کیا بی جے پی کےپاؤں تلے زمین واقعی کھسک رہی ہے؟

Share Article
narendra modi

ہندوستان میں دو ایسی اہم شخصیا ہیں جن سے کوئی اختلاف تو کرسکتا ہے مگر انہیں نظرانداز نہیں کرسکتا۔ ایک ہیں ظفر سریش والا تو دوسری ششی تھرور۔ دونوں کا تنظیمی طورپر جی جے پی سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر اول اکذکر نریندر مودی نواز ہیں تو آخر الذکر نریندر مودی مخالف دلچسپ بات یہ ہےکہ ابھی حال میںمعروف انگریزی پورٹل دی پرینٹ نے ان دونوں کے خود تحریر کردہ مضامین شائع کیے ہیں جنہیںپڑھ کر محسوس ہوا تاہےکہ اب بی جے پی کے پائوں تلے زمین واقعی کھسک رہی ہے۔
آیئے اب دونوں کے رجزیوں پر بات کریں۔ ظفر سریش والا26دسمبر کے اپنےمضمون میں صساف طورپر کہتےہیں کہ بی جے پی تو زمین کھو چکی ہےاور چیزیں نریندر مودی کےہاتھوں سے باہر نکل رہی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتےہیں کہ ’’میں وزیراعظم نریندرمودی سے تقریباً13برسوں سے بہت قریب رہاہوں۔ حالانکہ مری وابستگی پی ایم نہیں رہا۔ سچ تو یہ ہےکہ میںکبھی گجرات یا دہلی میں اس کے پارٹی تک نہیں گیا۔ مگر میں بی جے پی کی اعلیٰ قیادت سے اس وقت ضرور آشنا ہوگیا۔

 

ایچ ڈی دیوگوڑا نے کہا کہ میں بھی اکسیڈینٹل پرائم منسٹرتھا

 

جب وہ لوگ مری تنظیم کے تعلیم و تربیت پروگرام میں مہمان خصوصی کے طورپر آئے۔ ان میں ارون جیٹلی، راجناتھ سنگھ اور پیوش گوئل و دیگر شامل تھے۔ متعدد بی جے پی حکومت والی ریاستوں نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے کیمپس بنانے کے لیے زمیند ینے سے اتفاق کیا ہے۔ جس کا ہر حال میں فائدہ مسلمانوں کو ملے گا۔‘‘
سریش والا مودی کی شخصیت کو کلین چیٹ دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ بی جے پی سے متعلق کچھ باتیں انہیں ڈسٹرب کرتی ہے۔ بی جے پی کے انتہا پسند عناصر آج مکمل طورپر قابو میں نہیں ہے۔ یہ جو عناصر آج ابھر ے ہوئے ہیں۔2014میں اس حالت میں نہیں تھے۔ یہ وہ عناصر ہیںجو کہ بی جے پی کے جہاز کو لے دوبیں گے بہت ہی سینئر بی جے پی لیڈر سے یہاں تک کہا کہ میں بی جے پی کے بزنس ماڈل کو سمجھنے کی جدو جہد کرتا ہوں۔ اگر بی جے پی حکومت ایک منجھے ہوئے بزنس مین کی طرح ہوتی تو اس پارٹی کی حکمت عملی قطعی مختلف ہوتی۔ مذہب کی طرح چیزیں ایک بنیادبزنس مین کے اپروج میں کبھی بیچ میں نہیں آتی ہیں کیونکہ اسے معلوم ہے کہ پیسہ کا کوئی رنگ نہیں ہوتا ہے۔

 

کیوں تیمور سے فلم سمبا کا پرموشن کرانا چاہتے ہیں روہت شیٹی

اسی طرح ووٹ کا بھی کوئی رنگ نہیں ہوتا۔جب میں برطانیہ میںتھا تب والمارٹ اور ٹیسکو کی طرح کے اسٹورس پہلے حلال گوشت نہیں رکھتے تھے لیکن انہوں نے بعد میںیہ محسوس کرلیا کہ کم تعداد میںہونے کے باوجود ملسم کمیونٹی بھی ان کا ٹارگیٹ ہونا چاہئے۔ لہٰذا انہوں نے اپنی پہنچ کو وسیع کیا اور پھر حلال گوشت رکھنے لگے۔ دراصل یہ وجہ ہے کہ میں یہ کہتاہوںکہ بزنس کا کوئی مذہب نہیںہوتا۔ لیکن آج بی جے پی ہندوستان کی تقریباً15تقریباًمسلم آبادی کو نظر انداز کررہیہے۔ اس سے صرف بی جے پی کو ہی نقصان ہوگا۔ پی ایم مودی کو یہ ماننا چاہئے کہ یہ وہ سب نہیں ہے جس کے لیے 2014میں عوام نے انہیں ووٹ دیاتھا۔
جہاں تک ششی تھرور کا معاملہ ہے وہ کانگریس لیڈر کے علاوہ ایک دانشور بھی ہیں۔ وہ 2جنوری کو اپنی تحریر میں کہتے ہیں کہ 2019کو خوش آمدید نریندر مودی کو الوداع انکا کہنا ہے کہ مثال کے طورپر اتر پردیش میں بی جے پی نے 71سیٹیں جیتی۔ تب پی ایم مودی کے نوکریاں دینے کے وعدوں میں عوام کا یقین ہوچلا تھا۔ ان کےکہئے گئے کوئی بھی وعدے پورے نہیںکیے گئے۔ اس کی وجہ سے وہ کشش ختم ہوگئی۔ اچھے دن نہیں آئے۔ مودی کی لہر خمت ہوگئی۔ اس لیے کوئی بھی وہ نوجوان بی جے پی کو اس بار ووٹ نہیں دینے جارہا ہے جو نوکریوںکا منتظر تھا جب کہ 2014کی طرح اس بار اپوزیشن اپنے ووٹ کو تقسیم ہونے نہیں دے گی۔مایاوتی جنہیں اس قت 19.6فیصد ووٹ ملا تھا، وہ ایک بھی پارلیمانی سیٹ حاصل نہیں کرپائی تھیں جب کہ اس بارو ہ بھی اکھلیش کی سماجوادی پارٹی اور اجیت سنگھ کے لوک دل سے اتحاد کرکے آئندہ پارلمانی انتخابات کی منتظر ہیں۔ اس اتحاد میںکانگریس کی بھی 10فیصد حمایت کو جوڑ لیجئے۔ یوپی میں اتحاد کی اس صورتحال سے بی جے پی کو دس سیٹیں بھی مل سکیں تو وہ خوش نصیب ہوگی۔

 

پٹنہ میں بڑی ریلی کرکے طاقت دکھائے گی این ڈی اے 

 

ہندوی خطہ میں صورتحال تو اور بھی زیادہ خراب ہے۔ 2014کےپارلمانی انتخابات بی جےپی کو راجستھان میں 25اترا کھنڈ میں 5دہلی میں سبھی 7ہماچل پردیش میں سبھی 4مدھیہ پردیش میں 29میں سے 27ہریانہ میں 10میں 7چھتیس گڑھ میں 11میں سے 10اور جھارکھنڈ میں 14میں سےایک درجن سیٹیںملی تھیں۔ اندازے مطابق بی جے پی ان 8ریاستوں میں 105سیٹوں میں سے مشکل سے 45سیتیں نکال پائے گی۔ اتنا ہی نہیں۔
بہار میں اسے 2014میں40سیٹوں میں سے 22سیٹیں حاصل ہوئی۔ جب کہ اس بار یہ ایک درجن سے زیادہ نہیں لاسکتی ہے اور وہ بھی جے ڈی یو سے اتحاد کے سبب۔ گجرات میں یہ سبھی 26سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی۔
ان دونوں شخصیات کے یہ ذاتی خیالات اور اندازے ہیں۔ لہٰذا یہ کتنا صحیح یا غلط ثابت ہوتےہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتاپائے گا مگر یہ بات تو ہے ہی کہ بی جے پی 2014کی ناقابل چیلنج میں نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *