کہاں ہیں13فرقہ وارانہ فسادات پر انکوائری کمیشن رپورٹس؟

Share Article
communal riots

1961سے 2003تک42برسوں میںملک ہوئے13فرقہ ارانہ فسادات پر قائم 13انکورائری کمیشن کی رپورٹوں کے بارے میںگ زشتہ دنوں مرکزی وزارت داخلہ کے انکار کے بعد یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ آخر یہ رپورٹس کہاںہیں؟ دریں اثنا سنٹرل انفارمشین کمیشن نے مرکزی داخلہ سکریٹریراجیوگوبا کو ہدایت دی ہےکہ اس سلسلےمیں وہ کسی افسر کو اس کام کونپسے اور 15دنوں کے اندر پتہ لگائے کہ آخر یہ رپورٹیس کہاںہیں؟
عیاں رہے کہ انفارمشین کمشنر بسمل جلکھا نے یہ ہدایت آرٹی آئی کا رکن انجلی بھاردواج کیایک درخاست پر سماعت کے دوران دی۔ دراصل بھاردواج نے وزارت داخلہ سے 1961سے2003تک ملک میںہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے تعلق سے متعدد انکوائری کمشینوں یا جوڈیشنل کمیشنوں کی مکمل رپورٹوں کی تفصیلات جانتی چاہئے تھی۔

 

ایچ ڈی دیوگوڑا نے کہا کہ میں بھی اکسیڈینٹل پرائے منسٹرتھا

 

قابل ذکر ہے کہ وزار داخلہ نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران 2006میں قومی یکجہتی کونسل کا ایک ورکنگ گروپ فرقہ وارانہ فسادات پر تفتیش کے لیے بنائے گیے انکوائری کمشینوں کی رپورٹوںپراسٹڈی کرنے کے لیے تشکیل کیا تھا۔ اس گروپ نے 29رپورٹوں کےتعلق سےجائزہ لیا۔ اس جائزے کا مطالعہ کرتے وقت آرٹی آئی کا رکن انجلی بھاردواج نے پایا کہ 1961سے 2003تک ہوئے فسادات سے متعلق 13انکوائری کمیشنوں کی رپورٹیں وزارت داخلہکی ویب سائٹ پر موجود نہیں ہیں۔ تب انہوں نے رپورٹوں کی کاپیوں کو حاصل کرنے کے لیے آرٹی آئی درخواست دی۔

 

’اب کی بار‘ سے ’پھر ایک بار‘ کا کیا ہےمطلب؟

مذکورہ 13انکوائری کمیشن رپورٹیس یہ ہیں1961میں مدھیہ پردیش میںہوئے فسادات پر شیودیال سیرواستو کمیشن رپورٹ1967.2میں بہار میں فسادات پر جسٹس رگوبردیال کمیشن رپورٹ1969.3میںگجرات میں فسادات پر جسٹس پی جے ریڈی کمیشن رپورٹ1974.4میںدہلی میںفسادات پر پرساد کمیشن رپورٹ1985.5میں گجرات میں فسادات پر جسٹس وی ایس ڈاوے کمیشن رپورٹ1986میں مہاراشٹر میں فسادات پر جسٹس پی ایس ملوانکر کمیشن رپورٹ1988.7میںمغربی بنگال میںفسادات پر جسٹس ہریداس کمیشن رپورٹ 1990.8میں آندھرا پردیش میں فسادات پر آریچ ہیرامن سنگھ کمیشن رپورٹ، 1990.9میںر اجستھان میںفسادات پر جسٹس این ٹیوروال کمیشن رپورٹ 1992.10میں مدھیہ پردیش میں فسادات جسٹس کے کے دوبے کمیشن رپورٹ 1998.11میں تمل ناڈومیں فسادات پر جسٹس پی آرگوکل کرشنن کمیشن رپورٹ199.12میں مہاراشٹر میں فسادات پر جسٹس اننت ڈی مانے کمیشن رپورٹ اور 2003.13میںکیرل میں فسادات پر تھومن پی جوزف کمیشن رپورٹ یہ بھی قابل زکر ہے کہ انفارمیشن کمشنر جلکھا کے مطابق ویب سائٹ پر دیگر 16رپورٹس موجود ہیں اور فی الوقت مسئلہ باقی 13رپورٹوں کا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *