غلطی سے دی گئی سزا پر ڈیڑھ کروڑ کا ہوا فائدہ 

Share Article

ایک شخص کو غلطی سے تقریباً پچیس سالوں تک جیل میں رکھا گیا۔ اس پر اٹھارہ سال کی ایک خاتون کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا لیکن وہ ہمیشہ خود کو بے قصور بتاتا رہا۔ آخر کار اسے بے قصور قرارد دیتے ہوئے چار کروڑ 67 لاکھ روپے ہرجانے کے طور پر دینے کا حکم کورٹ نے دیا ہے۔
یہ معاملہ چین کاہے۔ اب پچاس سال کے ہو چکے لیؤ جھونگلن کو تقریبا دو کروڑ روپے نفسیاتی نقصان پہنچانے کے لئے ملے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ، لی او ان انٹرمیڈیئٹ پیپلس کورٹ نے اس شخص کو ہرجانہ ملنے کا حکم دیا ہے۔ لیؤ اور اس کے وکیل نے تقریبا چار گنا زیادہ رقم کی مانگ کی تھی۔ ایسا مانا جارہاہے کہ لیؤ چین میں غلط طریقے سے سب سے لمبی سزا پانے والا آدمی بن گیاہے۔ وہ تقریبا 9217کل دن جیل میں رہا۔
لیؤ کو اکتوبر 1990 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تب وہ صرف بائیس سال کا تھا۔ ہوئیمین گاؤں کی ندی میں ایک اٹھارہ سال کی عورت کی لاش ملی تھی اسی کیس میں اسے ملزم بنایا گیاتھا۔بعد میں لیؤ کو عورت کے قتل کا قصوروار بھی قرار دیا گیا۔ اسے پہلے موت کی سزا سنائی گئی لیکن بعد میں سزا عمر قید میں بدل دی گئی۔ پہلی بار اسے جنوری 2016 میں چھوڑا گیا تھابعد میں اپریل 2018 میں ثبوتوں کے فقدان میں بری کیا گیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *