5ہزارروپے کا قرض نہیں اداکرنا پڑامہنگا،اسپتال میں داخل

Share Article
knife-demo
بینک کا قرض اداکئے بغیرملک سے بھاگ جانے کے بارے میں تو ہم بہت سالوں سے سنتے چلے آرہے ہیں ۔لیکن آج جو معاملہ سامنے آیا ہے اس میں نہ تو شخص نے بینک سے قرض لیا تھا نہ ہی وہ ملک چھوڑکر بھاگا تھا لیکن اس کا قرض لینا دنیا چھوڑنے کا سبب بنتے بنتے رہ گیا۔
دراصل، آندھرا پردیش کی دارالحکوت حیدرآباد کی سڑکوں پر ایک شخص کو چاقو سے مارکر زخمی کر دیا گیا۔معاملہ یہ تھا کہ اس شخص نے ایک سال پہلے حملہ کرنے والے شخص سے 5000روپے کا قرض لیا تھا ،او ر وہ اب تک قرض ادا نہیں کرپایا تھا ،اس وجہ سے اس پر جان لیوا حملہ کیا گیا ۔حملے کاشکار ہوئے شخص کا نام فرید بتایا جا رہا ہے۔صدام نامی شخص نے جب اس سے اپنے پیسے مانگے اور اس کو پیسے واپس نہ ملے تو اس نے فرید نامی شخص پر چاقو سے حملہ بول دیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ چاقو سے کئی بار حملہ کیا۔
یہ حادثہ شہر کے آصف نگر پولیس تھانے کے پاس ہوا ہے۔آصف نگر تھانے کے سرکل انسپکٹر رویندر نے حادثہ کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ بدھ کوصدام اپنے2 دوستوں کے ساتھ کسی دوسری جگہ سے اپنے گھر کو واپس لوٹ رہا تھا۔اسی دوران وہ تینوں راستے میں ایک جوس کی دکان پر رکے ،اسی جگہ پر صدام کا سامنا فرید سے ہوگیا جس کو اس نے ایک سال پہلے5000روپے کا قرض دیا تھا۔پھر کیا تھا صدام نے فرید سے اپنے پیسے مانگنے لگا۔لیکن جب پیسے نہیں ملے تو ان دونوں کے بیچ بحث شروع ہوگئی اور بحث بڑھتے بڑھتے ہاتھاپائی تک جا پہنچی ۔اسی دوران صدام نے فرید کے پیٹ میں چاقو سے کئی حملہ کردئے۔فرید پر چاقو سے کئی حملے کے بعد صدام وہاں سے فرار ہوگیا۔اس کے بعد کچھ لوگوں نے مل کر فرید کو پاس کے آصف نگر تھانے میں پہنچایا جہاں سے فرید کو عثمانیہ اسپتال میں علاج کے لئے داخل کرا دیا گیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق حملے کاشکار ہوا شخص کی حالت خطرے سے باہر ہے لیکن اس کا ابھی علاج چل رہا ہے۔پولیس نے بتایا کہ آئی پی ایس کی دفعہ 307کے تحت صدام کے خلاف معاملہ درج کرلیا گیا ہے اور پولیس اس کی تلاش میں لگ گئی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *