سیمانچل کا رمرائی گاؤں:پسماندگی کا بدترین نمونہ

Ramrai
کیا کوئی یہ تصورکرسکتاہے کہ جس پارلیمانی حلقہ کی نمائندگی کانگریس کے محمدطاہر ، جمیل الرحمان، ایم جے اکبر اورمولانا اسرارلحق قاسمی، بی جے پی سید شاہنواز حسین، معروف مسلم لیڈر سید شہاب الدین اورسیمانچل گاندھی کے نام سے مشہور تسلیم الدین جیسی مشہورشخصیات مختلف ادوار میں کرتی رہی ہیں، وہاں ملک کے پسماندہ ترین گاؤں موجود ہیں اور وہ اپنے اپنے مقامی شہروں سے کٹے ہوئے ہیں، ان کومختلف مقامات سے جوڑنے کیلئے پل تک نہیں، ناخواندگی کا راج ہے، بچوں کی تعلیم کا کوئی معقول نظم نہیں ہے، علاج کیلئے کوئی مناسب ہاسپیٹل نہیں ہے،رسوئی کیلئے آج بھی درخت کے پتے اورلکڑیاں ایندھن کے طورپر استعمال کرنے پرلوگ مجبور ہیں اورگیس کے چولہوں اورسلنڈروں کی توبہت سے لوگوں نے شکل بھی نہیں دیکھی ہے۔نیز پی ایم مودی کے سوچھتا ابھیان کی یہاں آہٹ بھی نہیں ہے اورایک بھی بیت الخلاء یہاں نہیں پایاجاتاہے۔
جی ہاں، یہ پارلیمانی حلقہ کوئی اورنہیں بلکہ کشن گنج ؍ارریہ ہے۔ اس میں بعض علاقے ایسے ہیں جہاں بجلی کی روشنی 3-4برس قبل ہی پہنچ پائی ہے۔اس پارلیمانی حلقہ میں رہے کچھ ایسے گاؤں ہیں جوکہ 2009تک اس وقت بھی ملک کے پسماندہ ترین گاؤں میں شمار ہوتے رہے جبکہ یہ کشن گنج میں تھے اورجب یہ ارریہ میں آگئے تب بھی ان کی قسمت نہیں بدلی ہے۔یہ گاؤں صرف پارلیمانی ہی نہیں بلکہ اسمبلی نمائندگی کے ذریعے بھی نظرانداز کئے جاتے رہے ہیں۔
یہ پسماندہ گاؤں جس علاقے میں پڑتے ہیں وہاں کشن گنج میں 14نومبر 1966کو ایک زبردست تعلیمی تحریک کے نتیجے میں شکشانگر اورانسان اسکول کا قیام عمل میں آیاتھا۔وہی انسان اسکول جسے امریکہ سے اعلیٰ تعلیم سند یافتہ پدم شری ڈاکٹر سید حسن جوکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے فارغ ہوئے اوروہاں کے شیخ الجامعہ اوربعدمیں صدر جمہوریہ بنے ڈاکٹر ذاکر حسین کے تربیت یافتہ شادگرد رہے، نے قائم کیاتھا۔ڈاکٹر سیدحسن مرحوم کا کشن گنج کو انسان اسکول اورشکشانگر کیلئے منتخب کرنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ اس خطہ میں علم کی شمع روشن کرکے خواندگی بڑھائی جائے اور تعلیم کو فروغ دیاجائے تاکہ مجموعی طورپر خطے کی پسماندگی دورہو۔
رمرائی گاؤں کی دیگرگوں حالت
مگربہت افسوس کی بات ہے کہ ان سب کوششوں کے باوجود اس خطے کے چند گاؤں ابھی بھی ایسے ہیں جوکہ ملک بھرمیں بدنصیب گاؤں کہے جاسکتے ہیں اور انہی گاؤں میں ایک گاؤں رمرائی ہے جوکہ ارریہ شہر اورجوکی ہاٹ کے درمیان میں ہے۔اس کی آبادی تقریباً ایک ہزارگھروں پرمشتمل ہے جن میں سبھی مسلمان ہیں۔ یہ تارن پنچایت میں آتاہے۔اس پنچایت کے تحت تارن ، مجھوا، قامت اورست بیٹہ گاؤ ں بھی ہیں۔رمرائی گاؤں کے تین طرف بکرا ندی ہے اورایک طرف تارن گاؤں ہے مگررمرائی سے تارن جانے کیلئے با ضابطہ کوئی سڑک نہیں ہے، کھیت ہوکر آنا جانا ہوتاہے۔تین طرف سے بکرا ندی اوررمرائی کے بیچ کسی پل کے نہیں رہنے اورایک طرف سے سڑک کی عدم موجودگی سے گاؤں میں گاڑیوں کا آنا جانا نہیں ہے۔کبھی کسی خاص موقع پر کھیت ہوکرکسی گاڑی کی شکل دکھائی پڑتی ہے تولگتاہے کہ کوئی عجوبہ ہوگیاہے۔
لہٰذا 6ماہ بانس سے بنا چچری کا پل ہی آمدورفت کا واحدسہاراہوتاہے جبکہ برسات اورسیلاب میں کشتی پرانحصار کرنا پڑتاہے۔چچری کاپل ہویاکشتی ، ان سب کا انتظام گاؤں والوں کوخودکرنا پڑتاہے۔ اس معاملہ میں نہ مکھیا کام آتاہے اورنہ ہی ایم ایل اے اورایم پی۔لگتاہے کہ ان کے فلاحی کاموں کے لئے ملے فنڈ اس مطلب کے ہیں ہی نہیں خواہ وہ واپس کیوں نہ چلے جائیں۔
ظاہرسی بات ہے کہ ان سب کا اثراس گاؤں کی آبادی پرمجموعی طورپر پڑتاہے۔ یہاں 90فیصد ناخواندگی ہے، پرائمری تعلیم ایک سرکاری اسکول کے ذریعے ملتی بھی ہے تواس کا جاری رہنا مشکل ہوجاتاہے کیونکہ برسات اورسیلاب کے دنوں میں وہاں اساتذہ نہیں آپاتے ہیں اورقریب کے شہرارریہ جانے کا کوئی باضابطہ نظم ہی نہیں ہے۔اس لئے بڑی تعداد میں بچے اوربچیاں ڈراپ آؤٹ کرجاتے ہیں۔اسپتال نہیں رہنے کے سبب کسی کا اچانک بیمار پڑجانا پورے گاؤں کوہلا دیتاہے۔ جس سوچھتاا بھیان کا پورے ملک میں ڈھول پیٹا جارہاہے، ا سکی کوئی آوازیہاں نہیں سنائی پڑتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہاں اس ابھیان کے تحت ایک بھی بیت الخلاء موجودنہیں ہے۔ خواتین کو کھلے میں رفع حاجت کرنے میں کتنی پریشانی ہوتی ہے، اس کے بارے میں لکھا بھی نہیں جاسکتا۔
ان عدم سہولیات کا ایک اثریہ پڑتاہے کہ دوسرے گاؤں کے لوگ یہاں اپنے بچوں خصوصاً بچیوں کا رشتہ کرنے سے منع کردیتے ہیں۔ اس طرح شادی بیاہ بھی یہاں ایک بڑا مسئلہ بنا ہواہے۔ کیونکہ بارات کا آنا جانا محال ہوتاہے۔ جب کشتی کے ذریعے دولہادولہن کوندی پاکر ایا جاتاہے تووہ بھی ایک الگ ہی منظر ہوتاہے۔
عجب بات تویہ ہے کہ تین چار برس پہلے تک یہاں بجلی نہیں پہنچی تھی اوراب بھی بجلی گاؤں کے سبھی گھروں میں نہیں ہے۔ پینے کے پانی کا بھی انتظام نہیں ہے کیونکہ ٹیوب ویل سے جوپانی ملتاہے وہ آئرن کی زیادہ مقدار ہونے کے سبب کھاڑہ ہوتاہے۔ وہ نہ پیاجاسکتاہے اورنہ ہی اس سے کھانا پکایاجاسکتاہے اورنہ ہی کپڑا صاف کیا جاسکتاہے۔مگران سب کے باوجودگاؤں والے کھاڑے پانی کا استعمال کرنے پرمجبور ہیں کیونکہ اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔رمرائی ، مجھوا، بھنگیا، فراصت، تارن ، ست بیٹہ، رہریا فرساڈانگی کے علاوہ علاقے کے دیگرگاؤں کابھی یہی حال ہے۔مذکورہ تمام پریشانیوں سے قرب وجوارکے باشندوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔تمام گاؤں سیلاب کی زد میں ہوتاہے۔یہاں ہرسال سیلاب کی تباہی سے فصلیں برباد ہوجاتی ہیں۔
رمرائی گاؤں کے باشندگان قرب وجوار کے گاؤں کے لوگوں کو اعتماد میں لیکر سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ کوئی تحریک چلاکر اس پورے پسماندہ علاقہ کوامپاور کرنے کیلئے ماحول بنایاجائے اور پنچایت ، اسمبلی اورپارلیمنٹ کے انتخابات میں کھڑے ہونے والے امیدواروں کے سامنے یہ مسائل رکھے جائیں اوران کی طرف سے عدم دلچسپی برقراررہنے پرانتخابات کا ہی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیاجائے۔
قابل ذکرہے کہ یہاں فی الحال مکھیامحمدمعراج عالم، ضلع پارشد گلشن آراء(جے ڈی یو)، رکن اسمبلی (جوکی ہاٹ) شاہنوازعالم(آرجے ڈی) اوررکن پارلیمنٹ (ارریہ) سرفراز عالم ابن سیمانچل گاندھی تسلیم الدین (آرجے ڈی)ہیں۔لہٰذا آئندہ انتخابات کے فوکس یہی ہوں گے ۔ اس علاقے کے باشندوں کا اس خطہ کی ترقی ہی واحد مطالبہ ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *