تلنگانہ انتخابات میں کدھر جائے گا مسلمان؟

muslims
2014میں قائم ہوئی نئی ریاست تلنگانہ میں آئندہ 7دسمبرکودوسری بار ہورہے اسمبلی انتخابات میں مسلمان کدھرجائے گا، یہ سوال بہت اہم ہے کیونکہ ریاست کی 53سیٹوں میں مسلمان اہم فیکٹر ہے۔گذشتہ انتخابات میں مسلم اکثریت کے چندرشیکھرراؤ کے حق میں تھی اوران کی تلنگانہ راشٹرسمیتی(ٹی آرایس) نے دیگر ارکان کی حمایت سے حکومت بنالی تھی مگر6ماہ قبل ہورہے اس بار کے انتخابات میں صورتحال قطعی مختلف ہے۔
اینٹی انکمبینسی فیکٹر کے سبب دیگرووٹرس کی طرح مسلم کمیونٹی کے پاس بھی کانگریس، ٹی ڈی پی ، ٹی جے ایس اورسی پی آئی پرمشتمل متبادل پرجاکوٹامی یعنی پیپلز فرنٹ موجودہے۔
جہاں ایک طرف کے سی آر کی پارٹی ٹی آریس مسلمانوں سے مزیدنئے نئے وعدے کررہی ہے،وہیں دوسری طرف کانگریس نے بھی مسلمانوں کیلئے پرکشش وعدوں کا دروازہ کھول دیاہے۔ وعدوں کے کرنے میں دونوں ایک دوسرے کوپیچھے چھوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔کے سی آرکی پشت پرمجلس اتحادالمسلمین (ایم آئی ایم) کے بیرسٹراسدالدین اویسی کھڑے ہیں جبکہ کانگریس کی حمایت میں آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ اورسی پی آئی ودیگرہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس حالت میں مسلم ووٹرس متحد رہ پائے گا؟ یاپھراکثریت سے کسی ایک گروپ کی طرف جھکے گا؟
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے صحافی احمداللہ صدیقی کا کہناہے کہ کانگریس کومسلم ووٹ وہاں ضرور ملے گا جہاں اس کا بی جے پی سے سیدھا مقابلہ ہے مگریہ ٹی آرایس ایس اورایم آئی ایم کے ووٹ بینک کوبھی دیگرحلقوں میں متاثر کرے،کوئی ضروری نہیں ہے۔ان کے مطابق، تلنگانہ کا مسلمان باشعورہے، وہ اپنے ووٹ کو منقسم کرکے تلنگانہ کوکمزور نہیں ہونے دے گا۔
فی الوقت تلنگانہ میں صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف بی جے پی کا الزام ہے کہ ٹی آرایس-ایم آئی ایم -کانگریس ایک ہے جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ ٹی آرایس اوربی جے پی کے درمیان سانٹھ گانٹھ ہے۔
ویسے اس حقیقت سے انکارنہیں کیا جاسکتاہے کہ اگرکانگریس -ٹی ڈی پی-ٹی جے ایس-سی پی آئی اتحاد نے اس انتخاب میں ٹھیک ٹھاک کرلیا تو چندرابابو نائیڈو کی بی جے پی مخالف اپوزیشن اتحاد کی کوششوں کوقوت ملے گی جس کا آئندہ 10دسمبرکونئی دہلی میں اجلاس ہورہاہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *