سی بی آئی کی ساکھ کی نیلامی اصل ذمہ دار کون؟

Share Article

سی بی آئی کی ساکھ کی چوراہے پر ہوئی سرعام نیلامی کانگریس کے’ مینجمنٹ‘ اور بی جے پی کے ’مس مینجمنٹ‘ کا نتیجہ ہے۔ خود کو سنتری بتانے والے وزیر اعظم نریندر مودی بے دست و پا بنے رہ گئے۔ بدعنوانی کے معاملے کی جانچ کرنے والی ملک کی اس اکیلی مرکزی خفیہ ایجنسی کی ریلیونسی اور اس کے جواز کو ختم کرنے کی تیاری پچھلے کئی سال سے چل رہی تھی۔ اس تیاری میںلگی کانگریس کے ساتھ کچھ پرانے بی جے پی والے بھی شامل ہو گئے تھے۔ لیکن سب کی اپنی وجوہات تھیں اور بچاؤ کی پیش بندی تھی۔
آلوک ورما اور استھانہ تو صرف مہرے
سی بی آئی کے ڈائریکٹر آلوک ورما اور اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کے بیچ جو کچھ ہوا، اس میںدونوں افسر محض مہرے تھے۔ ان دو مہروںکا استعمال کیا گیا اور کانگریس کو اس میںکامیابی ملی۔ان دو مہروںکو لڑاکر سی بی آئی کی ساکھ اور اس کے جواز کو ختم کرنے میںکانگریسیوں اور ان کا ساتھ دے رہے بی جے پی والوںکو کامیابی ملی۔ اب سی بی آئی کانگریس لیڈر راہل گاندھی،پی چدمبرم،احمد پٹیل یا سابق بی جے پی لیڈر ارون شوری پر کوئی کارروائی بھی کرے، تو اب اس کی اتنی دھار نہیںرہ جائے گی۔ یہ جو چار لیڈروںکے نام لیے گئے، وہ سامنے کے چہرے ہیں۔ ان کے پیچھے لمبی قطار ہے ان گھوٹالے بازوں اور بدعنوان لوگوںکی، جو سی بی آئی کے شکنجے میں آنے والے تھے، لیکن اب کچھ دنوں کے لیے راحت پاگئے ہیں۔ کانگریس کی سائیکو لوجی میںہے کہ 2019 کے الیکشن میں مرکز میں اگر کانگریس قیادت والے یو پی اے کی حکومت نہیںبھی آئی تو بی جے پی مخالف طاقتیںمل کر سرکار بنائیںگی اور کانگریس کا اس میںاہم رول رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سی بی آئی بلکہ تمام ایسی ایجنسیوں اور حساس محکموں کے افسروںکو یہ لالچ دیا جانے لگا ہے کہ حکومت بدلتے ہی انھیں اہم عہدوں پر بٹھایا جائے گا۔ سی بی آئی میںہورہی لڑائی کا خلاصہ یہی ہے۔
پچھلے سال جولائی اور ستمبر کے دو ایڈیشنوں میں’چوتھی دنیا‘نے میٹ کاروباری سے حوالہ کاروباری اور منی لانڈرنگ کے سرغنہ بنے معین قریشی اور سی بی آئی کے اعلیٰ افسروں کی کہانی شائع کی تھی۔ اس وقت ہی یہ اشارہ مل گیا تھا کہ سی بی آئی کا اندرونی ڈھانچہ دھماکے دہانے پر کھڑ ا ہے، کبھی بھی دھماکہ ہوسکتا ہے اور قلعہ بکھر سکتا ہے۔ لیکن مرکز کے اقتدار پر بیٹھے بی جے پی والوں کو تو صرف اپنی تعریف پسند ہے۔ نئے اقتدار کا مزہ پانے والے بی جے پی لیڈران تنقید پسند نہیںکرتے اور نہ ہی آگاہ ہونے والی خبریں پڑھتے ہیں۔ اگر اسی وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے ’کرائسس مینجمنٹ‘ کرلیا ہوتا تو آج یہ کرکری نہیںہوئی ہوتی اور نہ ہی مرکزی سرکار کو جلد بازی میںکوئی غیر دانشمندانہ قدم اٹھانے کی ضرورت پڑتی۔ ایم ناگیشور راؤ کو سی بی آئی کا عبوری ڈائریکٹر بنانے کا فیصلہ مرکزی سرکار کا بے وقوفانہ فیصلہ ہی تو ہے۔ بدعنوانی کے الزاموں اور تنازعوں میںگھرے ناگیشور راؤ کو سی بی آئی کا عبوری ڈائریکٹر بنانے کا فیصلہ، بی جے پی سرکار کی ایمانداری اور شفافیت کے دعووں کی اصلیت بتاتا ہے۔

 

 

 

 

کمزوری کس کی؟
وزیر اعظم نریندر مودی عوامی فورموںسے چاہے جتنے مضبوط الفاظ کا استعمال کریں،اسے کام کی شکل میںاتارنے میںکمزور ثابت ہوتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے تابع محکموںمیںمرکزی خفیہ ایجنسی سب سے اہم ہے لیکن سی بی آئی میں’کانگریسیت ‘ کی دراندازی روکنے میںوہ ناکام رہے اور یہ خفیہ ایجنسی پوری طرح بے قابو ہوگئی۔ آلوک ورما یا راکیش استھانہ تو اے پی سنگھ، رنجیت سنہا، ارون کمار یا جاوید احمدجیسے افسروں کے بعد کی پیداوار ہیں۔ پہلے ہی جراثیم کش کا چھڑکاؤ ہوجاتا تو کیڑوں کی اگلی جماعت پیدا ہی نہیں ہوتی۔ لیکن مودی چوک گئے۔ سی بی آئی کو سڑانے کے لیے سارے افسر ذمہ دار ہیں، جو کانگریس کے اشارے پر اپنے بنیادی کام کی شاطرانہ اندیکھی اور لیپاپوتی کرتے رہے۔ اس وجہ سے صرف منی لانڈرنگ ہی نہیں بلکہ ٹوجی اسکیم،ایئرسیل میکسس اسکیم، اسٹرلنگ بایوٹیک سندیسارا اسکیم، اگسٹا ویسٹ لینڈ اسکیم، نیشنل ہیرالڈ اسکیم، ہوٹل لکشمی ولاس پیلیس سیل اسکیم سمیت کئی اہم معاملے اندرونی بدنظمی میںپھنسے رہ گئے۔ دوسری طرف سی بی آئی، بی جے پی کے اشارے پر کبھی مایاوتی کے بھائی کو پوچھ تاچھ کے بہانے دو دو دن تک دفتر میںبٹھاکر دباؤ بناتی رہی تو کبھی الگ الگ گھوٹالوں کے نام پر لالو خاندان کو ہڑکاتی رہی۔ اس طرح کے سیاست زدہ طرزعمل کے سبب ہی تین اہم خفیہ ایجنسیوں میںتناؤ بڑھا، مار پیٹ ہوئی اور باہمی تعصب بڑھا۔ سی بی آئی اور آئی بی کی عداوت سڑک تک آگئی ۔ سیاست اور بدعنوانی نے ان مرکزی ایجنسیوں کی ساکھ کا بنٹا دھار کردیا۔ مرکزی خفیہ ایجنسی سے منسلک انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور انکم ٹیکس جیسے محکموں کو بھی سیاسی دیمک نے کھایا۔ کرنیل سنگھ اور راجیشور سنگھ جیسے کئی متنازعہ افسروں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی شہرت چاروں طرف پھیلائی۔ یہ سب جانتے سمجھتے ہوئے بھی وزیر اعظم نریندر مودی نے کوئی روک تھام نہیں کی، صرف منچوںسے بہتر گورننس پر بھاشن دیتے رہ گئے۔
سی بی آئی کی موجودہ چھیچھالیدر منی لانڈرنگ سرغنہ معین اختر قریشی کے کندھے پر رکھ کر کی گئی، اس لیے قریشی سے بات شروع کرتے ہیں۔ اصلیت یہ ہے کہ اس معاملے کے مرکز میںکانگریس لیڈروںکی گھبراہٹ ہے۔ معین قریشی کے منی لانڈرنگ اور حوالہ دھندے کی لپیٹ میںیوپی اے کے دور حکومت کے دو وزیر سیدھے طور پر پھنس رہے ہیں۔ انکم ٹیکس محکمے نے ان لیڈروں اور قریشی کے ساتھ بڑی رقم کے لین دین کے لنک پکڑے ہیں۔ ان دونوںوزیروں کے حوالہ ریکٹ میںشامل ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ یو پی اے سرکار کے دورمیںہوئے 2جی اسکیم میںپھنسی ایک بڑی کمپنی سے لی گئی 1500 کروڑ روپے کی رشوت کی رقم معین قریشی نے ہی حوالہ کے ذریعہ باہر بھیجی تھی۔ پیسے کا لین دین ہانگ کانگ میںہوا تھا۔
چھان بین میںیہ بات بھی سامنے آئی کہ معین قریشی نے حوالہ کے کام میں مرکزی خفیہ ایجنسی کے افسر کے رشتہ داروں کے ہانگ کانگ کے بینک اکاؤنٹسکا بھی استعمال کیا تھا۔ ان دو سابق وزیروں کے نام آپ خبر میںپائیںگے۔ کئی اور سابق وزیروں کے نام سامنے آنے کی امید تھی لیکن فی الحال یہ دھندلا گئی ہے۔ یہ سرکاری طور پر تصدیق ہوچکی ہے کہ معین قریشی اعلیٰ اقتداری گلیارے میںدلالی کا نیٹ ورک پھیلاکر منی لانڈرنگ اور حوالہ کا کاروبار چمکا رہا تھا۔ اس معاملے پر رائتہ پھیلانے کے منصوبے کے تحت معین قریشی کے خاص ستیش بابو سنا کے ذریعہ سی بی آئی کے اسیپشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کو کروڑوں روپے رشوت دیے جانے کا الزام لگایا گیا۔ بوکھلائے استھانہ نے سی بی آئی کے ڈائریکٹر آلوک ورما پر ستیشسنا سے دو کروڑ روپے لینے کا الزام لگایا۔ ستیشسنا پر قریشی کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ کا دھندہ کرنے اور لیڈروں، افسروں کو رشوت کھلانے کا الزام ہے۔
معین قریشی کے سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر اے پی سنگھ اور رنجیت سنہا سے گہرے بدعنوانی کے تعلقات اجاگر ہوچکے ہیں۔ ستیش سنا نے کہا ہے کہ اس نے منوج پرساد نام کے بچولیے کو اس کے دبئی میںواقع آفس میںایک کروڑ روپے دیے تھے۔ اس کے بعد سومویش پرساد کے کہنے پر سنیل متل کو بھی قریب دو کروڑ (1.95) روپے دیے۔ ستیش سناکے آدمی نے متل کو یہ پیسہ 13 دسمبر 2017 کو دہلی پریس کلب کے احاطے میںدیا تھا۔ ستیش کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف چل رہی سی بی آئی جانچ کو ختم کرنے کے لیے یہ رشوت دی جارہی تھی۔ ستیش سنا نے راکیش استھانا کو پچھلے سال دس مہینے کے وقفہ میںقریب تین کروڑ روپے رشوت دینے کی بات کہی۔
معین قریشی کے کیچڑ میںکون کون ملوث؟
دراصل معین قریشی کی کیچڑ میںآلوک ورما اور راکیش استھانا کے ساتھ ساتھ کئی اور افسر سنے ہوئے ہیں۔ ورما نے استھانہ پر رشوت لینے کا الزام لگایا تو استھانہ نے ورما پر ۔ استھانہ نے چیف وجیلنس کمشنر اور کیبنٹ سکریٹری کو خط لکھ کر کہا کہ سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما خود کو بچانے کے لیے ان پر الزام منڈھ رہے ہیں۔ اس معاملے میں حیدرآباد کا کاروباری اور قریشی کا قریبی ستیش بابو سنا اہم کردار نبھا رہا ہے۔ اس نے راکیش استھانہ پر رشوت لینے کا الزام لگایا اور فورم سے بیک اسٹیج پر چلا گیا۔ قریشی کے منی لانڈرنگ سنڈیکیٹ کی جانچ راکیش استھانہ کی قیادت میںاسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کر رہی تھی۔ ستیش سنا کے ذریعہ قریشی سے رشوت لینے کی الزام تراشیوں میںحقائق کو تال میل کرنے کی سازش متوازی طریقے سے چلتی رہی۔
آپ دھیان دیں۔ 25 ستمبر کو سیش سنا نے حیدرآباد ہوائی اڈے سے دبئی بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن ’لُک آؤٹ سرکولر‘ کی وجہ سے امیگریشن افسروںنے اسے روک دیا۔ قریشی کے معنی لانڈرنگ سنڈیکیٹ سے جڑے ستیش سنا سے پوچھ تاچھ کرنے کے لیے راکیش استھانہ نے ڈائریکٹر آلوک ورما سے رسمی طور پر اجازت مانگی تھی لیکن ورما نے استھانہ کی تجویز چار دن تک روکے رکھی اور اس کے بعد راکیش استھانہ کو بتائے بغیر وہ فائل ڈائریکٹر پروزیکیوشن کو بھیج دی۔ یہ سب ہوجانے کے بعد ستیش سنا کا معاملہ اچانک ابھر کر سامنے آیااور راکیش استھانہ کو رشوت دینے کا الزام اچھل کر چھا گیا۔ ستیش سنا کے شکایت نامہ پر 15 اکتوبر کو سی بی آئی نے راکیش استھانہ کے خلاف ایف آئی آر درج کردی اور ڈائریکٹر آلوک ور ما نے آناً فاناً قریشی معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی سے واپس بھی لے لی۔ اسٹیج سیٹ ہوجانے کے بعد باہر گھات لگائے بیٹھے سیاسی لوگوںنے وبال مچانا شروع کردیا۔ یہ بھی بتاتے چلیںکہ سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ نے دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت اور ان کے بیٹے سندیپ دیکشت کو بھی بدعنوانی کے معاملے میں گھیرے میںلینے کی کوشش کی تھی لیکن ورما نے انھیںایسا کرنے سے روک دیاتھا۔
واضح ہے کہ بدعنوانی اور کالا دھن سفید کرنے (منی لانڈرنگ) کے ملزم کانگریسی لیڈروںکو بچانے کی کوششیں چل رہی تھیں۔ آپ غور کریں کہ 15 ستمبر کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ کانگریس نے ’بی جے پی سرکار کے تعاون سے‘23 سرمایہ داروں کے ملک سے بھاگنے کی بات کہی لیکن جو لسٹ پریس کو سونپی، اس میں صرف 19لوگوںکے نام تھے۔ کانگریس نے بڑے شاطرانہ طریقے سے تین چار نام نہیںبتائے۔ وہ سرمایہ دار تھے اسٹرلنگ بایوٹیک کمپنی سے جڑے سندیسارا گروپ کے کرتا دھرتا نتن سندیسارا، دیپتی سندیسارا اور چیتن چندیسارا۔ سینئر کانگریسی لیڈر احمد پٹیل سے جڑے ان سرمایہ داروں نے آندھرا بینک کے ساتھ پانچ ہزار کروڑ کا فراڈ کیا اور دبئی بھاگ گئے۔
اب ان کے نائیجیریا میںہونے کی اطلاع ہے۔ سندیسارا خاندان اور احمد پٹیل خاندان کے ممبروں پر منی لانڈرنگ کے بھی گہرے اور سنگین الزام ہیں۔ کانگریس نے بڑی چالاکی سے ان لوگوں کے نام لسٹ سے ہٹادیے۔ اس گورکھ دھندے میںپکڑے گئے کچھ دیگر لوگوں نے یہ قبول بھی کیا ہے کہ ان لوگوںنے کئی کھیپ میںاحمد پٹیل کی سرکاری رہائش گاہ پر پیسے پہنچائے۔ احمد پٹیل کے بیٹے فیصل پٹیل اور داماد عرفان صدیقی کا نام تو سی بی آئی کی ایف آئی آر میںبھی ہے۔ کانگریس کو سی بی آئی کی یہ فائل نہیںدکھائی دی۔ کانگریس سڑک پر بدعنوانی کے خلاف تحریک چلاتی دکھائی دے رہی ہے لیکن کردار اس کے بالکلبرعکس ہے ۔
کانگریس نے مرکزی سرکار پر الزامات کی جھڑی لگاتے ہوئے بھی ہتھیار کاروباری سنجے بھنڈاری کا نام نہیںلیا۔ بھنڈاری کے راہل کے بہنوئی رابرٹ واڈرا سے گہرے تعلقات ہیں۔ سنجے بھنڈاری سی بی آئی اور ای ڈی کی پوچھ تاچھ میںرابرٹ واڈرا کی بے شمار جائیداد کے بارے میںخلاصہ کرچکا ہے۔ لندن کی ایک عالیشان کوٹھی تو رابرٹ واڈرا نے سنجے بھنڈاری کے نام پر ہی لے رکھی ہے۔ اگسٹا سے لے کر رافیل کی سودے بازی میںسنجے بھنڈاری نے یو پی اے دور کی دلالی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یو پی اے دور میںہتھیاروںکی خرید میںبھنڈاری نے خوب دلالی کھائی اور کانگریسی لیڈروں اور ان کے رشتہ داروں کو کھلائی۔ سنجے بھنڈاری بھی ملک سے گپ چپ بھاگ گیا لیکن کانگریس نے ایک بار بھی اس کا نام نہیںلیا۔

 

 

 

 

اقرار جرم
اسٹرلنگ بایوٹیک اور سندیسارا گروپ کے ذریعہ کیے گئے پانچ ہزار کروڑ رپے کے بینک فراڈ میںگرفتار حوالہ کاروباری رنجیت ملک عرف جانی نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی پوچھ تاچھ میںیہ قبول کیا ہے کہ اس نے اپنے کوریئر ایجنٹ راکیش چندرا کے ذریعہ 25 لاکھ روپے سیدھے احمد پٹیل کو ان کی دہلی کے 23مدر ٹریسا کریسنٹ میںواقع رہائش گاہ پہنچائے تھے۔ منی لانڈرنگ معاملے میںای ڈی کی گرفت میںآئے سندیسارا گروپ کے ملزم سنیل یادو نے احمد پٹیل کے بیٹے فیصل پٹیل کے بیٹے فیصل پٹیل کے بھی اس گورکھ دھندے میںشامل ہونے کی بات بتائی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹکو سنیل یادو نے تحریری طور پر بتایا ہے کہ سندیسارا گروپ کے مالک چیتن سندیسارا کی ہدایت پر اس نے فیصل پٹیل کے ڈرائیور کے ہاتھوں بڑی رقم فیصل کے لیے بھیجی تھی۔
اس کے علاوہ چیتن سندیسارا خود احمد پٹیل کے گھر پر لگاتار آیا جایا کرتے تھے۔ اب تک یہ سوال بے جواب ہے کہ اسٹرلنگ بایوٹیک کمپنی کے ذریعہ کیے گئے پانچ ہزار کروڑ روپے کے فراڈ کی سی بی آئی یا انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جانچ کیوں نہیںآگے بڑھائی؟ پانچ ہزار کروڑ کے فراڈ میںآندھرا بینک کے سابق ڈائریکٹر انوپ گرگ کی گرفتاری کے بعد سے یہ سوال گہرایا ہوا ہے کہ اسٹرلنگ بایوٹیک کمپنی کے علمبرداروں اور کمپنی سے جڑے کانگریس لیڈر احمد پٹیل سے اب تک سی بی آئی یا ای ڈی نے پوچھ تاچھ کیوںنہیںکی؟ جبکہ احمد پٹیل کے بیٹے فیصل پٹیل کا نام انکم ٹیکس افسروں کو رشوت دینے کے سلسلے میںسی بی آئی کی ایف آئی آر اور ای ڈی کی ایف آئی آر میںآچکا ہے۔ ای ڈی نے احمد پٹیل کے خاص گگن دھون کے خلاف تو چارج شیٹ بھی داخل کر رکھی ہے۔ گجرات کے وڈودرا میںواقع اسٹرلنگ بایوٹیک گروپ کے ذریعہ انکم ٹیکس محکمے کے اعلیٰ افسروں کو بھاری رشوت دیے جاتے رہنے کا خلاصہ ہوچکا ہے۔
اب آتے ہیں سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ پر۔ استھانہ کا بیٹا انکش استھانہ اسٹرلنگ بایوٹیک کمپنی میں2010 سے 2012 کے بیچ اونچے عہدے اور اونچی سیلری پر کام کرتا تھا۔ استھانہ کی بیٹی کی نومبر 2016 میںہوئی عالیشان شادی اسٹرلنگ فارم ہاؤس میںہی ہوئی تھی جو کافی تنازعوںمیںرہی۔ اسٹرلنگ سندیسارا گروپ سے رشوت کھانے والے لوگوںکی لسٹ میںراکیش استھانہ کا نام بھی شامل رہا ہے۔ سی بی آئی کے ذریعہ برآمد کی گئی ڈائری سے یہ خلاصہ ہوا تھا کہ سال 2011 میںاستھانہ کو قریب ساڑھے تین کروڑ روپے کچھ قسطوں میںدیے گئے تھے۔ اس وقت استھانہ سورت کے پولیس کمشنر تھے۔
سی بی آئی نے تب اس معاملے میںدو ایف آئی آر بھی درج کی تھیں۔ پہلی ایف آئی آر کمپنی سے رشوت کھانے والے تین انکم ٹیکس کمشنروں کے خلاف تھی اور دوسری ایف آئی آر بینک کے ساتھ پانچ ہزار کروڑ کی دھوکہ دھڑی کیے جانے کے معاملے سے جڑی تھی۔ آپ دیکھ رہے ہیںنہ عجیب سا گھال میل۔ سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما نے راکیش استھانہ کو ترقی دے کر سی بی آئی کا اسپیشل ڈائریکٹر بنانے کی مخالفت کی تھی لیکن چیف وجیلنس کمشنر اور مرکزی سرکار نے ڈائریکٹر کی بات کو ٹال کر استھانہ کو تیز رفتار سے پروموٹ کردیا۔ جب راکیش استھانہ کے کلوز لنک کانگریس لیڈر احمد پٹیل سے تھے، تب مودی سرکار نے ایسا کیوںکیا؟ یہ سیاست ہے، اس کے لیے پیچ و خم آپس میںاتنے الجھے ہوتے ہیںکہ عام آدمی کیا، کئی خاص لوگوں کو بھی سمجھ میںنہیں آتے۔
پردے کے پیچھے کا سچ یہ ہے کہ گجرات کے راجیہ سبھا الیکشن میںکانگریس امیدوار احمد پٹیل کو لے کر کانگریس کے ساتھ بی جے پی کی ایک ’سمجھداری‘ بن رہی تھی۔ کانگریس کی سیٹیں بھی کم تھیں اور بی جے پی کے لیے وہ عزت سے جڑا الیکشن تھا۔ کانگریس بھی بی جے پی کو اندر اندر سمجھ رہی تھی کہ احمد پٹیل کی امیدواری کانگریس کی سیاسی طور پر ضروری ہے جبکہ ان کی ہار یقینی ہے۔ اس ’سمجھداری‘ کے تحت بی جے پی سرکار نے احمد پٹیل کے خلاف سی بی آئی جانچ کی رفتار سست کردی تھی۔ بی جے پی کی طرف سے امیت شاہ، اسمرتی ایرانی اور بلونت سنگھ راجپوت امیدوار تھے۔ لیکن کانگریس نے بی جے پی کو بھرم میںرکھ کر اندرونی تکڑم ایسی بنائی کہ بی جے پی کی تکڑم بازی ڈھیر ہوگئی اور محض 44 ووٹ پاکر بھی احمد پٹیل راجیہ سبھا کا الیکشن جیت گئے۔
اس کھیل میںکانگریس سے جھٹکا کھانے کے بعد بی جے پی نے پینترا بدلا اور احمد پٹیل کے خلاف سی بی آئی جانچ نے تیزی پکڑ لی۔ 9 اگست 2017کو احمد پٹیل نے راجیہ سبھا کا الیکشن جیتا اور سی بی آئی نے 30 اگست 2017 کو ایف آئی آر درج کردی۔ اس کے بعد تابڑ توڑ کئی ایف آئی آر درج ہوئیں۔ سی بی آئی کی ایف آئی آر میںاحمد پٹیل کے داماد عرفان بھائی کا نام شامل ہے، جس نے انکم ٹیکس کمشنروں کو رشوت دی تھی۔ پیسے کے لین دین کے’ سوتر‘ سے احمدپٹیل کے قریبی گگن دھون کا نام بھی مضبوطی سے جڑا پایا گیا ہے۔ سی بی آئی نے ایف آئی آر میںان اعلیٰ افسروںکو بھی اینٹی کرپشن قانون کے تحت ملزم بنایا جنھیںاحمدپٹیل کے داماد نے رشوت دی تھی۔
ان میںآئی آر ایس افسر سنیل کمار اوجھا، ڈاکٹر سبھاش چندر اور مانس شنکر رائے کے نام شامل ہیں۔ پھر سے بتاتے چلیںکہ اسٹرلنگ بایوٹیک اور سندیسارا گروپ کے کرتا دھرتا نتن سندیسارا اور اس کے بھائی چیتن سندیسارا کے احمد پٹیل سے کافی نزدیکی تعلق ہیں۔ سی بی آئی کی ایف آئی آر کہتی ہے کہ اسٹرلنگ بایوٹیک اور سندیسارا گروپ کے وڑودرا، ممبئی اور اوٹی کے ٹھکانوں پر کی گئی چھاپہ ماری میںوہ ڈائری اور کمپیوٹری بیورا برآمد کئے گئے تھے، جو لیڈروں، نوکر شاہوں اور پولیس افسروں کو رشوت دینے کا خلاصہ کرتے ہیں۔ اسی ڈائری سے پتہ چلا کہ احمد پٹیل کے داماد عرفان صدیقی نے آئی آر ایس افسر ڈاکٹر سبھاش چندر کو ایک کروڑ روپے رشوت کے طور پر دیے تھے۔ اس کے علاوہ بھی اس آئی آر ایس افسر کو 75 لاکھ روپے دیے جانے کے دستاویز ی ثبوت ملے ہیں۔ رشوت کے ایسے کئی لین دین اجاگر ہوئے ہیں۔ عرفان صدیقی احمد پٹیل کی بیٹی ممتاز پٹیل کا شوہر ہے۔
سی بی آئی پر کانگریس کی گرفت
سی بی آئی پر کانگریس کی مضبوط گرفت کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ کانگریس کے اشارے پر سی بی آئی کے افسروں نے ہی سی بی آئی کا پورا ڈھانچہ چرمرا کر رکھ دیا۔ کانگریس کو سی بی آئی کی اندرونی اطلاعیں مل رہی تھیں ، تبھی راہل گاندھی کے ٹویٹ پر کانگریس کے لیڈر شہزاد پونہ والا نے سوال کھڑے کیے کہ آخر راہل گاندھی کو کیسے پتہ کہ سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما رافیل کی دستاویز اکٹھا کررہے تھے؟ راہل نے ٹویٹ کرکے کہا تھا کہ رافیل سودے سے جڑی دستاویزیں جٹانے میںلگے ہونے کی وجہ سے آلوک ورما کو ہٹایا گیا۔ آلوک ورما کی نگرانی میںہی اگسٹا ویسٹ لینڈ معاملے کی جانچ چل رہی تھی جو آج تک فیصلہ کن قانونی نتیجے تک نہیںپہنچی۔ اس معاملے میںچارج شیٹ بھی داخل نہیںکی گئی اور دبئی میںپکڑے جانے کے باوجود اگسٹا ویسٹ لینڈ خرید گھوٹالے کی اہم ملزم دلال کرشچین مشیل کو ہندوستان نہیںلایا جاسکا۔ پی چدمبرم ایئر سیل میکسس گھوٹالے سے بچے رہے اور ان کے بیٹے کارتی چدمبرم آئی این ایکس میڈیا منی لانڈرنگ معاملے میںقانون کے شکنجے میںنہیںآئے۔ سابق وزیر ریل لالو پرساد یادو آئی آر سی ٹی سی ریل ہوٹل گھوٹالے سے بچے رہے تو یو پی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا بیکانیر زمین گھوٹالے میںبچے رہ گئے۔
حالیہ دنوں میںبی جے پی لیڈر اور سابق مرکزی وزیرارون شوری کچھ زیادہ ہی بوکھلائے نظر آرہے تھے۔ رافیل کے مسئلے پر شوری کے تیکھے تیور کی اصلیت لکشمی ولاس پیلیس ہوٹلسیل گھوٹالے میںپھنسنے کی چھٹپٹاہٹ تھی۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آرہی ہے کہ ا س مسئلے پر شوری اور سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کی خفیہ ملاقات ہوئی تھی۔ 2002 میںجب ارون شوری مرکز میںوزیر ہوا کرتے تھے، تب اودے پور کا عالیشان پانچ ستارہ لکشمی ولاس ہوٹل بکا تھا۔ گھوٹالے کے ’اپکرموں‘ کو بیچنے کے سلسلے میںبھاری گھوٹالے ہوئے۔ 29 ایکڑ میںپھیلے لکشمی ولاس پیلیس ہوٹل کو محض 7.52کروڑ روپے میںبیچ ڈالا گیا جبکہ اس وقت ہوٹل کی قیمت سرکاری شرح کے حساب سے ڈیڑھ سو کروڑ روپے سے زیادہ تھی۔
یہ حقیقت سی بی آئی کی ابتدائی جانچ رپورٹ میںدرج ہے۔ ارون شوری کی ڈس انویسٹمنٹ منسٹری نے اس کے ساتھ ساتھ کئی دیگر ہوٹل بھی کوڑیوںکے بھاؤ بیچ ڈالے تھے، جن میں دہلی کے قطب ہوٹل اور لودھی ہوٹل بھی شامل تھے۔ سی بی آئی نے لکشمی ولاس پیلیس ہوٹل سیل گھوٹالے کی چھان بین شروع کی تھی اور شوری کے قریبی بھروسہ مند نوکر شاہ پردیپ بیجل کے خلاف 29 اگست 2014 کو کیس درج کیا تھا۔ شوری کی ہی مدت کار میںممبئی کا سینٹور ایئر پورٹ ہوٹل 83 کروڑ میںسہارا گروپ کو بیچا گیا تھا۔ دلچسپ یہ ہے کہ اسی ہوٹل کو سہارا گروپ نے 115 کروڑ میںبیچ ڈالا۔ یہ سرکار کے سیل کے عمل پر کرارے طمانچے کی طرح تھا۔

 

 

 

 

متنازعہ ناگیشور رائے بی جے پی کا نیا مہرہ
ورما- استھانہ کے تصادم کی وجہ سے ہورہی فضیحت سے بچنے کے لیے مرکزی سرکار نے آناً فاناً ایسے افسر کو سی بی آئی کا عبوری ڈائریکٹر بنادیا ، جس سے وزیر اعظم نریندر مودی کی اور کرکری ہوگئی۔ منم ناگیشور راؤ کافی متنازعہ آئی پی ایس افسر رہے ہیں۔ کرپشن موڈ میںبھی ان کا کافی نام ہے۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ وہ نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو کے خاص اور چیف وجیلنس کمشنر کے وی چودھری کے قریبی ہیں۔ چنئی کے گنڈی (ایچ ٹی ایل) زمین گھوٹالے کی جانچ کی لیپا پوتی کرنے میںراؤ نے اہم رول ادا کیا۔ اس وقت ناگیشور راؤ سی بی آئی چنئی زون کے اینٹی کرپشن برانچ کے چیف تھے۔ گنڈی زمین گھوٹالے کے ذریعہ اس وقت سرکار کو قریب ڈیڑھ سو کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا تھا۔
اس گھوٹالے کی جانچ میںگھال میل کرکے ناگیشور راؤ نے تامل ناڈو کے اس وقت کے چیف سکریٹری آر رام موہن راؤ، ان کے قریبی نرنجن مارڈی آئی اے ایس اور سیڈکو کے اس وقت کے صدر ہنس راج ورما آئی اے ایس سمیت گھوٹالے میںشامل رہے ایس بی آئی کے ڈپٹی جنرل منیجر لیون تھیرٹل، چیف منیجر این رام داس، میسرز وی جی این ڈیولپرز پرائیویٹ لمٹیڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈی پرتھیش اور ایچ ٹی ایل کے سی او او ڈی پی گپتا کو بچایا۔ راؤ نے اس معاملے میںسی بی آئی کی جانچ آگے نہیںبڑھنے دی اور گھوٹالے کے ثبوت غائب کردیے گئے۔ سی بی آئی نے وہ دستاویز بھی دبادی جس میںمختلف لیڈروں اور افسروںکو رشوت دیے جانے کا بیورا درج تھا۔ راؤ کی جرأت یہ رہی کہ زمین گھوٹالے کی جانچ کا معاملہ انھوںنے اپنی مرضی سے انڈین بینک کے افسر ویلایوتھم کو دے دیا۔
تمام شکایتوںکے باوجود اوڈیشہ کیڈر کے آئی پی ایس ناگیشور راؤ کی سی بی آئی دہلی میںتعیناتی ہوگئی اور آج انھیں عبوری ڈائریکٹر کے عہدے پر بٹھادیا گیا۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر آلوک ورما، ناگیشور راؤ کو سی بی آئی سے ہٹاکر واپس اصل کیڈر میںبھیجنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ناکام رہے۔ آخر کار ورما کو ہی ہٹنا پڑا۔ ناگیشور راؤ کی بیوی منّم سندھیا نے آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع میںقریب 14 ہزار مربع فٹ زمین خریدی، جسے کولکاتا کی ایک کاغذی (شیل ) کمپنی اینجلامرکنٹائلس پرائیویٹ لمٹیڈ سے لون لے کر خریدا دکھایا گیا۔ چھان بین کی گئی تو پتہ چلا کہ ناگیشور راؤ کی بیوی ایم سندھیا نے ہی مذکورہ کمپنی کوہی 38,27.141روپے قرض دے رکھے ہیں۔ دستاویزوں پر ایم سندھیانے شوہر کا نام درج کرانے کی بجائے اپنے والد چنّم ویشنو نارائن لکھوایا ہوا ہے۔ ایم سندھیا اینجلا مرکنٹائلس پرائیویٹ لمٹیڈ کی شیئر ہولڈر ہیں۔ ناگیشور راؤ پر اوڈیشہ میںجنگل کی زمین خریدنے کا معاملہ بھی زیر التوا ہے۔
سی بی آئی کے وکیل بھی ہیں سب گنگا نہائے
دو اعلیٰ افسروں کی اسپانسرڈ کشتی میںوکیل بھی دو خیموں میںبٹ گئے اور کئی وکیلوں کے چھدم بھی کھل گئے۔ جب اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر رد کرنے کے لیے عدالت میںعرضی داخل کی تو سی بی آئی کو بھی وکیل کی ضرورت پڑی۔ ایڈیشنل سالسٹر جنرل تشار مہتا کہیں اور کھسک لیے اور سی بی آئی کے مستقل سینئر وکیل امریندر شرن نے استھانہ کے حق میں قانونی لڑائی لڑنے کا بیڑا اٹھالیا۔ آخرکار سی بی آئی نے وکیل کونڈوری راگھو چاریولو کو تعینات کیا۔ راگھو چاریولوخود سی بی آئی کی نگرانی میںرہے ہیں۔
’ڈائری گیٹ‘ معاملے میںراگھو چاریولو کا نام تھا۔ سی بی آئی کے اس دور کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا کی سرکاری رہائش کی اینٹری ایگزٹ لاگ بک سے خلاصہ ہوا تھا کہ راگھو چاریولو کم سے کم 54 بار رنجیت سنہا سے ملنے گئے تھے۔ کونڈوری راگھو چاریولو کول مائننگ سرغنہ جناردن ریڈی کے وکیل تھے۔ سی بی آئی نے پھر بیچ میںہی راگھو چاریولو کو ہٹاکر وکرم جیت بنرجی کو اپنا وکیل بنا لیا تو دونوں وکیل ہی آپس میں بھڑ گئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *