کیا عرب میں جیسے کو تیسے جواب ملے گا


سعودی عرب اور قطر کے تعلقات جون 2017 سے کشیدہ ہیں۔ کشیدگی کی وجہ یہ ہے کہ سعودی حکومت اور اس کے اتحادی عرب ملکوں نے دوحہ پر دہشت گردوں کی مدد کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی ، تجارتی اور مواصلاتی رابطے منقطع کرلئے تھے ۔کشیدگی اتنی بڑھی کہ گزشتہ سال کویت میں ہونے والے ’جی سی سی ‘کے سربراہ اجلاس میں قطر کے امیر کی شرکت کے رد عمل میں سعودی عرب، بحرین اور عرب امارات کے سربراہان شریک نہیں ہوئے تھے بلکہ انہوں نے اجلاس میں اپنی نمائندگی کے لئے وزارتی سطح کے وفود بھیجے تھے۔ قطر اور اس کے خلیجی پڑوسیوں کے درمیان مصالحت کی کویت ار امریکہ کی کوششیں بھی بارآور نہیں ہوسکیں۔
اب ایک نیا موڑ یہ آیا ہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کو خلیجی ملکوں کی سربراہ کانفرنس میں مدعو کیا ہے۔ شیخ تمیم کو سعودی شاہ کی طرف سے 9 دسمبر کو ریاض میں ہونے والے سربراہ اجلاس کا دعوت نامہ بھیجا گیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ شیخ تمیم اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے اور اس اجلاس میں شریک ہوتے ہیں یا پھر گزشتہ سال کا جواب دیتے ہوئے وہ بھی کسی وزارتی سطح کے وفد کو بھیج کر جیسے کو تیسے جواب دے کر بدلہ چکاتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ خلیجی تعاون کونسل’’جی سی سی ‘‘ 1980 میں قائم کی گئی تھی جس کا مقصد خطہ کے مسائل اور عالمی معاملات پر مشترکہ موقف اپنانا تھا لیکن قطر کے ساتھ جاری تنازع کے بعد یہ تنظیم علاقائی اور عالمی معاملات میں کوئی موثر کردار نہیں کرپارہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *