یوپی میں ایس پی اور بی ایس پی سے اتحاد نہیں ہوا تو کانگریس کا پلان-بی تیار

Share Article
akhlesh, mayawati and rahul

یوپی میں ایس بی ایس پی اتحاد کی قواعد کے بیچ کانگریس نے پلان-بی پر کام شروع کر دیا ہے۔ کانگریس نے مغربی یوپی کی لوک سبھا سیٹوں کے لیے عمران مسعود کو ذمہ داری سونپ دی ہے اور اس کام میں بھیم آرمی کے لیڈر چندر شیکھر بھی کانگریس کا ساتھ دیں گے۔ اس کے علاوہ شیوپال یادو کے ساتھ بھی کانگریس نے اتحاد کی کوشش کر دیا ہے۔

 

کیا بی جے پی کےپاؤں تلے زمین واقعی کھسک رہی ہے؟

 

لوک سبھا انتخابات 2019 میں کانگریس کو الگ رکھتےہوئے ایس پی-بی ایس پی کو اکٹھا کر نریندر مودی مودی کو شکست دینے کی قواعد میں ہیں۔ ایسے میں کانگریس نے پلان بیپر کام شروع کر دیا ہے۔ پارٹی ایک طرف جہاں شیو پال یادو کے ساتھ اتحاد کا امکان تلاش رہی ہے، وہیں دوسری طرف کردہ لوک سبھا سیٹوں پر متوازی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔ کانگریس نے مغربی اتر پردیش کی لوک سبھا سیٹوں کے لئے عمران مسعود کو ذمہ داری سونپی ہے۔ ذرائع کی مانیں تو اس کام میں بھیم آرمی کے رہنما چندر شیکھر آزاد بھی کانگریس کا ساتھ دیں گے۔ چندرشیکھر حال ہی میں جیل سے رہا ہوئے ہیں اور دلتوں کو متحد کرنے میں مصروف ہیں۔ مغربی یوپی میں کانگریس دلت مسلمان اور کسان کا مساوات بنا کر2019 کے سیاسی جنگ فتح کرنا چاہتی ہے۔

 

ریزرویشن بل: راجیہ سبھا میں مودی حکومت کا اصل امتحان آج

 

عمران مسعود نے بات چیت میں بتایا کہ پہلی کوشش ہے کہ کانگریس پارٹی ایس پی-بی ایس پی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑے، لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ہم اکیلے انتخابی میدان میں اترنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی یوپی میں میرٹھ اور سہارنپور حلقہ کے 8 لوک سبھا سیٹوں میں 7 نشستیں کی ہیں جن پر وہ دلت مسلمان اور کسان کے مساوات پر کام کر رہے ہیں۔ بتا دیں کہ مغرب یوپی میں 21 لوک سبھا سیٹیں آتی ہیں۔ ان میں سے میرٹھ حلقہمیں میرٹھ، باغپت، بلند شہر، غازی آباد اور نوئیڈا لوک سبھا سیٹیں آتی ہیں، جبکہ سہارنپور حلقہ میں سہارنپور، مظفرنگر اور کیرانہ پارلیمانی نشستیں شامل ہیں۔ موجودہ وقت میں ان میں سے کیرانہ چھوڑ کر باقی سیٹوں پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔ کانگریس نے غازی آباد کو چھوڑ کر باقی 7 سیٹوں پر کانگریس تیاری کر رہی ہے۔

 

ورون گاندھی نے ملایا راہل کے سر میں سر، امیروں کو ریوڑی اور کسانوں کو کوڑی

 

عمران نے کہاکہ ‘ان 7 لوک سبھا سیٹوں پر ہم نے مائیکرو لیبل پر انتخابی انتظام کا کام کیا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے ہماری کوشش دلت، مسلمان اور کسان کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھنے کی رہی ہے۔ اس کے لئے زمین کی سطح پر ہم نے کام کیا ہے۔ ‘انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مسائل کو لے کر ہماری پارٹی کے رہنما مسلسل اپنے اپنے پارلیمانی سیٹوں پر کام کر رہے ہیں۔ گنا کسانوں کے بقایا کو لے کر سب سے زیادہ کانگریسی لیڈروں نے آواز اٹھائی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *