بہار میں سرکار اور ضلع انتظامیہ کے خلاف خواتین کا غصہ پھوٹ پڑا

Share Article

پورنیہ ڈویژن تحت ویر پور پنچایت کے وارڈ نمبر6میں ڈیڑھ سال گزر جانے کے بعد بھی خدمت گزار کی بحالی نہیں ہونے سے ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ کے خلاف متحد ہوکر درجنوں خواتین ڈویژن پروجیکٹ آفس پہنچی۔

 

 

پٹنہ ہائی کورٹ کے جج لیتے ہیں پڑوسی کے گھر سے پانی

 

پورنیہ ڈویژن تحت ویر پور پنچایت کے وارڈ نمبر6میں ڈیڑھ سال گزر جانے کے بعد بھی خدمت گزار کی بحالی نہیں ہونے سے ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ کے خلاف متحد ہوکر درجنوں خواتین ڈویژن پروجیکٹ آفس پہنچی۔ لیکن پروجیکٹ آفسمیں سی ڈی پی اوسے ملاقات نہیں ہونے پر خواتین کا غصہ پھوٹ پڑا۔ خواتین کا الزام تھا کہ 2017 میں بحالی کے لئے درخواست کیا گیا ہے، لیکن محکمہ جاتی غفلت کی وجہ سے اب تک خدمت گزار کی بحالی نہیں کیا گیا ہے۔ اس معاملے کو لے کر ڈویژن سے ضلع ہیڈکوارٹر تک چکر لگا کر تھک چکے ہیں۔ لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے۔ ابھی ہم لوگ پٹنہ جاکر بہار کے گورنر اور وزیر اعلی سے ملاقات کریں گے۔ درخواست گزار چادني کماری نے بتایا کہ سال 2017 میں ویر پور پنچایت کے وارڈ نمبر چھ میں خدمت گزار سهايكا بحالی ہونی تھی۔ خدمت گزار عہدے کے لئے ہم نے بھی درخواست کی تھی۔

 

 

دہلی میں گایوں کے لئے بنیں گے پی جی ہاسٹل

 

جس وارڈ نمبر سات کے باشندے برداشت کمار کی بیوی كبیتا کماری سمیت سات خواتین نے درخواست دی تھی۔ انتخاب کے لئے عام سبھا بلایا گیا۔ عورت پريوےكشكا اور وارڈ سدسيہ دونوں مل کر وارڈ سات اوےدكا كبیتا کماری کو منتخب کرنے کے لیے تیار ہو گئی۔
عام سبھا میں موجود دیہاتیوں نے دستور العمل کی بنیاد پر منتخب کرنے کو کہا تو عورت پريوےكشكا اور وارڈ سدسيہ آپس کچھ بات چیت کر سهايكا کی بحالی کر عام سبھا کو رد کر دیا۔ دستور العمل کے مطابق وارڈ رکن کے غائب میں عام سبھا بطور صدر مان کر بحالی کئے جانے کی اجازتہے۔عورت پريوےكشكا اور وارڈ رکن کویتاکماری کو خدمت گزار عہدے پر انتخاب کرلیاہے جبکہ دستور العمل کے مطابق کسی صورت میں دوسرے وارڈ کے لوگوں کو منتخب نہیں ہو سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *