خاتون سپاہی کی موت کے بعد سپاہیوں کا ہنگامہ، ڈی ایس پی-ایس پی سٹی کوڈنڈوں سے پیٹا

protest-by-policemen
بہارکی راجدھانی پٹنہ میں ایک خاتون سپاہی کی موت کے بعد پولس لائن میں جمعہ کو مردوخواتین سپاہیوں نے ہنگامہ کیا۔بتایاجارہاہے کہ پٹنہ میں مبینہ طور ایک خاتون کانسٹیبل کی علاج میں کمی کے باعث موت ہوگئی۔ذرائع کے مطابق،خاتون سپاہی کی کم وقت میں مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے ڈینگو سے جمعہ کو ہوئی موت کے بعد پولیس اہلکاروں نے پٹنہ پولیس لائن میں جم کر ہنگامہ کیا۔ پولیس اہلکاروں نے افسران پراذیت دینے کا الزام لگایا ہے۔
ہنگامہ کے دوران مشتعل پولیس اہلکاروں نے شہر ایس پی، دیہی ایس پی، ڈی ایس پی اور سارجنٹ میجر کو بھی دوڑا دوڑا کر کر پیٹا۔خاتون پولیس اہلکاروں نے پولیس لائن میں کھڑی متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پولیس اہلکاروں کو قابو میں کرنے کے لئے افسران کی جانب سے 10 راؤنڈ فائرنگ بھی کی گئی، لیکن مشتعل پولیس اہلکاروں کی مخالفت جاری ہے۔
مشتعل سپاہیوں نے ڈی ایس پی مصلح الدین ، ایس پی سٹی ڈی امراوردیہات ایس پی آنند کمار کوڈنڈوں سے پیٹا۔ حالات قابومیں کرنے کیلئے کئی تھانوں کی پولس موقع پہنچی اورفائرنگ بھی کی۔
پولیس اہلکاروں کا الزام ہے کہ خاتون سپاہی کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ چھٹی مانگتی رہی، لیکن ا چھٹی نہ مل سکنے کی وجہ سے وہ اپنا علاج صحیح سے نہیں کرا پائی اور اس کی موت ہو گئی۔ جب اس طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو چھٹی لئے بغیر ہی وہ پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں داخل ہو گئی، جہاں آج علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔
متوفی کی ساتھیوں کے مطابق کچھ دن پہلے کارگل چوک پر ڈیوٹی کے دوران اس کی طبیعت مزید خراب ہو گئی تھی۔ اس نے ٹریفک تھانے سے چھٹی کامطالبہ کیا لیکن اسے سی ایل کے بدلے محض تین دن کی چھٹی ملی اور وہ علاج نہیں کرا پانے کی وجہ سے موت ہو گئی۔سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ منو مہاراج دیگر پولیس افسران کے ساتھ پولیس لائن پہنچ کر صورت حال کو قابو کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
ہنگامہ کررہے سپاہیوں نے الزام لگایاہے کہ ہمارا استحصال کیا جاتاہے۔ چھٹی نہیں ملتی ۔مہلوک سپاہی نے بھی چھٹی کی مانگ کی تھی، لیکن اسے چھٹی نہیں دی گئی۔قریب چارسو سپاہیوں نے پولس لائن میں ہنگامہ کیا۔انہو ں نے افسروں کی گاڑیوں میں توڑپھوڑ کی۔ ڈی ایس پی کے گھربھی توڑپھوڑکی گئی۔ اس کے باوجود یہ لوگ سڑکوں پرمظاہرے کیلئے نکل آئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *