انجینئر نگ کی طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ،بھائی کادوست بھی تھاشامل

Share Article
demo
حکومت کی جانب سے ’بیٹی پڑھاؤ -بیٹی بچاؤ‘ کا نعرہ خوب لگایا جا رہا ہے اس کے اشتہارات پر بھی خوب پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے ۔سرکار اپنی طرف سے کوشش کررہی ہے کے اپنے اس پیغام کو ملک کے ہر گھر تک پہنچائے۔ لیکن لگتا ہے کے کچھ لوگ اس کے مقصد کو پورا ہونے نہیں دیں گے کیونکہ آج جو معاملہ پیش آیا ہے اس کو پڑھ کر ہر باپ اور ہر ماں اپنی بیٹیوں کو اپنے سے دور بھیج کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے شاید ہی بھیجیں۔
دراصل،جھارگھنڈ کے چکردھرپور میں ایک 20سالہ طالبہ کے ساتھ 6لوگوں کے ذریعہ گینگ ریپ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔اس شرمناک حرکت کو انجام دینے والوں میں طالبہ کے بھائی کا دوست بھی شامل تھا۔پولیس نے پیر کو بتایا کی اوڑیسہ کے راورکیلا میں رہ کر انجینئر نگ کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبہ کی 2 دن تک عصمت دری کی گئی ۔اس واقعہ کو انجام دینے کے بعد ملزموں نے لڑکی کو جنگل میں پھینک دیا ۔اس معاملہ میں راورکیلا کے ریلوے پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے۔حالانکہ پولیس اب تک ملزموں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔
پولیس مطابق، عصمت دری کی شکار ہوئی لڑکی نے بتایا کہ وہ راورکیلا کے ایک کالج میں انجینئر نگ کی تعلیم حاصل کررہی ہے۔ اسے اس کے بھائی کا ایک دوست اغوا کر کے چکردھرپور کے لوتا پہاڑ پر لے گیا ۔جہاں اس کے ساتھ ایک گھر میں دو دن تک کئی لوگوں نے اسکی عزت کے ساتھ کھلواڑ کیا۔اس کے بعد ملزموں نے پاس کے ہی ایک جنگل میں پھینک دیا اور وہ وہاں سے فرار ہوگئے۔
بتایا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکی 30دسمبر کو راورکیلا ریلوے اسٹیشن پر جھارسوگوڑا ضلع میں اپنے گھر جانے کے لئے ٹرین کا انتظار کررہی تھی ۔وہاں وہ اپنے بھائی کے ایک دوست سے ملی جس نے اس کو جھارسوگوڑا کیلئے ایک ٹرین میں سوار ہونے کے لئے رائے دی۔جب لڑکی اس لڑکے کے ساتھ ٹرین میں سوار ہوئی تو اس کو جلد ہی یہ احساس ہوگیا کہ ٹرین جھارسوگوڑا کی طرف نہیں بلکہ چکردھرپور کی طرف جا رہی ہے۔اس کے سوال کرنے پر لڑکے نے اس کو جھارکھنڈ کے لوتا پہاڑ ریلوے اسٹیشن پر اتر کر جھارسوگوڑا پہنچنے کے لئے بس سے جانے کی صلاح دی۔لیکن اسٹیشن پہنچنے کے بعد لڑکا اس کو ایک گھر میں لے گیا جہاں لڑکے کے 5دوست اور آگئے اور ان سب نے 2دنوں تک اس لڑکی پر اپنی درندگی دکھائی ۔
1جنوری کو اس لڑکی کو چھوڑا ۔ اس کے بعد لڑکی نے پولیس سے اس معاملہ کی شکایت درج کرائی ۔فی الحال اس لڑکی کا راول کیلا کے ایک سرکاری اسپتال میں علاج چل رہا ہے اور اس کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ نازک حالت میں ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی جانچ کے لئے دو ٹیمیں بنائی گئی ہیں جس میں سے ایک ٹیم چکردھرپور گئی ہے۔اور جلد ہی سارے ملزم سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *