تین دہائیاں مریضوں کی عیادت میں


علی ابراہیم موسی سعودی عرب کے المجاء ضلع کے رہنے والے ایک عمر رسیدہ آدمی ہیں۔ ان کے گاؤں کے قریب ہی ایک اسپتال ’’ سدیر ‘‘ ہے جہاں وہ پچھلے30 سالوں سے لگاتار دورہ کرتے ہیں۔وہ جب تک جوان تھے، خود گاڑی ڈرائیو کرکے اسپتال آتے ، مریضوں کی عیادت کرتے، ان کی حال چال پوچھتے، ان سے باتیں کرتے، دعائیں دیتے اور چلے جاتے ہیں۔ ان کی بات چیت کا اندازہ اتنا پیاراہوتا ہے کہ مریض خود میں افاقہ محسوس کرنے لگتا ہے ۔
اب وہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور گاڑی چلانے کی ہمت ان میں نہیں ہے۔ لہٰذا ان کا بیٹا ڈیوٹی جانے سے پہلے انہیں اسپتال چھوڑ جاتا ہے۔ ان کو دیکھتے ہی اسپتال کے ملازمین ان کا استقبال کرتے ہیں اور ان کی انسان دوستی اور ہمدردی میں ان کا پورا تعاون کرتے ہیں۔
موسی کو نہ تو طب کی کوئی معلومات ہے اور نہ دوائیوں کی افادیت سے واقفیت ہے ،وہ بس کھجور کے درخت اگانے والے اور ان کی نگہداشت کرنے والے کسان ہیں جن کی ساری عمر اسی کام میں گزری ہے۔ موسی مریضوں میں بہت زیادہ مقبول ہیں۔ وہ مریضوں کو ہمیشہ صحت یاب ہونے کی امید دلاتے ہیں ،انہیں ایسی حکایتیں سناتے ہیں جن سے خدا نے کسی لاعلاج مرض کے شکار انسان کو شفا یاب کیا ہو۔ موسی کے اس خدا ترس جذبے اور منفر انداز کی بنیاد پر اسپتال انتظامیہ کی جانب سے انہیں میڈل سے بھی نواز جا چکا ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *