اذان دے کر احتجاج 


اپنی بات منوانے کے لئے خاص طور پر سرکار جب کسی بات پر دھیان نہ دے تو اس کا دھیان اپنی طرف لانے کے لئے عجیب عجیب طریقے اپنائے جاتے ہیں۔بابری مسجد کی از سر نو تعمیر کے لئے بھی مہاراشٹر کے لوگوں نے ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا۔بابری مسجد کی 26ویں برسی کے موقع پر ہزاروں مسلمانوں نے ممبئی سمیت مہاراشٹر کے متعدد شہروں میں اذان دے کر احتجاج کیا اور بابری مسجد کو اسی جگہ پر پھر سے بنانے کی اپیل کی جہاں پر وہ 6 دسمبر 1992 سے پہلے قائم تھی ۔
اس موقع پر رضا اکیڈمی کی طرف سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ اس اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیاکہ بابری مسجد کی شہادت کے قصورواروں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، لبراہن کمیشن نے جن افراد کو ملزم قرارد دیا ہے، ان کے خلاف بھی کارروائی ہو جبکہ رام جنم بھومی نامی فلم بنانے والے وسیم رضوی کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور لبراہن کمیشن کی سفارشات کو نافذ کیا جائے۔ مجمع کو خطاب کرتے ہوئے محمد سعید نوری نے کہاکہ مسجد کی تعمیر ہونے کے بعد وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے ،اس لئے مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ بابری مسجد کو اس کی اصلی جگہ پرتعمیر کیا جائے۔
احتجاج کو دیکھتے ہوئے علاقے میں سخت سیکورٹی پہرہ لگایا گیاتھا۔ دراصل اسی دن دلت رہنما اور آئین کی تیاری میں اہم رول ادا کرنے والے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی برسی کی وجہ سے بھی بھیڑ تھی جس کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔تاکہ کوئی ناکوشگوار واقعہ نہ پیش آئے۔ جگہ جگہ چوراہوں پر مسلح پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کردیئے گئے۔ اس سے بہتر نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی ناگفتہ بہ صورت حال پیدا نہیں ہوئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *