شہرت کی خاطر اوچھا طریقہ

babri-masjid
کچھ لوگوں کو اخبار میں چھپنے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ اس شوق کو پورا کرنے کے لئے وہ اوچھے طریقے اختیار کرتے ہیں۔ذات برادری کی بات کرکے، فرقہ واریت کی بات کرکے اور مندو مسجد کی بات کرکے عوام میں اشتعال پیدا کرتے ہیں اور اخبارات میں چھپ کر جذباتی لوگوں کی واہ واہی لوٹتے ہیں۔ ایسے لوگ زیادہ تر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں اترپردیش کے ریاستی وزیر انل وج نے ایک ٹویٹ کیا ہے ۔اس ٹویٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’ جس دن رام بھکت طاقتور ہوجائیں گے ،اسی دن رام مندر بنالیں گے‘‘۔ یہی نہیں مزید اشتعال پیدا کرنے کے لئے انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’’ بابر غالب تھا، اس لئے اس نے طاقت کے نشہ میں مندر توڑ کر مسجد بنوادی تھی، یہ مسجد کسی قانون کے تحت تھوڑا ہی بنی تھی‘‘۔وہ مزید آگے لکھتے ہیں کہ ’’رام بھکتوں نے آدھا کام تو کردیا ہے کہ مسجد گرادی، آدھا کام باقی رہ گیا ہے، وہ بھی پورا ہو جائے گا‘‘۔
ریاستی وزیر نے یہ ٹویٹ ٹھیک اسی دن کیا جس دن بابری مسجد منہدم کی گئی یعنی کے چھ دسمبر کو۔ اس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ وہ اس مسئلے کو سلگائے رکھنا چاہتے ہیں ۔اس سے ان کو فائدہ یہ مل رہا ہے کہ ایک طرف جذباتی لوگ ایسی بات کرنے والوں کے ارد گرد جمع ہوجاتے ہیں اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس بہانے اخباروں میں جگہ مل جاتی ہے۔غرضیکہ چھوٹے فائدے کے لئے ملک کو بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں ۔حالانکہ ایسے فائدے ہمیشہ عراضی ہوتے ہیں کیونکہ ذاتی فائدے سے بہت بڑا ہے ملک و قوم کا فائدہ ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *