ایڈز کے بارے میں آٹھ اہم باتیں 

ایڈز کا مرض دنیا بھر میں صحت کا ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے اب تک ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔صرف گذشتہ برس میں ایک کروڑ افراد ایڈز کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ابھی تقریباً تین کروڑ ستر لاکھ ایسے ہیں جو اس وائرس کا شکار ہیں، ان میں سے 70 فیصد افریقہ میں موجود ہیں۔ 18 لاکھ ایسے ہیں جو 2017 میں اس سے متاثر ہوئے۔اس مرض کے پھیلنے کا آغاز 1980 میں ہوا۔

 

آج اس مرض کے خلاف آگاہی پھیلانے کا دن ہے ۔اس مرض کے تعلق سے ایک طویل عرصے تک غلط تصور تھا جس کی وجہ سے اس کے مریض سے امتیازی سلوک برتا جاتا تھا۔ بہت سے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایچ آئی وی ایڈز تھوک اور متاثرہ مریض کی جلد سے یعنی اسے چھو لینے سے بھی پھیل جاتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی کو چھونے سے، آنسوؤں سے، پسینے سے، تھوک سے یا پھر پیشاب سے منتقل نہیں ہوتا۔اسی طرح ایک ہی ہوا میں سانس لینے سے، معانقہ کرنے سے، بوسہ لینے سے یا ہاتھ ملانے سے، ایک دوسرے کے کھانے کے برتن استعمال کرنے سے ، نہانے کے لیے ایک شاور استعمال کرنے سے ، ایک دوسرے کی ذاتی اشیا استعمال کرنے سے، جم میں ایک ہی مشین استعمال کرنے سے ، ٹائلٹ کی سیٹ کو چھونے سے، دروازے کے ہینڈل کو چھونے سے۔

 

اس وائرس کی منتقلی کے حوالے سے پھیلے غلط تصورات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ایچ آئی وی ایڈز جسم میں موجود سیال مادوں کی کسی دوسرے شخص کے جسم میں منتقل ہونے سے ہوتا ہے جیسے خون، اندام نہانی سیال یا عورت کے دودھ سے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *