جم میں پسینہ بہانے سے بہتر ہے سیڑھیاں چڑھنا

Share Article
climbing-stairs
آجکل شہروں میں کوئی فلیٹ خریدتاہے توپہلے سب سے پہلے دیکھتاہے کہ یہ فلیٹ کس فلورپرہے۔یعنی اوپرلینا نہیں چاہتاہے ۔اگرلیتابھی ہے تودیکھتاہے کہ اس میں بلڈنگ میں لفٹ ہے یانہیں۔کیونکہ ہرکوئی سیڑھیاں چڑھنے سے بچناچاہتاہے۔آفس یاکہیں سے آتے ہیں تو سیڑھیوں کے بجائے لفٹ استعمال کرنا چاہتاہے۔یاپھرسیڑھیاں چڑھنانہیں چاہتاہے۔کیونکہ وہ سیڑھی چڑھنے میں تھکاوٹ محسوس کرتاہے۔اسی طرح میٹرومیں بھی لوگ سیڑھیوں کے بجائے لفٹ کی طرف بڑی تیزی سے بھاگتے ہیں۔حالانکہ سیڑھیاں چڑھنا آپ کیلئے کتنامفیدہے یہ آپ جان لیں گے توپھرآپ لفٹ کی طرف کبھی نہیں بھاگیں گے اورپھرآپ کوجم میں پسینہ بہانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔کیوں کہ آپکی ورزش سیڑھیوں پرہی ہوجائے گی ۔اسی طرح آپ پہلی ، دوسری اورتیسری منزل پرفلیٹ خریدناچاہیں گے۔
دراصل،آجکل زیادہ ترلوگ جم میں پسینہ بہاکر وزن کم کرتے ہیں توکچھ لوگ فٹ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن ایک سروے میں اس بات کا انکشاف ہواہے کہ روزانہ ایک گھنٹے جم میں پسینہ بہانے سے بہترہے کہ آپ 15منٹ سیڑھیاں چڑھ لیں۔سروے میں اس بات کا انکشاف ہواکہ جولوگ صرف ایک منزل سیڑھیاں چڑھ کر اپنے گھر یا آفس جاتے ہیں، وہ ان کے آدھے کلومیٹر ٹریڈ میل پرچلنے کے برابرہوجاتاہے۔
سیڑھیاں چڑھنا دل اورلنگس کیلئے زیادہ فائدے مند ہیں۔ اگرآپ روزانہ سیڑھیاں چڑھتے ہیں توآپ کی تھائی توشیپ میں رہتی ہے ساتھ ہی مسلس بھی فلیکسیبل ہوجاتی ہیں۔پوری باڈی کی فٹنیس کیلئے بھی سیڑھیا چڑھنا بیحد فائدے مندہے۔اس کے بعد آپ جوڑوں کی پرابلم جیسی چیزوں سے بچے رہیں گے۔
سیڑھیاں چڑھنے سے ایڈرینلن ہارمون ایکٹیو ہوجاتاہے۔یہ ہارمون ہارٹ کی مسلس تک بلدسرکولیشن بنائے رکھنے اورہارٹ بین نارمل رکھنے کیلئے بہت ضروری ہے۔اوپرچڑھنے کے دوران جب باڈی کا 70-85ڈگری کا اینگل بنتاہے، تویہ پشچر لوورباڈی کیلئے اور135ڈگری کا اینگل اپرباڈی کیلئے بہت فائدے مندہوتاہے۔سڑھیاں چڑھنے سے مسلس میں فیٹ اکٹھا نہیں پاتا اورجسم شیپ میں رہتے ہیں۔یہ ٹینشن کم کرنے کے ساتھ آدمی کوفوکس کرنے میں بھی مددکرتاہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *