نوئیڈا میں نماز جمعہ کے سلسلے میں اقلیتی کمیشن کا یوپی پولیس کو مکتوب

Share Article
namaz-in-noida
نوئیڈا کے ایک پارک میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بارے میں وہاں کی پولیس نے کمپنیوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے ملازمین نماز جمعہ متعلقہ پارک میں ادا کرتے ہیں تو ان کمپنیوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ اس خبر کا نوٹس لیتے ہوئے دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اتر پردیش کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس شری اوم پرکاش کو خط لکھ ناراضگی جتائی ہے۔ ڈاکٹر خان نے اپنے خط میں کہا ہے کہ کچھ عرصے سے یو پی پولیس کی کافی بدنامی ہو رہی ہے، خصوصا ایک ہزار سے زیادہ انکاؤنٹر کے واقعات کی وجہ سے جس میں یو پی پولیس پچھلے برسوں میں ملوث رہی ہے۔ ڈاکٹر خان نے اپنے خط میں مزید کہا کہ اس بات سے بھی پولیس کی شبیہ متاثر ہوئی ہے کہ کچھ دنوں قبل پولیس نے اپنے ہی ایک افسر کے قتل کی پردہ پوشی کی اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ گائے کشی ایک پولیس افسر کے قتل سے زیادہ بڑا جرم ہے۔
ڈاکٹر خان نے یو پی ڈی جی پی کے نام اپنے خط میں کہا کہ کسی کمپنی کو اس کے ملازمین کے ذاتی اعمال کا ذمے دار ٹہرانا قطعا غیر قانونی ہے۔ اس عمل سے پولیس فورس اپنی حدود سے تجاوز کررہی ہے کیونکہ اس کا کام قانون و آئین کا پالن کرنا اور دوسروں سے ان پر عمل کروانا ہے۔اگر کسی کو کسی پارک میں نماز جمعہ سے پریشانی ہے تو پولیس کا فرض ہے کہ اس مذہبی عمل کے لئے کوئی اور جگہ مختص کردے جیسا کہ گڑکاؤں میں کیا گیا ہے۔سارا معاملہ مشکل سے آدھے گھنٹے کا ہے جس کے دوران نمازی چٹائیاں لیکر آتے ہیں اور پھر انھیں واپس لے جاتے ہیں۔ڈاکٹر خان نے اپنے خط میں کہا کہ ہندوستان کا آئین دفعات 25-28 میں مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ جماعت سے نماز جمعہ ادا کرنا اس کا مذہبی فریضہ ہے۔بعض جگہوں پر مسجد نہ ہونے کی وجہ سے لوگ پارکوں وغیرہ میں نماز ادا کرتے ہیں ۔پولیس اور انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ نماز کے بہانے کوئی ایسی کسی پبلک جگہ میں مستقل تعمیر نہ کرلے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *