حیران کردینے والا واقعہ، 14سال سے کوما میں تھی عورت، دیا بچے کو جنم

Share Article

امریکہ میں بیحد حیران کردینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ قریب 14سال سے کوما میں رہنے والی عورت نے بچے کو جنم دیا ہے۔ پولیس کو عورت سے جنسی ہراساں کا شک ہے، ایسے میں معاملے کی جانچ شروع کردی گئی ہے۔ سب کے من میں صرف یہی ایک سوال اٹھ رہا ہے کہ کیسے14سال کوما میں رہنے والی عورت بچےکو جنم دے سکتی ہے ایسی صورت میں وہ کسی کو ہم بستر ہونے کی اجازت کیسے دے سکتی ہے؟

 

سی بی آئی کو کان کنی شعبہ کے بابو گھر سے ملے دو کروڑ، جانیے پورا معاملہ ہے کیا

 

امریکہ کے فینیکس ایروجونا میں عورت نے 29دسمبر2018کو صحت مند بچے کو جنم دیا ہے عورت کو 24گھنٹے دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ عورت کے دن میں کئی بار جانچ کیا جارہاہے۔ بچے کے جنم سےپہلے اسپتال کے اسٹاپ کو بھی نہیںپتہ تھا کہ عورت حاملہ ہے۔ حالانکہ نرسنگ نرسنگ فیسلیٹی کے حکام نے معاملے پر کچھ بھی بولنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہیں پولیس پتہ لگانےکیکوشش کرہی ہے کہ بچے کا والد کون ہے۔ افسران نے عورت کے جنسی ہراساں کی جانچ شروع کردی ہے۔میڈیا رپورٹ کےمطابق قریب14سال پہلے عورت کے ماں،باپ کی پانی ڈوبنے سے موقت ہو گئی تھی، جس سے اسے گہرا صدمہ لگا تھا اور وہ کوما میں چلی گئی تھی۔ یہ عورت نرسنگ فیسلیٹی میں پچھلے کئی سالوں سے داخل تھی، جہاں اس کا علاج چل رہا تھا۔ علاج کے دوران کئی لوگوں نے عورت کے کمرے میں آتے جاتے تھے۔

 

 

ہندو بیوہ خاتون مسلم نوجوان سے شادی کرنے کیلئے مندر پہنچی، پولیس نے لیا حراست میں

 

 

معاملے بعد ہیلتھ کیئر سینٹر نے قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ ہیلتھ کیئر سینٹر کے مطابق چیک اپ کے دوران مرد اسٹاپ کے ساتھ اب عورت ڈاکٹر بھی وہاںموجود رہیںگی۔ اسٹاپ کی تعداد بڑھانے کے ساتھ مریضوں کی حفاظت کا بھی پورا دھیان رکھا جائے گا۔ سینٹر کے ترجمان نے کہا کہ جانچ میں اسٹاپ ہر ممکن مدد کررہا ہے۔ نئے قوانین اریجونا ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ سروس کی طرف سے نافذ کروائے ہیں۔
اس سے پہلے بھی اسپتال کئی بار تنازع میں رہ چکا ہے۔ اسپتال کے اسٹاپ پربے حیائی اور غلط عادتوں کے الزام لگ چکے ہیں جس کی وجہ سے دسمبر2013میں اس کی فنڈنگ کو روک دیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہاں کے ایک اسٹاپ نے کئی مریضوں کو برے الفاظ بھی کہے تھے۔ ان پر غلط تبصرہ بھی کیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *