نہیں ہوا کہ ہمارے زخموں کو ذرا سا بھی مرہم مل جاتا اور ہمارے گناہگاروں کو سزا ملتی۔ اب اگر سزا مل بھی گئی تو کیا ہم قبر پر رکھیں گے انصاف؟ اس معاملہ کے پہلے گواہ وکیل صاحب نے بتایا کہ 23مئی کو نو بجے تک ماحول پر امن تھا ۔ پھر گیارہ بجے پی اے سی نے شراب کا ٹھیکہ لٹوایا۔ پولس نے تالا توڑا اور فسادی شراب لوٹ کر لے گئے۔ اس کے بعد ملیانہ میں پولس اور فسادیوں کا قہر شروع ہوا۔ فسادیوں کے ساتھ پولس مسلم آبادی والے علاقے میں گھس گئی۔ پہلے پتھرائو ہوا، پتھرائو میں ریلوے لائن کے پتھروں کا استعمال ہوا۔ ریلوے لائن ملیانہ سے کافی دور ہے۔ مطلب یہ کہ فسادیوں نے پہلے سے ہی پتھروں کا انتظام کر رکھا تھا۔ فساد منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت اپنے گھر کی چھت پر تھا۔ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔ گوکل لالہ کی چھت پر پی اے سی کے جوان تعینات تھے۔ وہ گولی چلا رہے تھے۔ مجھے یہ نہیں لگا کہ اتنی دور سے مجھے گولی لگ سکتی ہے۔ مجھے دو گولیاں لگیں، ایک پیٹ میں اور دوسری ہاتھ میں۔ ماحول اتنا خراب تھا اور اتنی بدحواسی چھائی تھی کہ کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کا بیٹا کہاںہے، شوہر کہاں ہے ، ماں کہاں ہے، بیٹی کہاں ہے ۔ اس کے علاوہ جو لوگ بچ کر بھاگ رہے تھے، ان پر پی اے سی ڈنڈے برسا رہی تھی۔ انتہائی کشیدہ ماحول تھا۔ کوئی فریاد بھی کر رہا تھا تو ان کی سننے والا کوئی نہیں تھا۔
پی اے سی اور پولس والوں نے تین گھنٹے کی چھوٹ دے رکھی تھی۔ ایک گائوں والے نے یہ بھی بتایا کہ یہاں بھی ہاشم پورہ کی طرح واقعہ ہوتے ہوتے بچ گیا۔ یہاںبھی پی اے سی والوں نے لائن میں کھڑا کر دیا تھا۔ ہم سات آٹھ لوگ تھے۔ ہماری کرتے اتروا کر پیچھے سے ہاتھ باندھ کر لائن میں کھڑا کرا دیا۔ پی اے سی کا ایک افسر کہہ رہا تھا کہ انہیں لائن لگا کر گولی مار دو اور نہر میں پھینک دو، لیکن لوگ گھروں سے باہر نکل رہے تھے۔ کئی لوگ وہاں آ گئے۔ ہمیں چھوڑ دیا گیا، اگر دیر ہوگئی ہوتی تو ہمیں بھی مار کر نہر میں پھینک دیتے۔
یہ سچ مچ انوکھی بات ہے ۔پی اے سی کے جوانوں نے ملیانہ اور ہاشم پورہ میں موت کا جو ننگا ناچ کیا، کیوں کیا ، کس کے کہنے پر کیا؟ کس افسر یا لیڈر نے اس کی منظوری دی تھی، کانگریس کی ریاستی سرکار کیا کر رہی تھی؟ وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ کیوں نہیں لیا گیا، افسران کو جیل کیوں نہیں بھیجا گیا؟ مرکز میں راجیو گاندھی کے وزیر اعظم رہتے ہوئے یہ سب کیسے ہو گیا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کسی ریاست میں اتنا بڑا واقعہ ہو جائے اور حکومت کو اس کا علم بھی نہ ہو؟ ملیانہ اور ہاشم پورہ کے واقعہ اور چشم دیدگواہوں کے بیانوں سے یہ صاف ہوتا ہے کہ سب کچھ منصوبہ بند تھا۔ کافی دنوں سے منصوبہ بن رہا تھا۔ نازیوں سے بھی ہولناک واقعہ کو انجام دینے والی پی اے سی اور پولس کے کسی بھی افسر کو سزا نہیں ملی، بلکہ کچھ کو تو باقاعدہ پروموشن ملا اور وہ آج بھی نوکری کر رہے ہیں۔ کیا یہی ہے سیکولر ملک کی سرکاری مشنری او رانصاف؟ کسی بھی فساد کا پچیس سال بعد مشاہدہ کرنا بے حد مشکل کام ہے۔یہ کام مزید مشکل تب ہو جاتا ہے، جب فساد کے گناہگار آزاد گھوم رہے ہوں۔ فساد کی مار سب سے زیادہ پیٹ پر پڑتی ہے۔ فسادات کے بعد ملیانہ اور ہاشم پورہ میں روزی روٹی کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ فساد کے دوران آگ زنی اور لوٹ پاٹ سے ہوئے نقصان کا اندازہ لگانا تو ویسے بھی بے حد مشکل کام ہے ۔ جلے اور لوٹے ہوئے سامان کی قیمت کا اندازہ تو لگایاجا سکتا ہے، لیکن پچیس سال سے مسلسل بہتے آنسوئوں کی قیمت لگانے کی ہمت کس میں ہے؟ عید اور رمضان میں خوشیوں کی جگہ گھروں میں ماتم کی قیمت کا اندازہ کون لگائے گا؟ حکومت نے تو حد ہی کر دی۔ چالیس ہزار روپے میں سب کچھ برابر کر دیا اور اسے ہی انصاف سمجھ لیا۔

ہاشم پورہ اجتماعی قتل عام
بائیس مئی، 1987کا وہ منحوس دن۔ کافی گرمی تھی۔ بہت سالوں بعد میرٹھ میں ایسی گرمی پڑی تھی۔ شہر میں فساد ہو رہا تھا۔ کرفیو بھی لگا تھا۔ لوگ اپنے گھروں میں ہی تھے۔ کسی کو شاید اس بات کی بھنک نہیں تھی کہ اگلے کچھ گھنٹوں میں ہاشم پور ہ تاریخ کے سب سے انتہائی سیاہ باب کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ قریب دو بجے ملٹری اور پی اے سی تلاشی لینے کے بہانے محلے میں داخل ہوئی۔ لوگ الوداع کی نماز پڑھ رہے تھے ۔ ہر گھر میں پی اے سی پہنچی اور جتنے بھی مرد تھے، انہیں گھر سے باہر آنے کو کہا گیا۔
اس واقعہ کے چشم دیدہ گواہ عثمان نے بتایا، گھر سے باہر نکالنے کے بعد انہیں بلی گلی میں لا کربٹھایا گیا۔ وہاں کافی آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ پولس نے سب کو کہا کہ چلو، ہاتھ اوپر کرو اور ہاتھ اوپر اٹھا کر ہمیں سڑک پر لاکر بیٹھا دیا گیا۔ جب ہم سڑک پر آئے تو پتہ چلا کہ پورے محلے کو ہی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بوڑھے اور بچے الگ بیٹھے اور جوانوں کی ٹولیاں الگ بنا رکھی تھیں۔ ملٹری ، پی اے سی ا ور پولس سب لوگ موجود تھے۔ میں بچوں میں پہنچ گیا۔ انھوں نے کہا کہ بوڑھے اور بچوں کو چھوڑ دیں گے۔ جب نوجوانوں کو بھیج دیا گیا، تو بوڑھوں اور بچوں کا نمبر آیا، تو مجھے اس میں سے چھانٹ لیا گیا۔ مطلب جو تگڑا دکھا ئی دیا، اسے ایک طرف نکال لیا۔ جب ہم کھڑے ہوئے تو وہاں سینکڑوں لوگ کھڑے تھے۔ میرے آگے جو چار پانچ لوگ کھڑے تھے، ان کو میں جانتا تھا۔ وہ محلے کے ہی تھے۔ ایک حاجی مستقیم ، ایک آرٹی اودفتر کے یٰسین ، ایک سلیم اور قدیر چائے والا۔ یہ سب میرے آگے کھڑے تھے۔ قریب رات کے آٹھ ساڑھے آٹھ بجے کا وقت ہوگیا تھا۔ ہمیں چھانٹ کر ایک طرف کھڑا کیا گیا اور پی اے سی کا ٹرک منگایا گیا۔ ہم سے کہا کہ اس میں چڑھو۔ تالا کھولا اور اس میں ہمیں بھیڑ ، بکریوں کی طرح بھر لیا۔ بھرنے کے بعد، ہم اس ٹرک میں پچاس ، پچپن سے کم لوگ نہ تھے اور پورا ٹرک بھرا ہوا تھا۔ پی اے سی والے رائفلیں لے کر پیچھے کھڑے ہو گئے اور ہمیں نیچے بیٹھا دیا۔ ہم پر ڈنڈے برسائے گئے کہ مڑ کر مت دیکھو، آگے دیکھو۔ ٹرک چلتا رہا اور کافی دیر تک چلتا رہا۔ ہمیں پتہ نہیں کہ ٹرک کس سمت میں جا رہا تھا۔ یہ بھی پتہ نہیں کہاں جا رہا تھا۔ کافی دیر بعد ٹرک رک گیا۔ ٹرک مراد نگر کی گنگ نہر پر جا رکا۔ وہاں بڑا سا پیڑ دکھائی دیا، جو آم کا تھا۔ پاس میں کھجور کے پیڑ تھے۔ پی اے سی والے اتر گئے۔ کسی نے کہا کہ ٹرک کی لائٹ بند کر دو۔ پھر ایک آدمی کو اتارا اور اسے گولی مار دی۔ ہمیں سمجھ میں آ گیا کہ اب سب کو ماریں گے، کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔اس کے بعد انھوں نے ایک اور آدمی کو نیچے اتارا اور اسے بھی گولی مار دی۔ مرنا تو اب بھی تھا اور مرنا جب بھی تھا۔ ہم نے سوچا کہ مر تو رہے ہیں، کیونکہ نہ ٹرک سے کود جائیں ۔ جیسے ہی ہم کھڑے ہوئے تو انھوں نے ٹرک کے اندر رائفل سے گولیاں چلانا شروع کر دیں۔ بے دریغ گولیوں کی بارش ہوگئی۔ لیکن میں اس میں بچ گیا۔ میرے دونوں جانب کے لوگوں کو گولی لگی تھی۔ تب ایک پی اے سی جوان چڑھا اور اس نے ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور نیچے اتارا۔ میں نے بھاگنے کی کوشش کی تو دو آدمی آ کر کھڑے ہو گئے اور مجھے پکڑ لیا۔ میں نے کہا، مت مارو مجھے، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ وہ نہیں مانے ۔ جیسے ہی وہ مجھے مارنے کے لئے آگے بڑھا ، میں نے ایک ہاتھ چھڑا کر رائفل کا منھ پکڑ لیا ۔ انھوں نے میرا ہاتھ موڑ کر پیچھے کو دبا دیا اور گولی چلا دی۔ گولی میرے پیٹ کو پار کر گئی۔ میرے منھ سے ہائے اللہ نکلا اور میں نیچے گر پڑا ۔ اس کے بعد ان میں سے ایک نے کہا کہ اسے پانی میں پھینک دو۔پھر دو آدمیوں نے ہاتھ پکڑے اور ایک نے ٹانگ ،ابھی وہ مجھے کھینچ کر پانی میں پھینک ہی رہے تھے کہ دوسری گولی میری ٹانگ میں لگ گئی۔ پانی میں گرنے سے پہلے ہی پانی نے مجھے اٹھا دیا۔ میں نے تیرنے کی کوشش کی، لیکن مجھ سے تیرا نہیں گیا۔ میں پانی میں آگے کی جانب بڑھنے لگا اور کنارے لگ گیا۔ گھاس کے سہارے لٹکا رہا۔ پی اے سی والے پانی میں گولیاں مار رہے تھے۔ گرنے کی آوازیں آ رہی تھیں اور گولیوں کی بھی۔ جب کافی دیر ہو گئی تو میں نے دیکھا کہ اب کسی چیز کی آواز نہیں ہے ، نہ گولی کی ، نہ پانی میں گرنے کی ، جس کا مطلب تھا کہ وہ چلے گئے تھے۔ میں نے پانی سے نکلنے کی کوشش کی۔ دو ہاتھ اور ایک ٹانگ کام کر رہے تھے۔ میں نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ جب میں نکل کر اوپر آ گیا تو میں نے دیکھا کہ دو لڑکے اور زخمی حالت میں پڑے ہیں ، جنہیں گولی لگی تھی اور وہ کراہ رہے تھے۔ اس کے بعد وہاں دو لڑکے اور آتے ہیں ، جو اسی ٹرک کے تھے ۔ اس میں ایک لڑکا ذوالفقار تھا اور دوسرا نعیم ۔ دونوں ہمارے ہی محلے کے تھے۔ ان میں سے ایک کے پیٹ میں گولی نکلی تھی اور ایک صاف بچا ہوا تھا۔ ہم سے چلا نہیں جا رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم تینوں کو تو ایک ساتھ نہیں لے جا سکتے۔ لہٰذا گائوں سے لوگوں کو اٹھانے کے لئے لاتے ہیں۔ وہ گائوں پہنچے یا نہیں پہنچے، مجھے نہیں معلوم۔ دو گھنٹے گزر گئے لیکن وہ نہیں آئے۔ کافی دیر ہو چکی تھی اور الوداع کا دن تھا، نقارہ ہوتا ہے دو ڈھائی بجے کے وقت۔ نقارے کی آواز آئی تو میں نے سوچا کہ یہاں آس پاس میں کوئی مسلمانوں کا گائوں ہے۔ صبح کوئی آئے گا تو لے جائے گا اٹھا کر ۔تھوڑی دیر بعد سامنے سے روشنی چمکی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا چیزتھی ، ٹرک تھا ، کار تھی، بلٹ تھی یا اسکوٹر۔ میرے برابر میں آئی تو میں نے ہاتھ دیکر روک لیا۔ جب انہیں روکا تو پتہ چلا کہ وہ دروغہ تھا۔ اس کے پیچھے دو لوگ اور سوار تھے۔ دروغہ نے کہا کہ کیا ہے بے۔ میں نے کہا کہ مجھے پی اے سی والوں نے گولی مار کر نہر میں پھینک دیا، بچ کر اوپر آیا ہوں۔ تو انھوں نے آس پاس دیکھا اور کہا کہ بیٹا گھبرائو مت میں تجھے ابھی اٹھا کر لے جائوں گا۔ اس نے ایک آدمی کو بلٹ سے بھیج دیا اور کہا کہ تھانے میں کھڑی جیپ لے آئو ۔ پھر جیپ آئی ۔ ہم سب کو جیپ میں ڈال لیا گیا۔ باقی لوگ بے ہوش تھے،میں ہوش میں تھا۔ پولس والوں نے کہا کہ بیٹا، مجھے امید ہے کہ تو بچ جائے گا۔ تم پی اے سی والوں کا نام مت لینا۔ میں نے کہا ، اور کیاکہوں ؟ تو انھوں نے کہا کہ تم کہنا کہ میں گیٹ کے پاس اپنے بھائی کو دیکھنے گیا تھا ، وہاں فساد ہوا، مجھے گولی لگ گئی۔ تب کسی چیز میں مجھے ڈالا اور لے جا کر پانی میں پھینک دیا۔مجھے پانی میں ہوش آیا اور میں نکل کر باہر آ گیا تو پتہ چلا کہ یہ مراد نگر کی گنگ نہر ہے۔وہاں سے پولس مجھے اٹھا کر لائی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ یہی بیان دیتا رہا تو تیری جان بچ جائے گی۔ ہم تجھے اسپتال لے جا رہے ہیں۔ وہ مجھے اسپتال لائے، میرا علاج کرایا۔ پھر دلی کے ایمس میں بھیج دیا، وہاں ایک مہینہ علاج چلا ۔ ایک مہینے بعد میں واپس آ گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here