ورون گاندھی نے ملایا راہل کے سر میں سر، امیروں کو ریوڑی اور کسانوں کو کوڑی

Share Article
varun gandhi

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ ورون  گاندھی نے ملک کے کسانوں کی حالت پر افسوس ظاہر کی کہ1952سے لے کر 2019تک ملک کے100سرمایہ داروں کو جتنا پیسہ دیا گیا، اس رقم کا صرف17فیصدی رقم ہی مرکز اور ریاستی سرکاروں کی طرف سے کسانوں کو دیا گیا ہے۔ ملک میں جب بھی کسانوں کو اقتصادی مدد دینے کی بات آتی ہے تو ہاہاکار مچ جاتا ہے۔

 

لالو کی بیٹی ہے، اسے راون کی بہن بنادیا

 

کانگریس صدر راہل گاندھی کسانوں کے مدعے پر وزیراعظم نریندر مودی کو لگاتار گھیر رہے ہیں۔ اس سے بی جے پی بیک فٹ پر ہے۔ ایسے میںبی جے پی ممبر پارلیمنٹ ورون گاندھی نے بھی اپنے بھی راہل گاندھی کے سر میں سر ملاتے ہوئے کہا کہ سال1952سے لے کر 2019تک ملک کے 100سرمایہ داروں کو جتنا پیسہ دیا گیا، اس رقم کا صرف17فیصدی رقم ہی مرکز اور ریاستی سرکاروں سے کسانوں کو اقتصادی مدد کے طورپر اب تک ملا ہے۔اس سے زیادہ شرمناک بات اور کیا ہوگی۔
انڈیا ڈائلاگ پروگرام میں لوگوں کو مخاطب کرتےہوئے ورون گاندھی نے ملک کے کسانوں کی حالت پر افسوس ظاہر کیا۔ ورون نے کہا کہ ملک میںکسانوں کو زیادہ تر یوجنائوںکا فائدہ نہیںمل رہا ہے۔ ملک میںجب بھی کسانوں کو اقتصادی مدد دینے کی بات آتی ہے تو واہ ویلا مچ جاتا ہے۔

 

تین لاکھ لوگوں کے لیے بی جے پی نے پکائی کھچڑی، ایک ہزار بھی جمع نہ کر پائے کارکن

 

ورون نےکہاکہ سال1952سے لے کر2019تک ملک کے100سرمایہ داروں کو جتنا پیسہ دیا گیا اس رقم کا صرف17فیصدی رقم ہی مرکز اور ریاستی سرکاروںکی طرف سے کسانوں کو اب تک دی گئی۔ یانی ملک کی 70فیصدی آبادی کو بیتے67سالوں میںجتنا مدد اقتصادی مدد راست اور مرکزی سرکاروںنے مل کر دی ہے، اس سے کئی گنا زیادہ پیسہ صرف 100امیر پریواروںکو دے دیا گیا۔

 

نتیش کمار بی جے پی کا ساتھ نہیں دیں گے

ورون گاندی نے کہا کہ ملک کے کسانوںکی ایسی حالت کیوں ہے؟ اس سمجھنے کےلیے میں بتاتاہوں کہ ملک میں ہونے والے کل پھل کی پیداوار کا56فیصد شروعات 96گھنٹے میں اچھی کولڈ اسٹوریج میں سڑ گل جاتا ہے۔ صرف اترپردیش میںہر سال 2000ٹن پیداوار ہوتا ہے اور یہ گزشتہ 15سالوں سے ہورہاہے۔ مگر ریاست میں کل کولڈ اسٹوریج کی صلاحیت 70سے100ٹن ہے جس فائدہ صرف بڑے کسانوں کی مل پاتاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *