دلی میں کانگریس کے لیے شیلا دکشت کیوں ہے ضروری؟

Share Article

دہلی میں 15 سال تک مسلسل وزیر اعلی رہیں شیلا دکشت کے ہاتھوں میں ایک بار پھر کانگریس کی دلی ریاست کمان سونپی دی ہے۔ شیلا دکشت کو ریاستی صدر بنانے کے پیچھے کانگریس کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

 

 

شیلا دکشت کو دہلی کانگریس صدر کی کمان ایک بار پھر سونپی گئی ہے۔ اس کے پیچھے کانگریس کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سیاسی مساوات جہاں ان کے حق میں ہے وہیں ان کے پاس 15 سال کے کام کا تجربہ بھی ہے۔دہلی میں 15 سال تک مسلسل وزیر اعلی رہیں شیلا دکشت کے ہاتھوں میں ایک بار پھر کانگریس کی دلی ریاست کمان سونپی دی ہے۔ شیلا دکشت کو ریاستی صدر بنانے کے پیچھے کانگریس کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ شیلا میں ایک ساتھ کئی خوبیاں ہیں، وہ پنجابی ہیں اور پوروانچلي بھی ہیں۔اس کے ساتھ خاتون اور برہمن تو ہیں ہی۔ اتنا ہی نہیں آج بھی دہلی میں کانگریس کے باقی رہنماؤں میں ان کی مقبولیت زیادہ دیکھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 80 سال کے عمر کے پڑاؤ پر ہونے کے باوجود شیلا دکشت کانگریس کے لئے دہلی میں ضرورت بن گئی ہیں۔

 

 

دراصل 1998 سے پہلے تک دہلی میں بی جے پی کا دبدبہ تھا، جسے خلاف ورزی کرنے کیلئے کانگریس نے ریاستی صدر کی کمان شیلا دکشت کو دیا تھا۔ پارٹی اعلی کمان کا یہ داؤ کام آیا۔ کانگریس کا بن باس ختم ہوا اور شیلا دیکشت وزیر اعلی بنیں۔ ان کا جادو پورے 15 سال چلا۔ 2013 میں اروند کیجریوال دہلی والوں کا دل جیتنے میں کامیاب رہے۔

 

 

انا ہزارے اور کیجریوال نے کرپشن پر یو پی اے حکومت کے خلاف تحریک کھڑا کیا اور نربھیا معاملے نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا تھا۔ اس کے علاوہ یو پی اے حکومت کے خلاف کھڑی ہوئی اقتدار مخالف لہر میں شیلا حکومت بھی پھنس گئی اور اقتدار ان کے ہاتھ سے پھسل گئی۔ ایسے میں کانگریس نے اروندر سنگھ لولی سے لے کر اجے ماکن تک کو آزمایا، لیکن کیجریوال کے سامنے چیلنج نہیں بن سکے۔ اب ایک بار پھر پارٹی نے دو دہائی کے بعد شیلا کو پارٹی کی کمان سونپی گئی۔ دہلی میں اروند کیجریوال نے کرسی پر بیٹھتے ہی بجلی کے بل اور پانی بل معاف کر دیا۔ لیکن ان دونوں کے ذریعے بہت لمبی دوری طے نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ کیجریوال نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں قدم بڑھا ہے، لیکن مرکزی حکومت کے ساتھ جس طرح سے کجریوال حکومت کی تصادم کی صورت حال رہی ہے، اس کا خمیازہ دہلی کے عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔یہ بات کیجریوال کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہی۔ اس کے چلتے دہلی کے لوگوں نے کیجریوال کو بہت زیادہ پسند نہیں کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *