بھوپال گیس متاثرین کا درد ….

gas-tragedy
دنیا کے ہلاکت خیز صنعتی سانحات میں سے ایک بھوپال گیس سانحہ ہے۔1984 میں 2اور 3 دسمبر کی درمیانی شب بھوپال میں واقع یونین کاربائیڈ انڈیا کے ایک پلانٹ سے متھائل آئسوسائنائٹ نامی زہریلی گیس خارج ہونا شروع ہوئی تھی ۔اس سانحہ سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ تقریباََ 5.12 لاکھ لوگ اس سے متاثر ہوئے۔ ان 3 دنوں میں بھوپال اور اس کے آس پاس کے علاقوں نے تباہی کا بیحد خوفناک منظر دیکھا۔ 3 ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت پہلے دن ہی ہوئی۔ تاہم پورے گیس سانحہ میں تقریباََ 23 ہزار لوگ موت کی نیند سو گئے۔یہ تمام اعداد وشمار انڈین کاونسلنگ آف میڈیکل ریسرچ نے جاری کئے۔ 25 ہزار سے زیادہ لوگ اس گیس سانحہ کی زد میں آکر جسمانی طور پر پوری طرح سے معذور ہو گئے۔ علاوہ ازیں نہ صرف انسان بلکہ 2000 سے زیادہ جانور بھی اس گیس سانحہ کی زد میں آئے۔

 

 

 

 

اتنی بڑی تباہی مچی مگر اب بھی ہزاروں متاثرین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ متاثرین نے سانحہ کی برسی پر یہاں ہندوستان ٹاکیش چوراہے سے یونین کاربائیڈ فیکٹری تک ریلی نکالی اور مناسب معاوضہ، بازآبادکاری ، زہریلی گیس سے متاثر ہونے والوں کا بہتر علاج اور مکمل انصاف کا مطالبہ کیا۔
متاثرین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی مختلف تنظیموں نے مشعل ریلی نکال کر حادثے کے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔
بھوپال گیس سانحہ سے متاثر خواتین صنعتی تنظیم کے کنوینر عبد الجبار کا کہنا ہے کہ گیس سانحہ سے متاثر ہزاروں لوگوں کے گھر آج بھی نہیں بس پائے ہیں اور نہ ہی انہیں مناسب معاوضہ ملا ہے ۔لیکن آخری سانس تک انصاف کی لڑائی جاری رہے گی۔ کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سانحہ کے متاثرین کی طبی امداد کے لئے سپریم کورٹ نے جو نگرانی کمیٹی تشکیل دی تھی، اس کی 80فیصد سفارشات پر اب تک عمل نہیں کیا گیا ہے۔ بھوپال گروپ آف انفارمیشن اینڈ ایکشن کی رکن رچنا ڈھنگرا نے الزام لگایا کہ حادثہ میں بچنے والوں کو روزگار مہیا کرنے کے لئے جو فنڈ فراہم کئے گئے تھے ،انہیں بھی سڑکوں کی تعمیر اور پارک وغیرہ بنانے میں استعمال کرلیا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *