سپریم کورٹ کی تاریخ کا سب سے مشکل فیصلہ بابری مسجد-رام جنم بھومی 

babri-masjid-ram-mandir
بابری مسجد تنازعے کا آغاز 1853 میں ہوا۔ تاہم اس کے بعد بھی مسجد میں نماز ہوتی رہی حتی کہ 23 دسمبر 1949 کی شب چند ہندوؤں نے مسجد میں داخل ہو کر اس کے منبر پر رام جی کی مورتیاں رکھ دیں اور صبح سویرے اعلان کردیا کہ مندر میں بھگوان رام پر کٹ نمودار ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد مقامی انتظامیہ نے وہاں مسلمانوں کے نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ہندو رام مندر کی تعمیر کی مسلسل کوششیں کرتے رہے حتی کہ 6 دسمبر 1992 کو مسجد منہدم کر کے وہاں عارضی رام مندر تعمیر کر دیا گیا۔ جہاں آج تک باضابطہ پوجا ہو رہی ہے۔
وشوا ہندوں پریشد اور بجرنگ دل جیسی دائیں بازو کی شدت پسند ہندو تنظیمیں آج کے دن کو یوم فتح سمجھتی ہیں جبکہ یہ اس کے لئے ہزیمت کا دن ہے کیونکہ اس کے اس عمل نے پوری دنیا میں اسے ایک شدت پسند تنظیم کے طور پر مشہور کردیا ہے۔
بہر کیف یہ معاملہ ابھی عدالت میں ہے اور گر قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مقدمہ صرف زمین کے تنازعے کا ہے۔ عدالتیں ملکیت کے تعین کے لیے صرف ماضی کی دستاویزات اور مقامی محکمہ موصولات کے ریکارڈ دیکھتی ہیں لیکن قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عدالت عظمیٰ کی تاریخ کا سب سے مشکل فیصلہ ہو گا کیونکہ زمین کے اس تنازعے کا تعلق صرف ملکیت سے نہیں مذہبی عقائد سے بھی ہے اور اس سے مذہبی قوم پرستی کے جذبات بھی وابستہ ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *