نابالغ طالبہ نے اسکول میں بیٹی کو دیا جنم 

Share Article
اڑیسہ کے کندھمال ضلع میں آدیواسی رہائشی اسکول میں ایک نابالغ طالبہ نے اپنے ہاسٹل میں ایک بچی کوجنم دیاہے۔اس واقعہ کے بعد انتظامیہ نے 6ملازمین کے خلاف اتوارکوکارروائی کی ہے۔اطلاعات کے مطابق طالبہ اوربیٹی کواسپتال میں داخل کرایاگیاہے،جہاں دونوں کی حالت مستحکم ہے۔ذرائع کے مطابق نابالغ طالبہ نے اسکول میں بچی کو جنم دیا اور اس بات کو اسکول انتظامیہ نے چھپانے کی بھی کوشش کی۔ تاہم یہ شرمناک معاملہ سامنے آتے ہی انتظامیہ نے جانچ شروع کردی ہے اور اس سلسلے میں 6 ملازمین کو معطل کردیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق جب یہ طالبہ 8 مہینے پہلے اپنے گھر گئی تھی تو اس کی آبروریزی کی گئی تھی۔ ایک کالج طالب علم پر اس کا الزام عائد کیا گیا ہے۔کندھمال ضلع فلاح وبہبود افسر چارولتا ملک نے کہاکہ ’’آٹھویں جماعت میں پڑھنے والی 14سالہ طالبہ نے ہفتہ کواسکول ہاسٹل میں بچی کوجنم دیا‘‘۔
ذرائع کے مطابق ،لڑکی نے اتوارکوالزام لگایاکہ بچی کوجنم دینے کے تھوڑی دیربعد ہی دونوں کو ہاسٹل سے باہرکردیاگیا اوراسے نزدیک کے ایک جنگل میں پناہ لینے کیلئے مجبورہونا پڑا۔ملک اورمقامی پولس نے اتوارکودونوں کوڈھونڈا اورانہیں اسپتال لے گئے۔مقامی لوگوں نے پولس کواطلادی تھی۔مقامی لوگوں نے دھرنا دیا اورقومی شاہراہ 59کوجام کردیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مجرموں کوفوراً گرفتارکیا جائے اوراسکول کی پرنسپل اورہاسٹل وارڈن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اس سلسلہ میں کندھمال کے ایس پی پرتیک سنگھ نے کہا کہ لڑکی 7۔8 مہینے پہلے اپنے گھر گئی تھی ، جہاں کسی مقامی نوجوان نے اس کی آبروریزی کی۔ نابالغ طالبہ نے بچی کو جنم دیا ہے۔ سرکاری ڈاکٹر اس کا خیال رکھ رہے ہیں۔ اس معاملہ پر ایس سی 150 ایس ٹی کے وزیر رمیشن چندر ماجھی نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کلکٹر سے رپورٹ طلب کی ہے۔ خبروں کے مطابق آبروریزی کے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *