باپ سمیت 20 لوگوں نے کی نابالغ لڑکی کی عصمت دری

Gangrape-file-pic

کیرل میں رشتوں کو شرمسارکرنے والا معاملہ سامنے آیاہے۔کیرل کے کننورضلع میں ایک 16سالہ لڑکی نے اپنے والد سمیت کئی لوگوں پر ریپ کے الزام لگائے ہیں۔ نابالغ لڑکی کا کہناہے کہ اس کے والد اس کے پچھلے دوسال سے ریپ کررہاتھا تھا۔اس کے علاوہ دیگرلوگوں نے بھی اسے ہوش کا شکاربنایا۔ولس کے مطابق، کیرالہ کے کننور ضلع میں ایک 16 سالہ نابالغ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کرنے کے معاملہ میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لڑکی کی ماں کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے اجتماعی عصمت دری کا معاملہ درج کیا ہے اور نابالغ کے والد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔بتایاجارہاہے کہ نابالغ لڑکی کی کئی مواقع پر کئی بار عصمت دری کی گئی۔ عصمت دری کرنے والوں میں لڑکی کا باپ بھی شامل تھا۔پولیس افسران نے بتایا کہ اس جرم میں کم سے کم 20 افراد شامل تھے۔ اس معاملہ میں پولیس نے ابھی تک 8 لوگوں سے پوچھ گچھ کی ہے۔
یہ معاملہ تب سامنے آیا جب پیر کے روز لڑکی کی والدہ نے شکایت درج کرائی۔ پولس کے مطابق، جب لڑکی کا ویڈیو بنا کر اسے بلیک میل کیا جانے لگا تب اس بارے میں اس کے بھائی کو پتہ چلا۔ بھائی نے اپنی بہن سے اس معاملہ میں بات کی تب جا کر ماں کو بھی معاملہ کی پوری جانکاری ملی۔لڑکی کی ماں کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، تمام ملزمین پہلے لڑکی کو ایک لاج میں لے گئے اور قابل اعتراض حالت میں اس کی تصویر کھینچی۔
پولس کا کہناہے کہ الزامات کے مطابق، دسویں کلاس میں پڑھنے والی متاثرہ لڑکی کے ساتھ اس کے باپ کے علاوہ کئی دوسرے لوگ ریپ کررہے تھے۔لڑکی پرجنسی استحصال گذشتہ دوسال سے ہورہاتھا۔پولس نے بتایاکہ گذشتہ نومبرمہینے میں ہی چار نئے لوگوں نے اس کے ساتھ ریپ کیا۔ان میں سے ایک نے لڑکی کے ساتھ فیس بک پردوستی کی تھی ۔جن چارلوگوں کوگرفتارکیاگیاہے ان کی عمر30سال کے قریب ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *