ایک منٹ میں صحت بہتر بنانے والے طریقے

Share Article

سعدیہ امین اور فیصل ظفر
وقت کتنی جلدی ہاتھ سے پھسل جاتا ہے اور انسان کو اپنی مصروفیات میں اپنی صحت پر توجہ دینے کا خیال تک نہیں آتا تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق صرف ایک منٹ کی سخت ورزش ہی جسمانی حالت بہتر بنانے کے لیے کافی ہے۔
مگر اس سے بھی اچھی خبر یہ ہے کہ ایک منٹ یا 60 سیکنڈ سے کم وقت میں اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ سخت ورزش ہی کریں بلکہ چند دیگر طریقہ کار بھی آپ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔

 

گہری سانس لینا
— وکی پیڈیا فوٹو
اگر آپ تناؤ کا شکار ہیں تو ذہن و جسم کو آرام کا احساس دلانے والے اس طریقہ کار کو مت بھولیں یعنی گہری سانس۔ ایک یا دو گہری سانسیں لینے سے آپ کے دل کی دھڑکن کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور ایسا کرنے سے بلڈ پریشر کی شرح کو نیچے لانے میں بھی مدد ملتی ہے، جبکہ جسم میں تناؤ کا باعث بننے والے ہارمونز بننے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔

 

کسی سے گلے ملنا
— آن لائن فوٹو
کسی پیارے سے گلے ملنے سے زیادہ اچھا اور کیا طریقہ کار ہوسکتا ہے کیونکہ یہ گرمجوش معانقہ ہمیں خوشی کے احساس سے بھر دیتا ہے اور جسم میں سکون کی لہریں دوڑنے لگتی ہیں جبکہ اس کے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کی رفتار کم ہوجانا وغیرہ۔

 

ہنسنا
— رائٹرز فوٹو
ہنسی بہترین دوا ہے کیونکہ یہ نہ صرف جسم کو تناؤ سے نجات دلانے کا قدرتی ذریعہ ہے بلکہ اس سے دیگر طبی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جیسے اگر دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہوگئی ہو یا بلڈپریشر آسمان کو چھو رہا ہو تو ایک منٹ تک ہنسنے سے ہی یہ معمول پر آجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ یادداشت کو بھی بہتر بناتی ہے اور ہنسی کا عمل جسمانی سرگرمی بھی ہے یعنی کچھ کیلوریز بھی جلتی ہیں جس سے موٹاپے سے کسی حد تک تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

 

 

چاکلیٹ کا مزہ لینا
— اسکرین شاٹ
کوکا میں ایک قدرتی جز پایا جاتا ہے جو بلڈپریشر کم کرنے، اچھے کولیسٹرول کی مقدار بڑھانے جبکہ خراب کولیسٹرول کی شرح گرانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور یہ دوران خون کو بھی بہتر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ چاکلیٹ کا محدود مقدار میں استعمال ذیابیطس کو دور بھگاتا ہے اور جلد کی صحت کو برقرار رکھتا ہے۔

 

پُرامید رہنا
— بشکریہ ہفنگٹن پوسٹ
مشکل حالات میں بھی روشن رخ کو دیکھنا یا اس کی امید رکھنا صحت مند دل اور امراض کے خلاف طاقتور دفاعی نظام کا باعث بنتا ہے تو اگر کبھی آپ خود کو مشکل میں محسوس کریں تو ایک منٹ کے لیے ان خیالات کو ذہن سے نکال کر امید کے دامن کو تھام کر رکھیں۔

 

کمپیوٹر اسکرین سے نظر ہٹا لینا
— اے پی فوٹو
اگر آپ ڈیسک جاب کرتے ہیں یا ٹیکنالوجی کے دیوانے ہیں تو آپ یقیناً اپنا زیادہ وقت کمپیوٹر اسکرینز کے سامنے گزارتے ہوں گے مگر جو وقت آپ اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے گزارتے ہیں وہ ذہن کے لیے کافی تناؤ اور آنکھوں کے امراض کا باعث بنتا ہے تو ان حالات میں آپ کو ہر بیس منٹ بعد کمپیوٹر سے نظریں ہٹا کر خود سے بیس فٹ دور موجود کسی چیز کو محض بیس سیکنڈ تک دیکھنا چاہئے اور اس کا فائدہ آپ کو حیران کرکے رکھ دے گا۔

 

ہاتھوں کو دھونا
— اسکرین شاٹ
اس کام میں بمشکل ہی بیس سیکنڈ لگتے ہیں اور اس کی اہمیت کا آپ اندازہ تک نہیں کرسکتے۔ درحقیقت ہاتھوں کی مناسب صفائی لوگوں کے اندر ہیضے کا خطرہ 31 فیصد اور فلو و سرد موسم میں لاحق ہونے والے امراض کا امکان 21 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔

 

اپنے ناشتے میں دارچینی کا شامل کرنا
— وکی میڈیا کامنز
نمک یا چینی کی بجائے دارچینی کو ترجیح دینا موٹاپے سے بچاؤ کا انتہائی بہترین طریقہ ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ مصالحہ آپ کو ذیابیطس اور بلڈپریشر سے بھی تحفظ دیتا ہے جبکہ کولیسٹرول بڑھنے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

 

سن اسکرین کا استعمال
— آن لائن فوٹو
سورج کی شعاعیں جلدی امراض کا باعث بن سکتی ہیں اور ان سے بچنا اکثر مشکل ہی ہوتا ہے تاہم سن اسکرین کا استعمال آپ کو اس سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

 

کہنی کے بل زمین پر لیٹنا
— وکی پیڈیا فوٹو
روزانہ صرف ایک منٹ کے لیے اپنی دونوں کہنیاں زمین پر ٹکا کر پش اپ کے پوز میں رہنا کوئی مشکل کام نہیں اور یہ مشق آپ کے پیٹ کے عضلات کو مضبوط بناتی ہے اور کمر درد سے نجات ملتی ہے جبکہ دیگر کئی امراض کے لیے مفید ہونے کے ساتھ یہ عام اوقات میں کمر کو سیدھا رکھ کر بیٹھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

 

مسکراہٹ
— اے ایف پی فوٹو
یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جو لوگ زیادہ ہنستے ہیں وہ عام طور پر خوش باش افراد ہوتے ہیں مگر جو لوگ کھل کر مسکراتے ہیں وہ طویل زندگی بھی پاتے ہیں کیونکہ وہ ذہنی تناؤ کا شکار بہت کم ہوتے ہیں اور اس کی وجہ مسکراہٹ ہے جو مشکل حالات میں بھی ذہن کو تناؤ یا مایوسی کا شکار نہیں ہونے دیتی اور چہرے پر مسکراہٹ لانے میں وقت ہی کتنا چاہیئے ہوتا ہے؟
بشکریہ: ڈائون نیوز

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *