ایران میں احتجاج کے دوران 208 مظاہرین ہلاک، 7 ہزار گرفتار: رپورٹ

Share Article

اقوام متحدہ میں ایران میں حالیہ ہفتوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایران میں 208 مظاہرین ہلاک اور کم سے کم سات ہزار کو حراست میں لیا گیا ہے۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایران میں گذشتہ ماہ کے وسط میں عوامی مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم از کم 7,000 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے حراست میں لیے گئے افراد کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں ایک “مصدقہ ویڈیو” ملی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ ایران کے سیکیورٹی اداروں کے اہلکار منظم منصوبے کے تحت مظاہرین کو نشانہ بنا رہے تھے۔’یو این ایچ سی آر‘ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے پاس ایسی اطلاعات موجود ہیں جن میں بتایا گیا تھا کہ بدامنی کے دوران کم از کم 208 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ تعداد انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ذریعہ فراہم کردہ ہلاکتوں کی تعداد سے مماثلت رکھتی ہے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ نے کہا کہ ان کے دفتر سے حاصل کردہ ویڈیو میں مظاہرین کے خلاف انتہائی تشدد کا استعمال دکھایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسی فوٹیج بھی ملی ہے جس میں سیکیورٹی فورسز کومظاہرین پر مہلک تشدد کرے دکھایا گیا۔ سیکیورٹی اہلکار مظاہرین پر فائرنگ کررہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز براہ راست مظاہرین پر گولیاں چلاتی اور انہیں نشانہ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ ایران میں گذشتہ ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 200 فی صد اضافے کے خلاف پورے ملک میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ ایرانی حکومت نے مظاہرین کو منتشر کرنیکے لیے ان کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں۔ ایران کے لیے امریکی خصوصی ایلچی برائن ہک نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پولیس اور فوج نے احتجاج کے دوران ایک ہزار مظاہرین کو ہلاک کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *