آسیہ اندرابی کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش 

Asiya
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے معروف کشمیری خاتون لیڈر اور دختران ملت نامی تنظیم کی سربراہ آسیہ اندرابی اور انکی دو ساتھیوں کے خلاف سخت ترین الزامات سے متعلق چارج شیٹ پیشِ عدالت کرنے اور عدالت کی جانب سے اس چارج شیٹ کو شنوائی کے لئے تسلیم کئے جانے کے بعد آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کی رہائی کا امکان فی الحال ختم ہوگیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں علاحدگی پسند لیڈران اور سیول سوسائٹی کی جانب سے ان خواتین کی رہائی کا مطالبہ کافی عرصے سے کیا جارہا تھا۔کیونکہ آسیہ اندرابی ایک طویل عرصے سے علیل ہیں۔ گزشتہ سال ریاستی ہائی کورٹ نے ان کی علالت کی بنا پر ہی ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
این آئی اے نے آسیہ اور انکی دو ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نصرین پر ’’ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے ‘‘ جیسے سنگین الزام کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔ سرینگر سے تعلق رکھنے والی ان تینوں خواتین کو پولیس نے اس سال اپریل میں گرفتا کیا تھا ، جس کے بعد جولائی میں یہ کیس این آئی اے کو سونپ دیا گیا تھا۔ این آئی اے نے تینوں خواتین کو پوچھ تاچھ کے لئے بذریعہ طیارہ دلی پہنچادیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی تحقیقاتی ایجنسی نے کسی گرفتار شدہ کشمیری خاتون یا خواتین کو پوچھ تاچھ کے لئے دہلی لائی ہو۔ کئی ماہ بعد بالآخر این آئی اے نے کل ان تینوں خواتین کے خلاف دلی کی ایک خصوصی عدالت میں فرد جرم پیش کی ۔
ذرائع کے مطابق اس چارچ سیٹ میں آسیہ اور ان کی ساتھیوں پر ملی ٹنٹوں کے لئے فنڈ جمع کرنے ، نفرتوں بھری تقریریں کرنے، سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے بھارت مخالف پروپگنڈا کرنے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ چارج شیٹ میں آسیہ اندرابی کو بھارت کو مطلوب پاکستانی دہشت گرد حافظ سعید کے ساتھ رابطے میں رہنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ خصوصی عدالت کی جج پونم بامبا نے چارج شیٹ شنوائی کے لئے منظور کرتے ہوئے ان تینوں خواتین کو عدالتی تحویل میں تہاڑ جیل بھیج دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ دختران ملت جموں کشمیر میں ایک ایسی تنظیم ہے ، جسے حکومت نے ممنوعہ قرار دیا ہے۔آسیہ اندرابی اس تنظیم کی بانی ہے ۔ اس کا شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو بھی بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت گزشتہ 26سال یعنی 1992سے جیل میں ہے۔
(رپورٹ : ہارون ریشی )
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *