40مواضعات میں جاری ’اوشاسلائی اسکول پروگرام‘ اختتام پذیر

Share Article
Certificate-distribution
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے مرکز برائے مسلسل و تعلیمِ بالغاں و توسیع کی جانب سے بھارت گیان وِگیان سمیتی کے اشتراک سے ضلع کے 40؍مواضعات میں جاری ’اوشا سلائی اسکول پروگرام‘ کے اختتام پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پروگرام میں شریک خواتین کو سرٹیفیکٹ تقسیم کئے گئے۔ پروگرام کی ابتدا میں سوشل ورک شعبہ کے صدر ڈاکٹر نسیم احمد خاں نے سماجی خدمت اور شخصیت کی ارتقاء کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور رفتہ رفتہ اس تعلق کا پتہ چلتا ہے۔
بھارت گیان وگیان سمیتی کی ڈاکٹر وینا گپتا نے کہاکہ سائنسی مزاج اور رویے کو فروغ دینا اور سماجی ترقی کے لئے ادارے قائم کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انھوں نے مرکز برائے مسلسل و تعلیمِ بالغاں و توسیع کی سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر سیما مسعود کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ سماجی خدمت کے لئے ان کا جذبہ مثالی تھا۔ جروتھی گاؤں کے سماجی خدمت گار مسٹر اوپی شرما نے کہاکہ سماج کے کمزور طبقات کو اوپر اٹھانے کے لئے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے خاص طور سے لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیا۔ شعبۂ تعلیم کی سابق صدر اور کٹک یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر پروفیسر انور جہاں نے کہاکہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ بھی توہمات پر عمل کرتے ہیں ، اس لئے یہ ضروری ہوجاتاہے کہ تعلیم کے لئے ہمیشہ کام کیا جائے گا۔ انھوں نے کئی واقعات سناکر اور سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر سیما مسعود مرحومہ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پختہ ارادے سے انسان اپنے مقصد کی تکمیل میں کامیاب رہتا ہے۔
مرکز برائے مسلسل و تعلیمِ بالغاں و توسیع کے ڈائرکٹر پروفیسر محمد گلریز نے کمزور طبقات کی سماجی و اقتصادی ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس میں تعلیم کا بنیادی رول ہے ۔ انھوں نے کہاکہ لوگوں کو انٹرپرینئرشپ کی طرف مائل کرنا ہوگا اور ایسی ٹریننگ دینی ہوگی جو روزگار کے حصول میں مددگار ہو۔ مرکز برائے مسلسل و تعلیمِ بالغاں و توسیع کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شمیم اختر نے پروگرام کی نظامت کی، جس میں اسسٹنٹ پروفیسر مشرف جہاں، انسٹرکٹر مجاہدہ ، سمرہ اور دیگر نے تعاون کیا۔ آخر میں ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر عائشہ منیرہ رشید نے سبھی کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام میں مختلف مواضعات کے باشندوں کے ساتھ ڈاکٹر سجاتا دیوی، مسٹر اپادھیائے ، مسٹر سلیم وغیرہ موجود تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *