راجستھان میں پاکستانی ہندو


ملک میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا چرچا خوب ہے۔خاص طور پر ان ریاستوں میں جس جگہ جایئے ،وہاں پر دو پارٹیوں بی جے پی اور کانگریس کے بیچ کی سیاسی لڑائی کا چرچا سننے کو ملتا ہے۔ اس موقع پر بہت سی تنظیمیں سیاسی فائدہ اٹھاتی ہیں اور طبقاتی سطح پر بھی اسی موقع کو غنیمت جانا جاتا ہے۔لہٰذا راجستھان میں ہونے والے انتخابات کا فائدہ جہاں سب اٹھا رہے ہیں ،وہیں پاکستان سے منتقل ہونے والے کچھ ہندو فیملی بھی اسی بہتی گنگا میں نہا لینا چاہتے ہیں۔
بات اتنی ہی نہیں ہے کہ نقل مکانی کرنے والے ہندو صرف اپنی شہریت کو لے کر فکر مند ہیں بلکہ دونوں بڑی پارٹیوں بی جے پی اور کانگریس میں بھی اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرکے ووٹ بینک میں بدلنے کی قواعد پر لگی ہوئی ہیں۔دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے منشور میں ان کی فلاح و بہبود کا وعدہ کیا ہے لیکن پاکستان سے ہندوستانی شہریت کی امید میں نقل مکانی کرنے والے ہندوؤں کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے انھیں مایوس کیا ہے۔جبکہ بی جے پی اپنی روایت اور عادت کے مطابق جب کام نہیں کرتی ہے تو اس کا ٹھیکرا کسی دوسری پارٹی پر ڈال دیتی ہے ،یہاں پر بھی ایسا ہی کیا اور اس نے کہنا شروع کردیا کہ ’کانگریس تو بنگلہ دیشی اور برما کے دراندازوں کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے۔ اسے کب سے ہندوؤں کی فکر شروع ہوگئی‘۔

 

پاکستان سے نقل مکانی کرکے راجستھان میں آکر بسنے والے پاکستانی ہندوؤں کی تعداد تقریبا سات ہزار بتائی جاتی ہے جن میں سے اب تک مرکزی سرکار کے ذریعہ صرف پانچ سو افراد کو ہندستانی شہریت دی جاسکی ہے۔ بی جے پی نے اپنے منشور میں شہریت دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ کانگریس نے اپنے منشور میں ان بے گھر افراد کی مجموعی ترقی کا وعدہ کیا ہے۔کانگریس نے ان پاکستانی ہندوؤں کے لیے ایک باڈی قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
راجستھان میں اس سے قبل 2004۔5 میں 13 ہزار پاکستانی ہندوؤں کو ہندوستان کی شہریت دی گئی تھی۔اس سے قبل ہندو پاک کی جنگ کے دوران سرحد پار سے بڑی تعداد میں پاکستان سے ہندو اقلیتیں ہندوستان آئی تھیں۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ راجستھان کے صحرائی علاقے میں ان کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *