سی بی آئی کو کان کنی شعبہ کے بابو گھر سے ملے دو کروڑ، جانیے پورا معاملہ ہے کیا

Share Article
B.Chandra Kala IAS

یوپی میں کان کنی گھوٹالے کی جانچ کرر ہی سی بی آئی نے حمیر پور میں کلرک رہے رام اوتار کے گھر سے دو کرور روپے کیش برآمد کئے ہیں۔ اتنی بڑی رقم ملنے سے سی بی آئی بھی حیران ہیں۔

 

کڑاکے کی ٹھنڈ میں آپ کو ٹرین سے سفرکرنا تھوڑا بھاری پڑسکتا ہے، جانیں کیوں؟

 

نئی دہلی: یوپی میںہوئے کان کنی گھوٹالے میں چھاپے ماری کے دوران سی بی آئی نےکافی کچھ برآمد کیا ہے۔ آئی اے ایس بی چندر کلا کے لکھنؤ والے فلیٹ سے جہاں لآکر اور کئی دستاویز برآمد کیے وہیں حمیر پور کے کان کنی شعبہ میں کلرک رہے رام اوتار کے گھر سے دو کروڑ روپے نقد برآمد کیے ہیں۔ اتنی بڑی نقدی ملنے سے سی بی آئی بھی حیران ہیں۔ جب چندر کلا حمیر پور میں ضلع مجسٹریٹ رہتے ہوئے آئی اے ایس بی چندر کلا نے دس مختلف لوگوں کے ساتھ مل کر مجرمانہ سازش رچتے ہوئےغیر کان کنی ہونے دیا۔ دو جنوری کو سی بی آئی کے ڈپٹی ایس پی کے پی شرما کی طرف سے درج مقدمے میں بی چندرکلا سمیت 11ملزموں کو کریمنل کانسی پیریسی میں شامل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ اس ایس پی اور بی ایس پی کے دو لیڈر سمیت کئی بابو اور دلال بھی شامل ہیں۔ ذرائع بتا رہے ہیں کہ 2012سے2016کے بیچ ہوئے اس گھوٹالے کا پورا سچ جاننے کے لیے سی بی آئی جب سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو سے بھی پوچھ تاچھ کر سکتی ہے۔ اس وجہ سے کہ سال 2012سے2013کے بیچ اکھلیش یادو نے کان کنی شعبہ اپنے پاس رکھا تھا۔ بعد میں انہوں نے گایتری پرساد پرجاپتی کو کان کنی وزیر بنایا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *