راجستھان کا مسلمان کہاں اورکدھر؟

2011کی مردم شماری کی روشنی میں 9.10فیصد اور 2017میں ایک تجزیاتی سروے کے مطابق 11.14فیصد مسلم آبادی والی ریاست راجستھان ملک کی واحد ریاست ہے جہاں 2013کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے چارکھڑے کئے گئے امیدواروں میں دوارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور ان میں سے ایک موجودہ بی جے پی حکومت میں وزیرٹرانسپورٹ یونس خاں ہیں جوکہ 2003کی بی جے پی حکومت میں بھی وزیررہ چکے ہیں۔ان دونوں ایم ایل ایز میں سے ایک ڈیڈوانہ تودوسرے نگور سے ہیں۔
قابل ذکرہے کہ فی الوقت وہاں کی اسمبلی میں کانگریس کا کوئی مسلمان موجود نہیں ہے کیونکہ 2013میں کانگریس کے 15مسلم امیدواروں میں سے کوئی بھی جیت نہیں پایاتھا۔اس وقت کانگریس کیلئے صورتحال اتنی خراب ہوگئی تھی کہ اس کے سبھی مسلم کابینی وزراء اورارکان اسمبلی انتخابات ہارگئے تھے۔یہ بات بھی نوٹس لینے کی ہے کہ گذشتہ 15برسوں میں بی جے پی کے یونس خاں کو دوبار (2003اور2013) اورکانگریس کے حبیب الرحمن (2002-03)، تقی الدین احمد (2002-03)، عبدالعزیز(1998)، طیب حسین (1998)، امین خاں (2008) اوردورّو میاں (2008) کوایک ایک باروزیر بننے کے مواقع ملے ہیں۔
ان حقائق سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ ریاست میں مسلمانوں کومجموعی طورپر سیاست میں نظرانداز کیاگیاہے۔ نظرانداز کئے جانے کا یہ عمل اس وقت اورزیادہ محسوس ہوتاہے جب اعدادوشمار سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ریاست میں مسلم ووٹرس اسمبلی کی کل 200سیٹوں میں سے 36سیٹوں پر ہاروجیت کے معاملے میں اپنا اثر رکھتے ہیں۔ ان میں15سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم ووٹرس ہی غالب ہیں جبکہ 8-10سیٹوں پر مسلم ووٹ بینک انتخاب کے نتیجے طے کرتاہے۔یہ وہ حقیقت ہے جس کے سبب ان سیٹوں پر کانگریس اوربی جے پی دونوں اپنے اپنے مسلم امیدوارکھڑی کرتی رہی ہیں۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ریاست کی سیاسی تاریخ میں صرف ایک ہی آزاد امیدوار ماہرآزاد رکن اسمبلی بنے ہیں۔وہ 1998میںنگرسیٹ سے منتخب ہوئے تھے۔
تجزیہ کرنے پریہ چونکانے والا اندازہ ہوتاہے کہ گذشتہ چار اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کا فیصد بی جے پی کے مسلم امیدواروں کے فیصد سے کم ہے۔ گذشتہ چار انتخابات میں کانگریس نے مختلف سیٹوں سے 64مسلمانوں کو کھڑا کیا جن میں سے 26منتخب ہوئے جبکہ انہی چار انتخابات میں بی جے پی کے 14امیدواروں میں سے 6نے کامیابی کا پرچم لہرایا۔ 1998سے لیکر اب تک زیادہ انتخاب جیتنے کاسہرا رکن اسمبلی حبیب الرحمن کے سرجاتاہے۔ انہوں نے 1993سے لیکر 2013تک 20برسوں میں 5بار انتخابات لڑے ہیں اور4بارکامیاب ہوئے ہیں، دوبار2008اور2013میں نگور میں بی جے پی سے تودوبار 1993 اور 1998میں مونڈوا میں کانگریس سے۔وہ 2003میں کانگریس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑکر شکست کھا چکے ہیں۔
کل ملاکر تصویریہ ہے کہ چار اسمبلی انتخابات 1998، 2003، 2008اور2013میں سے بی جے پی کے 1998میں 4امیدواروں میں سے ایک، 2003میں واحد امیدوار، 2008میں 5امیدواروں میں سے ایک اور2013میں 4امیدواروں میں سے 2جیتے جبکہ 1998میں کانگریس کے 17امیدواروں میں سے 11، 2003میں 18امیدواروں میں سے4، 2008میں 13امیدواروں میں سے 11کامیاب ہوئے اور2013میں 16امیدواروں میں تمام ہارے۔ اس طرح دونوں پارٹیوں نے کل ملاکر ان چار اسمبلی انتخابات میں 78مسلمانوں کو ٹکٹ دیا جن میں محض 32(41فیصد)منتخب ہوئے۔

 

 

 

 

پوری ریاست کے کل 7ڈویزنوں میں سے 4ڈویزنوں اجمیر، جے پور، جودھپور اوربھرت پور میں ہی مختلف اسمبلی حلقے مسلم حلقے مانے جاتے ہیںجن میں اجمیر ڈویژن میں 6اسمبلی حلقے ٹونک، پوشکر، ڈیڈوانہ، مسودا، مکرانہ اورناگور، جے پور ڈویژن میں 7اسمبلی حلقے فتح پور، تجارا، رام گڑھ، کشن پول، ہوا محل، آدرش نگر اورجوہری بازار، جودھپور ڈویژن میں 4اسمبلی حلقے چوہٹّن ، شیو، سورساگر اورپوکرن اوربھرت پور ڈویژن میں4اسمبلی حلقے کاماں، دھولپور، سوائی مادھوپور اور نگرشامل ہیں۔بی جے پی اورکانگریس نے انہی اسمبلی حلقوں سے ہمیشہ مسلم امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ آزاد امیدوار ماہر آزادبھی یہیں سے 1998میں جیتے ہیں
ویسے راجستھان وہ ریاست ہے جہاں 66برس میں ایک مسلمان دوبار وزیراعلیٰ بھی رہاہے اوروہ تھے برکت اللہ خاں۔ وہ 9جولائی 1971سے 16مارچ 1972 اور16مارچ 1972سے 11اکتوبر 1973تک تاحیات اس اہم عہدہ پر فائزرہے۔
2018کے اسمبلی انتخابات کے موقع پر ریاست کے مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں آبادی کے تناسب میں سیاسی پارٹیاں ٹکٹ دیں کیونکہ گذشتہ 2013کے اسمبلی انتخابات میں اسمبلی میں مسلم نمائندگی اپنی سب سے نچلی سطح تک پہنچ گئی ہے جوکہ بہت ہی تشویش کی بات ہے۔ ابھی تو بی جے پی اور کانگریس کی حتمی فہرست آنی باقی ہے مگردریں اثناء سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بھی اپنے امیدواروں کو کھڑا کرنا شروع کیاہے۔ 23اکتوبر کوجاری اسکی پہلی فہرست میں 8امیدواروں میں 7مسلمان ہیں جبکہ آئندہ فہرستیں آنی باقی ہیں۔ظاہرسی بات ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مسلم ووٹ تقسیم ہوں گے اوراس سے بی جے پی کوہی فائدہ ہوگا۔
اس بار کے اسمبلی انتخابات میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ لنچنگ کے اثرات پڑیں گے۔ اس کا اندازہ اسی برس 17اسمبلی سیجمینٹس میں ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج کے دوران اکثریت سے عوام کے مینڈیٹ سے ہوتاہے۔دراصل یہ ضمنی انتخابات 8-8اسمبلی سیجمینٹس پرمشتمل دولوک سبھا سیٹوں الور اوراجمیر کے علاوہ منڈل گڑھ اسمبلی حلقہ میں ہوئے تھے۔عیاں رہے کہ یہ 17اسمبلی سیجمینٹس کل 200اسمبلی سیٹوں کے 8.5فیصد سیٹوں کو کورکرتے ہیں۔الور ریاست ہریانہ سے سٹا ہواہے جبکہ اجمیر سینٹرل راجستھا ن میں ہے اورمنڈل گڑھ ریاست مدھیہ پردیش کی سرحد سے قریب ہے۔اس لئے یہ نتیجہ نکالا جاسکتاہے کہ ووٹرس کا یہ موڈ بڑی حد تک ریاستی سطح کی نمائندگی کرتاہے اورووٹ کا بی جے پی مخالف یا کانگریس حامی یہ رجحان چند علاقوں تک ہی محدود نہیں ہے۔

 

 

 

 

اس بات سے انکارنہیں کیا جاسکتاہے کہ موجودہ ریاستی حکومت کے دور میں 30مئی 2015کو عبدالغفار قریشی کی نگورضلع ،یکم اپریل 2017کو پہلوخاں کی الور، 16جون 2017کوظفر خاں کی پرتاپ گڑھ ، 10ستمبر2017کو بھگت رام میناکی سیکر اور20جولائی 2018کو الور کے لالہ ونڈی میں رکبر کی لنچنگ کے اثرات مجموعی طور پر پوری ریاست میں بلاتفریق مذہب وبرادری پڑے ہیں۔ریاست کے عوام لنچنگ کے رجحان کو ریاست کی رواداری اور تنوع والے روایتی سماج کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ ریاست میں لنچنگ کے ان معاملات میں سے بعض معاملوں میں ملزمین کے خلاف نرم رویوں نے عام لوگوں میں بھی بے چینی پیداکردی ہے۔ لنچنگ کے شکار مسلمانوں کے علاوہ دیگر کمزور طبقات بشمول دلت بھی ہوئے ہیں۔
لہٰذا کل ملاکر یہ تجزیہ سامنے آتاہے کہ گذشتہ چار اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے بالمقابل بی جے پی کے مسلم امیدواروں کے جیت فیصد زیادہ ہونے کے باوجود اس بار 2018کے اسمبلی انتخابات میں لنچنگ اور اینٹی انکمینسی فیکٹر کولیکر دیگرکمزور طبقات کے ساتھ مسلم کمیونٹی میں بھی بے چینی اوربرہمی ہے۔ لہٰذا اس کا اثر مجموعی طورپر بی جے پی پرپڑسکتاہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *