مردہ ماں کے جنین کی پرورش زندہ عورت کے پیٹ میں


سائنس نے کتنی ترقی کی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک عورت مرجاتی ہے ،اس کے پیٹ میں زندہ بچہ ہوتا ہے لیکن ابھی بچے کی نشو و نما باقی ہے تو اس مردہ عورت سے بچے کو نکال کر ایک زندہ عورت کی بیضہ دانی میں منتقل کردیا جاتا ہے اور مردہ جسم سے نکال کر ایک عورت میں ٹرانسپلانٹ کی گئی بیضہ دانی سے ایک صحت مند بچی پیدا ہوتی ہے۔
برازیل کے شہر ساؤ پالو میں 2016 میں 10 گھنٹے کے طویل آپریشن کے ذریعے بچہ دانی ایک 32 سالہ عورت میں ٹرانسپلانٹ کی گئی تھی کیونکہ یہ پیدائشی طور پر بچہ دانی سے محروم تھیں۔اس سے پہلے مردہ عورت کی بچہ دانی کو دوسری عورت میں پیوند کاری کرنے کے پہلے 10 تجربات ناکام ہو چکے تھے۔ البتہ اس مرتبہ ڈاکٹروں نے اس میں کامیابی پالی ۔حالیہ تجربے میں ایک 45 سالہ خاتون نے بچہ دانی عطیہ کی جن کی موت دماغ کی شریان پھٹنے کے نتیجے میں ہوئی تھی لیکن ان کی بیضہ دان ٹھیک تھی۔
ظاہر ہے اس تجربے سے ایک بات سامنے آئی کہ اب اگر ایسی صورت حال پیدا ہوجائے اور ماں کسی وجہ سے اپنے بچے کو جنم دینے سے پہلے وفات پاجاتی ہیں تو ایسی صورت میں اس بچے کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ جبکہ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ ماں کے ساتھ ساتھ بچے کی بھی جان چلی جاتی تھی۔اب بہت سے معصوموں کی زندگی بچائی جاسکتی ہے ،وہ بھی اس طرح کہ وہ بچہ دوسری ماں کے پیٹ میں پرورش پائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *