رتھ یاترا کے جواب میں کیرتن یاترا

anubarta
انتخابات قریب آتے ہی سیاسی پارٹیوں کی یاتراؤں کی ہوڑ لگ جاتی ہے۔یہ یاترائیں سیاسی مقصد سے ہوتی ہیں ۔البتہ ہر سیاست داں کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ یہ کام سماجی خدمت کے لئے کررہا ہے۔ اس وقت بنگال میں ترنمول کانگریس کی حکومت ہے اور بی جے پی وہاں اپنے پاؤں جمانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ ریاست میں اپنے اثرو رسوخ بڑھانے کے لئے بی جے پی نے ایک یاترا نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے تو اس کے جواب میں ترنمول بھی یاترا نکالنے جارہی ہے۔

 

بی جے پی بنگال میں 14 دسمبر کو رتھ یاترا نکالنے جارہی ہے۔اس کے جواب میں ترنمول کانگریس کے لیڈر اور بیر بھوم ضلع کانگریس کے سربراہ انو برتا منڈل نے کیرتن یاترا نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی رتھ یاترا کا مغربی بنگال پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے۔
انوبرتا منڈل کا کہنا ہے کہ میں کیرتن سے متعلق بہت کچھ نہیں جانتا ہوں لیکن 14 دسمبر کو بیر بھوم میں اس یاترا کا اہتمام کیا جائے گا ۔یہ ضلع کے کئی ڈویژنوں میں جائے گی۔قابل ذکر ہے کہ اس پروگرام میں ریاستی وزیر اشیش بنرجی اور چندر ناتھ سنہا موجود تھے۔ اس کے علاوہ بیر بھوم ضلع کے 19بلاک صدر بھی موجود تھے ۔اس سے اشارہ ملتا ہے کہ پارٹی اس کیرتن یاترا کے لئے بھرپور تائید کررہی ہے اور بی جے پی کا جواب سمجھ رہی ہے۔انوبرتا منڈل کہتے ہیں کہ میں کسی ایک مذہب کو دوسرے مذہب پر ترجیح نہیں دیتا لیکن یاترا نکال کر غریبوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔
سیاسی پارٹیاں کچھ بھی کہیں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس طرح کی یاتراؤں مقصد صرف اور صرف سیاسی ہوتا ہے ،چاہے اس کا عنوان مذہبی یا سماجی رکھا جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *