432پارلیمانی سیٹوں سے33پر محدود ہوئی عاپ

Share Article
Arvind Kejriwal

سیاست جذبات سے نہیں، حکمت عملی اور تجربہ سے کی جاتی ہے۔ اس کا اندازہ عام آدمی پارٹی (عاپ) کے اس اعلان سے ہوتا ہےکہ یہ 2014میں 543پارلیمانی سیٹوں میں سے 432کے مقابل اس بار صرف33پر اپنے امیدوار کھڑی کرے گی۔ یہ تمام 33عاپ امیدوار چارریاستوں دہلی، پنجاب، ہریانہ اور گوا اور یونین ٹیری ٹوری چنڈی گڑھ سے متعلق ہیں۔ قابل ذکر ہےکہ 2014پارلیمانی انتخابات میں عاپ کے کل432امیدواروں میں 4امیدواروں نے کامیابی کا پرچم لہرا کر پارلیمنٹ میں کھانہ کھوتا تھا۔ ان سبھی کامیاب امیدواروں کا تعلق پنجاب سے تھا۔

 

یوگی کابینہ کے وزیر بولے، اب لگے گا آوارہ کتوں پر بھی ٹیکس

گزشتہ بار2014میں دہلی اسمبلی انتخابات میںکامیابی اور اپنے حق میںلہر کو دیکھ کر عاپ نے جوش میں آکر پورے ملک میں 432امیدوار کھڑے کردئیے تھے اور وارانسی میںت و نریندر مودی کے خلاف خود عاپ کے قومی کنوینر کھڑے ہوئے تھے مگر انہیں پنجاب کو چھوڑ کر باقی ریاستوں میں سخت مایوسی ہوئی۔ اس وقت مبصرین کی یہ رائے سامنے آئی تھی عاپ کو عمومی طورپر کے بجائے مخصوص حلقوں سے انتخابات لڑنا چاہئے تھا۔ بحرحال عاپ فدم اٹھایا ہے اور پورے ملک میں محض 33حلقوں میںقسمت آرمارہی ہے۔

 

2019لوک سبھا الیکشن:مہاگٹھ بندھن کو ’آپ ‘ کا جھٹکا 

 

جہاں تک دہلی کا عمالہ ہے، یہ صحیح ہے کہ 2014کے پارلیمانی انتخابات میںبی جے پی تمام 7سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی مگر 2015میں عاپ نے یہاں کی70اسمبلی سیٹوں میں سے 67پر قبضہ جما کرایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ لہٰذا 2019کے پارلیمانی انتخابات کےموقع پر یہ سوال بہت اہم ہوجاتا ہے کہ 2015میں عاپ نے 67اسمبلی سیٹوں کو جیت کر عمومی حمایت کا دہلی میں جو تاثر دیا تھا، کیا وہ ابھی بھی قائم ہے؟ کیا دہلی عوام کی اکثریت اب بھی اس پر بھروسہ کرتی ہے؟
دراصل یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آئندہ پارلیمانی انتخابات سے ہی مل پائیں گے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عاپ دہلی کے عوام سے 2015کے مثبت نتائج کی روشنی میں اب بھی 2019کے پارلیمانی انتخابات کے دوران امید لگائے بیٹھی ہے جب کہ عام عوام دہلی کے 67اسمبلی حلقوں میں عاپ کی کارکردگی اور اس وقت ہر حلقہ میں اس کے لیے کیے گئے وعدوں کے جائزے اور دہلی حکومت کےکاموں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *