دلی کی سردیوں میں چاندنی چوک کی ’دولت کی چاٹ‘ سے لزیز اور کچھ نہیں

Share Article
Daulat ki Chaat

سردیوں میں چاندنی چوک گئے اور ’دولت کی چاٹ‘ نہیں کھائی تو کیا کھایا! بنانے کا جو سلیقہ ہے۔ وہ کسی رومانی شاعری سے کم نازک نہیں ہے۔

 

 

دلی کی گلابی سردیوں میں چاندنی چوک کے لزیز کھانے سے بہتر اور کچھ نہیں۔ چاندنی چوک کے کباب چھوتے بھٹورے، مٹن، چکن، نان اور پراٹھوں کے علاوہ سردیوں میں سب سے بہتر دولت کی چاٹ ہے۔ جی ہاں چاندنی چوک کی سرد راتوں میں پرانی دلی کے کچھ کھان سامے دودھ کے بڑے بڑے کڑھا لیکر کھولے میدان میں پہنچ جاتےہیں۔

 

سارا شہر سو رہا ہوتاہے اور یہ کھانسامے دودھ کو پھیٹنے میں لگ جاتے ہیں گھنٹوں متھتے رہتے ہیں۔ دودھ کو اتنا متھا جاتا ہے کہ اس میں خوب سارا جھاگ بن جاتا ہے۔ اس کے بعد چاندنی رات میں آسمان سے اوس کی بوندیں جھاگ پر گرنی شروع ہو جاتی ہیں۔ کھان سامے بڑی احتیاط سے اس جھاگ کو ایک الگ برتن میں اکٹھا کرنے لگتے ہیں اور رات بھر کے اس محنت کے بعد کہیںجاکر بنتی ہے ’دولت کی چاٹ‘
کہاجاتا ہے کہ سردیوںمیں چنادنی چوک گئے اور ’دولت کی چاٹ‘ نہیں کھائی تو کیا کھایا! دولت کی چاٹ بنانے کا جو سلیقہ ہے وہ کسی رومانی شاعری سےکم نہیں ہے اور خاص بات یہ ہے کہ دولت کی چاٹ کا لطف صرف سردیوں کے موسم میں ہی اٹھایا جاسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *