کیوں روکا اپوزیشن نے راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کو

Share Article
Tripple talaq bill in rajya sabha

آج سال رواں2018کے آخری روز اپوزیشن پارٹیوں نے ترمیم شدہ طلاق ثلاثہ بل میںشوہر کے لیے تین برس کی قید کےکریمنل پروویژن کی مخالفت کرتےہوئے اسے پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں روک دیا۔ عیاں رہےکہ مذکورہ بل گزشتہ 27دسمبر کو لوک سبھا سے برسراقتدار این ڈی اے نے اکثریت سے پاس کرادیا تھا مگر اسے راجیہ سبھا میں آج ناکامی ملی۔
اپوزیشن اپنے موقف پر جمی رہی۔ نتیجتاً ایوان بالا اجلاس کو آئندہ 2جنوری تک روک دیا گیا۔ اس وقت راجیہ سبھا میں کل244ارکان ہیں۔ اس کا سدیھا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی بل کو یہاں سے پاس کرانے کے لیے 123ووٹ چاہئےجب کہ این ڈی اے کے پاس محض98ارکان ہیں اور اس کے خلاف میں اپوزشین کے پاس 136ارکان کے ووٹ ہیں۔

 

ایچ ڈی دیوگوڑا نے کہا کہ میں بھی اکسیڈینٹل پرائے منسٹرتھا

اپوزیشن کانگریس کا مطالبہ تھا کہ مزکورہ بل کے جائزہ کے لیے ایک پارلمانی سیلیکٹ کمیٹی تشکیل دی جائے۔حکومت نے اس مطالبہ کو نامنظور کردیا۔ اسی طرح ترنمول کانگریس نے مذکورہ بل یعنی مسلم ویمن (پروٹیکشن آف رائٹس آن میریج) بل کےحوالے سے ایک تحریک پیش کی کہ اسے راجیہ سبھا کی سیلیکٹ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ا جلاس سے قبل اپوزیشن لیڈران اس سلسلے میں حکمت عملی طے کرنے پارلمنٹ بلڈنگ میںجمع ہوئے اور بل کو نظر ثانی کے لیے سیلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کی قرارداد پاس کی۔ اپوزیشن کا کہنا ہےکہ کسی بھی سول معاملہ میںکریمنل زاویہ جوڑا نہیں جاسکتا ہے کہ جب کہ کسی دوسرے مذہب کے حاملین کےلیے سزا کا یہ پروویژن نہیں ہے۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ بل میںیہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ جب شوہر جیل میںہوگا تب بیوی کو نان و نفقہ کون فراہم کرے گا۔ اپوزیشن کے خیال میں اس طرحکے سخت اقدام خاندان میں ٹوٹ پھوٹ پیدا کریں گے۔

 

’اب کی بار‘ سے ’پھر ایک بار‘ کا کیا ہےمطلب؟

واضح رہے کہ مذکورہ بل2017میں گزشتہ برس راجیہ سبھا میںروکے جانے کے بعد ترمیم کی گئی تھی مگر کریمنل والے حصہ میںکوئی ردوبدل نہیںکیا گیا تھا۔2018کے مذکورہ بل کے مطابق طلاق ثلاثہ کو ایک ایسا جرم مانا گیا ہے جس میں 3برس کی سزا اور شوہر کے لیے جرمانہ ہے اوراس کے تحت بیوی کو نان و نفقہ دینا ہے۔ حکومت کی یہ دلیل کہ سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور پارلیمنٹ سے قانون سازی کےلیے کیا ہے سے اپوزیشن بشمول نوین پٹنائک بیجو جنتادل اور اے آئی اے ڈی ایم کے مطمئن نہیںہوئے۔

 

سکھ مخالف فسادات: سجن کمار کی عدالت میں خودسپردگی

کانگریس کی یہ بھی دلیل ہے کہ سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو کریمنل اٖینس بنانے کے لیے نہیںکیا ہے۔ قابل ذکر ہےکہ لوک سبھا میں بل کے پاس ہوتے وقت اے آئی اے ڈی ایم کے نےکانگریس کے ساتھ واک آئوٹ کیا تھا۔ اسی دوران وزیرقانون روی شنکر پرساد نےکہا تھا کہ یہ ایشو ہزاروں خواتین کی زندگیوں سے جڑا ہوا ہے لہٰذا اس میںسیاست نہیںہونی چاہئے ان کا یہ بھی اصرار تھا کہ یہ کسی مخصوص کمیونٹی کے خلاف نہیں ہے۔
گزشتہ سمبر کے ماہ میں حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے طلاق ثلاثہ کو ممنوع قرار دیا تھا۔ لہٰذا ترمیم شدہ بل کو اس کے بدلے میں لانے کی کوشش ہورہی ہے۔ یہ بات اہم ہےکہ گزشتہ برس اگست میںسپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر اسلامی اور ’آربیٹرری‘ قرار دیا دیا تھا اور اس بات سے اتفاق نہیںکیا تھا کہ یہ اسلامی مذہبی پریکٹس کا جزلاینفک ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *