ہندو بیوہ خاتون مسلم نوجوان سے شادی کرنے کیلئے مندر پہنچی، پولیس نے لیا حراست میں

Share Article

اتر پردیش میں ضلع سہارنپور کے دیوبند میں واقع مندر میں ہفتہ کوایک خاتون مسلم شخص سے شادی کرنے پہنچی ، مگر ہندو تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔
اتر پردیش میں ضلع سہارنپور کے دیوبند میں واقع مندر میں ہفتہ کوایک خاتون مسلم شخص سے شادی کرنے پہنچی ، مگر ہندو تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔ پولیس نے بتایا کہ بالاسندری مندر کے احاطے میں ایک ہندو بیوہ خاتون مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے اپنے عاشق سے شادی کرنے پہنچی تھی۔ اس شادی کی مخالفت میں ہندو تنظیموں کے سینکڑوں کارکنان جمع ہو گئے۔ پولیس نے حالات بگڑنے سے قبل ہی موقع پر پہنچ کر جوڑے کو اپنی حراست میں لے لیا اور انھیں محفوظ مقام پر لے گئی۔

 

 

 

انہوں نے بتایا کہ گاؤں پیرڑ کی رہنے والی خاتون کی شادی کچھ برس پہلے گاؤں کرنجالی میں ہوئی تھی۔چند ماہ قبل اس کے شوہر کی موت ہو گئی تھی، جس کے بعد خاتون کو 20 لاکھ روپیے اور 21 بیگہہ زمین ترکے میں ملی۔ دیوبند کے محلہ سرائے کارہنے والے ایک مسلم نوجوان نے اس خاتون کو مبینہ طور پر اپنے عشق میں پھنسا لیا تاکہ وہ اس کی جائیداد کو ہڑپ سکے اور بعد میں خاتون سے پیچھا چھڑا لے۔
وشو ہندو پریشد کے اہلکار وکاس تیاگی نے اس تعلق سے صحافیوں کو بتایا کہ یہ براہ راست لو جہاد کا معاملہ ہے ۔ اس معاملے میں ہندو تنظیمیں پولیس سے کاروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔پولیس کے مطابق مندر کے پجاری نے بھی مسلم شخص کو پہچانے کے بعد اس کی ہندو خاتون سے شادی کرنے پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ پجاری کی پہل پر ہی ہندو تنظیموں کی سرگرمی سامنے آئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *